Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا فضيل بن سليمان، حدثنا عمرو بن ابي عمرو، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ولي القضاء فقد ذبح بغير سكين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا بشر بن عمر، عن عبد الله بن جعفر، عن عثمان بن محمد الاخنسي، عن المقبري، والاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
حدثنا محمد بن حسان السمتي، حدثنا خلف بن خليفة، عن ابي هاشم، عن ابن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " القضاة ثلاثة واحد في الجنة واثنان في النار فاما الذي في الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار " . قال ابو داود وهذا اصح شىء فيه يعني حديث ابن بريدة " القضاة ثلاثة
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - اخبرني يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن بسر بن سعيد، عن ابي قيس، مولى عمرو بن العاص عن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله اجران واذا حكم فاجتهد فاخطا فله اجر " . فحدثت به ابا بكر بن حزم فقال هكذا حدثني ابو سلمة عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا ملازم بن عمرو، حدثني موسى بن نجدة، عن جده، يزيد بن عبد الرحمن - وهو ابو كثير - قال حدثني ابو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من طلب قضاء المسلمين حتى يناله ثم غلب عدله جوره فله الجنة ومن غلب جوره عدله فله النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: ( ۴۴، ۴۵، ۴۷ ) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة بن ابي يحيى الرملي، حدثنا زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال { ومن لم يحكم بما انزل الله فاوليك هم الكافرون } الى قوله { الفاسقون } هولاء الايات الثلاث نزلت في اليهود خاصة في قريظة والنضير
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر ( عہد نبوی میں ) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، ومحمد بن المثنى، قالا اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن رجاء الانصاري، عن عبد الرحمن بن بشر الانصاري الازرق، قال دخل رجلان من ابواب كندة وابو مسعود الانصاري جالس في حلقة فقالا الا رجل ينفذ بيننا فقال رجل من الحلقة انا . فاخذ ابو مسعود كفا من حصى فرماه به وقال مه انه كان يكره التسرع الى الحكم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس ( عہدے ) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا عبد الاعلى، عن بلال، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من طلب القضاء واستعان عليه وكل اليه ومن لم يطلبه ولم يستعن عليه انزل الله ملكا يسدده " . وقال وكيع عن اسراييل عن عبد الاعلى عن بلال بن ابي موسى عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقال ابو عوانة عن عبد الاعلى عن بلال بن مرداس الفزاري عن خيثمة البصري عن انس
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا حميد بن هلال، حدثني ابو بردة، قال قال ابو موسى قال النبي صلى الله عليه وسلم " لن نستعمل - او لا نستعمل - على عملنا من اراده
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان ( محاصل ) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو ( محاصل ) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثني قيس، قال حدثني عدي بن عميرة الكندي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا ايها الناس من عمل منكم لنا على عمل فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غل ياتي به يوم القيامة " . فقام رجل من الانصار اسود كاني انظر اليه فقال يا رسول الله اقبل عني عملك . قال " وما ذاك " . قال سمعتك تقول كذا وكذا . قال " وانا اقول ذلك من استعملناه على عمل فليات بقليله وكثيره فما اوتي منه اخذه وما نهي عنه انتهى
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی ) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء ( فیصلہ کرنے ) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
حدثنا عمرو بن عون، قال اخبرنا شريك، عن سماك، عن حنش، عن علي، عليه السلام قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن قاضيا فقلت يا رسول الله ترسلني وانا حديث السن ولا علم لي بالقضاء فقال " ان الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك فاذا جلس بين يديك الخصمان فلا تقضين حتى تسمع من الاخر كما سمعت من الاول فانه احرى ان يتبين لك القضاء " . قال فما زلت قاضيا او ما شككت في قضاء بعد
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی ہوں ۱؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما انا بشر وانكم تختصمون الى ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض فاقضي له على نحو ما اسمع منه فمن قضيت له من حق اخيه بشىء فلا ياخذ منه شييا فانما اقطع له قطعة من النار
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ۔ ۔ ( پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی ) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر ( مال ) کو تقسیم کر لو، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو ۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا ابن المبارك، عن اسامة بن زيد، عن عبد الله بن رافع، مولى ام سلمة عن ام سلمة، قالت اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان يختصمان في مواريث لهما لم تكن لهما بينة الا دعواهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم فذكر مثله فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما حقي لك . فقال لهما النبي صلى الله عليه وسلم " اما اذ فعلتما ما فعلتما فاقتسما وتوخيا الحق . ثم استهما ثم تحالا
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا اسامة، عن عبد الله بن رافع، قال سمعت ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث قال يختصمان في مواريث واشياء قد درست فقال " اني انما اقضي بينكم برايي فيما لم ينزل على فيه
ابن شہاب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: لوگو! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، ان عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال وهو على المنبر يا ايها الناس ان الراى انما كان من رسول الله صلى الله عليه وسلم مصيبا لان الله كان يريه وانما هو منا الظن والتكلف
معاذ بن معاذ کہتے ہیں ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے ( یعنی حریز بن عثمان سے ) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، اخبرنا معاذ بن معاذ، قال اخبرني ابو عثمان الشامي، ولا اخالني رايت شاميا افضل منه يعني حريز بن عثمان
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن الزبير، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الخصمين يقعدان بين يدى الحكم
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، حدثنا عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، انه كتب الى ابنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقضي الحكم بين اثنين وهو غضبان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) منسوخ ہے، اور اب یہ ارشاد ہے «فاحكم بينهم بما أنزل الله» تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے ( سورۃ المائدہ: ۴۸ ) ۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { فان جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم } فنسخت قال { فاحكم بينهم بما انزل الله}