Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما نزلت هذه الاية { فان جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم } { وان حكمت فاحكم بينهم بالقسط } الاية قال كان بنو النضير اذا قتلوا من بني قريظة ادوا نصف الدية واذا قتل بنو قريظة من بني النضير ادوا اليهم الدية كاملة فسوى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، عن شعبة، عن ابي عون، عن الحارث بن عمرو بن اخي المغيرة بن شعبة، عن اناس، من اهل حمص من اصحاب معاذ بن جبل ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما اراد ان يبعث معاذا الى اليمن قال " كيف تقضي اذا عرض لك قضاء " . قال اقضي بكتاب الله . قال " فان لم تجد في كتاب الله " . قال فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " فان لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا في كتاب الله " . قال اجتهد رايي ولا الو . فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدره وقال " الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا۔ ۔ ۔، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني ابو عون، عن الحارث بن عمرو، عن ناس، من اصحاب معاذ عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعثه الى اليمن فذكر معناه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے ۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے ۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني سليمان بن بلال، ح وحدثنا احمد بن عبد الواحد الدمشقي، حدثنا مروان، - يعني ابن محمد - حدثنا سليمان بن بلال، او عبد العزيز بن محمد - شك الشيخ - عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلح جايز بين المسلمين " . زاد احمد " الا صلحا احل حراما او حرم حلالا " . وزاد سليمان بن داود وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلمون على شروطهم
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابن حدرد ) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الله بن كعب بن مالك، ان كعب بن مالك، اخبره انه، تقاضى ابن ابي حدرد دينا كان له عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فارتفعت اصواتهما حتى سمعهما رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته فخرج اليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كشف سجف حجرته ونادى كعب بن مالك فقال " يا كعب " . فقال لبيك يا رسول الله . فاشار له بيده ان ضع الشطر من دينك قال كعب قد فعلت يا رسول الله . قال النبي صلى الله عليه وسلم " قم فاقضه
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ۱؎ ۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، واحمد بن السرح، قالا اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر، ان اباه، اخبره ان عبد الله بن عمرو بن عثمان بن عفان اخبره ان عبد الرحمن بن ابي عمرة الانصاري اخبره ان زيد بن خالد الجهني اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بخير الشهداء الذي ياتي بشهادته او يخبر بشهادته قبل ان يسالها " . شك عبد الله بن ابي بكر ايتهما قال . قال ابو داود قال مالك الذي يخبر بشهادته ولا يعلم بها الذي هي له . قال الهمداني ويرفعها الى السلطان . قال ابن السرح او ياتي بها الامام . والاخبار في حديث الهمداني . قال ابن السرح ابن ابي عمرة . لم يقل عبد الرحمن
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عمارة بن غزية، عن يحيى بن راشد، قال جلسنا لعبد الله بن عمر فخرج الينا فجلس فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه ومن قال في مومن ما ليس فيه اسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہو گا ۔
حدثنا علي بن الحسين بن ابراهيم، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد العمري، حدثني المثنى بن يزيد، عن مطر الوراق، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " ومن اعان على خصومة بظلم فقد باء بغضب من الله عز وجل
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا محمد بن عبيد، حدثني سفيان، - يعني العصفري - عن ابيه، عن حبيب بن النعمان الاسدي، عن خريم بن فاتك، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قايما فقال " عدلت شهادة الزور بالاشراك بالله " . ثلاث مرار ثم قرا { فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به}
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں ( مالکوں ) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا محمد بن راشد، حدثنا سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رد شهادة الخاين والخاينة وذي الغمر على اخيه ورد شهادة القانع لاهل البيت واجازها لغيرهم . قال ابو داود الغمر الحنة والشحناء والقانع الاجير التابع مثل الاجير الخاص
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔
