احادیث
#3612
سنن ابی داؤد - The Office of the Judge
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے ( صورت حال ) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے ( تلوار کے علاوہ ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عمار بن شعيب بن عبد الله بن الزبيب العنبري، حدثني ابي قال، سمعت جدي الزبيب، يقول بعث نبي الله صلى الله عليه وسلم جيشا الى بني العنبر فاخذوهم بركبة من ناحية الطايف فاستاقوهم الى نبي الله صلى الله عليه وسلم فركبت فسبقتهم الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت السلام عليك يا نبي الله ورحمة الله وبركاته اتانا جندك فاخذونا وقد كنا اسلمنا وخضرمنا اذان النعم فلما قدم بلعنبر قال لي نبي الله صلى الله عليه وسلم " هل لكم بينة على انكم اسلمتم قبل ان توخذوا في هذه الايام " . قلت نعم . قال " من بينتك " . قلت سمرة رجل من بني العنبر ورجل اخر سماه له فشهد الرجل وابى سمرة ان يشهد فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " قد ابى ان يشهد لك فتحلف مع شاهدك الاخر " . قلت نعم . فاستحلفني فحلفت بالله لقد اسلمنا يوم كذا وكذا وخضرمنا اذان النعم . فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " اذهبوا فقاسموهم انصاف الاموال ولا تمسوا ذراريهم لولا ان الله لا يحب ضلالة العمل ما رزيناكم عقالا " . قال الزبيب فدعتني امي فقالت هذا الرجل اخذ زربيتي فانصرفت الى النبي صلى الله عليه وسلم - يعني فاخبرته - فقال لي " احبسه " . فاخذت بتلبيبه وقمت معه مكاننا ثم نظر الينا نبي الله صلى الله عليه وسلم قايمين فقال " ما تريد باسيرك " . فارسلته من يدي فقام نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال للرجل " رد على هذا زربية امه التي اخذت منها " . فقال يا نبي الله انها خرجت من يدي . قال فاختلع نبي الله صلى الله عليه وسلم سيف الرجل فاعطانيه . وقال للرجل " اذهب فزده اصعا من طعام " . قال فزادني اصعا من شعير
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Office of the Judge
- Hadith Index
- #3612
- Book Index
- 42
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