حدثنا محمد بن خلف بن طارق الرازي، حدثنا زيد بن يحيى بن عبيد الخزاعي، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى، باسناده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجوز شهادة خاين ولا خاينة ولا زان ولا زانية ولا ذي غمر على اخيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، ونافع بن يزيد، عن ابن الهاد، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ ( عقبہ ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں ( میاں، بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۱؎، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، حدثني عقبة بن الحارث، وحدثنيه صاحب، لي عنه - وانا لحديث، صاحبي احفظ - قال تزوجت ام يحيى بنت ابي اهاب فدخلت علينا امراة سوداء فزعمت انها ارضعتنا جميعا فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فاعرض عني فقلت يا رسول الله انها لكاذبة . قال " وما يدريك وقد قالت ما قالت دعها عنك
اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا الحارث بن عمير البصري، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، كلاهما عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عبيد بن ابي مريم، عن عقبة بن الحارث، - وقد سمعته من، عقبة ولكني لحديث عبيد احفظ - فذكر معناه . قال ابو داود نظر حماد بن زيد الى الحارث بن عمير فقال هذا من ثقات اصحاب ايوب
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں ( اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا ) ۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، اخبرنا زكريا، عن الشعبي، ان رجلا، من المسلمين حضرته الوفاة بدقوقاء هذه ولم يجد احدا من المسلمين يشهده على وصيته فاشهد رجلين من اهل الكتاب فقدما الكوفة فاتيا ابا موسى الاشعري فاخبراه وقدما بتركته ووصيته . فقال الاشعري هذا امر لم يكن بعد الذي كان في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فاحلفهما بعد العصر بالله ما خانا ولا كذبا ولا بدلا ولا كتما ولا غيرا وانها لوصية الرجل وتركته فامضى شهادتهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: ( ۱۰۶ ) انہی کی شان میں اتری ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن ابي زايدة، عن محمد بن ابي القاسم، عن عبد الملك بن سعيد بن جبير، عن ابيه، عن ابن عباس، قال خرج رجل من بني سهم مع تميم الداري وعدي بن بداء فمات السهمي بارض ليس بها مسلم فلما قدما بتركته فقدوا جام فضة مخوصا بالذهب فاحلفهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وجد الجام بمكة فقالوا اشتريناه من تميم وعدي فقام رجلان من اولياء السهمي فحلفا لشهادتنا احق من شهادتهما وان الجام لصاحبهم . قال فنزلت فيهم { يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم اذا حضر احدكم الموت } الاية
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ان الحكم بن نافع، حدثهم اخبرنا شعيب، عن الزهري، عن عمارة بن خزيمة، ان عمه، حدثه وهو، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم ابتاع فرسا من اعرابي فاستتبعه النبي صلى الله عليه وسلم ليقضيه ثمن فرسه فاسرع رسول الله صلى الله عليه وسلم المشى وابطا الاعرابي فطفق رجال يعترضون الاعرابي فيساومونه بالفرس ولا يشعرون ان النبي صلى الله عليه وسلم ابتاعه فنادى الاعرابي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان كنت مبتاعا هذا الفرس والا بعته . فقام النبي صلى الله عليه وسلم حين سمع نداء الاعرابي فقال " اوليس قد ابتعته منك " . فقال الاعرابي لا والله ما بعتكه . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بلى قد ابتعته منك " . فطفق الاعرابي يقول هلم شهيدا . فقال خزيمة بن ثابت انا اشهد انك قد بايعته . فاقبل النبي صلى الله عليه وسلم على خزيمة فقال " بم تشهد " . فقال بتصديقك يا رسول الله . فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادة خزيمة بشهادة رجلين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، والحسن بن علي، ان زيد بن الحباب، حدثهم حدثنا سيف المكي، - قال عثمان سيف بن سليمان - عن قيس بن سعد، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بيمين وشاهد
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا ( نہ کہ حدود میں ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى، وسلمة بن شبيب، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، باسناده ومعناه . قال سلمة في حديثه قال عمرو في الحقوق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن ابي بكر ابو مصعب الزهري، حدثنا الدراوردي، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد . قال ابو داود وزادني الربيع بن سليمان الموذن في هذا الحديث قال اخبرني الشافعي عن عبد العزيز قال فذكرت ذلك لسهيل فقال اخبرني ربيعة - وهو عندي ثقة - اني حدثته اياه ولا احفظه . قال عبد العزيز وقد كان اصابت سهيلا علة اذهبت بعض عقله ونسي بعض حديثه فكان سهيل بعد يحدثه عن ربيعة عنه عن ابيه