Loading...

Loading...
کتب
۷۰ احادیث
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔
حدثنا محمد بن قدامة، ومومل بن هشام، - قال ابن قدامة - حدثني اسماعيل، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، - قال ابن قدامة - ان اخاه او عمه وقال مومل - انه قام الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال جيراني بما اخذوا . فاعرض عنه مرتين ثم ذكر شييا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خلوا له عن جيرانه " . لم يذكر مومل وهو يخطب
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا ۱؎ ۔
حدثنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، حدثنا عمي، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن ابي نعيم، وهب بن كيسان عن جابر بن عبد الله، انه سمعه يحدث، قال اردت الخروج الى خيبر فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه وقلت له اني اردت الخروج الى خيبر . فقال " اذا اتيت وكيلي فخذ منه خمسة عشر وسقا فان ابتغى منك اية فضع يدك على ترقوته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ۱؎ ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا المثنى بن سعيد، حدثنا قتادة، عن بشير بن كعب العدوي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا تداراتم في طريق فاجعلوه سبعة اذرع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا ( یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔
حدثنا مسدد، وابن ابي خلف، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استاذن احدكم اخاه ان يغرز خشبة في جداره فلا يمنعه " . فنكسوا فقال ما لي اراكم قد اعرضتم لالقينها بين اكتافكم . قال ابو داود وهذا حديث ابن ابي خلف وهو اتم
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن لولوة، عن ابي صرمة، - قال ابو داود قال غير قتيبة في هذا الحديث عن ابي صرمة صاحب النبي صلى الله عليه وسلم - عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من ضار اضر الله به ومن شاق شاق الله عليه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کر دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کر لیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «مضار» یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا حماد، حدثنا واصل، مولى ابي عيينة قال سمعت ابا جعفر، محمد بن علي يحدث عن سمرة بن جندب، انه كانت له عضد من نخل في حايط رجل من الانصار قال ومع الرجل اهله قال فكان سمرة يدخل الى نخله فيتاذى به ويشق عليه فطلب اليه ان يبيعه فابى فطلب اليه ان يناقله فابى فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فطلب اليه النبي صلى الله عليه وسلم ان يبيعه فابى فطلب اليه ان يناقله فابى . قال " فهبه له ولك كذا وكذا " . امرا رغبه فيه فابى فقال " انت مضار " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للانصاري " اذهب فاقلع نخله
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرۃ کی نالیوں کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو یہ سن کر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں یہ آیت «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك» قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں ( سورة النساء: ۶۵ ) اسی بابت اتری ہے
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث، عن الزهري، عن عروة، ان عبد الله بن الزبير، حدثه ان رجلا خاصم الزبير في شراج الحرة التي يسقون بها فقال الانصاري سرح الماء يمر . فابى عليه الزبير فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير " اسق يا زبير ثم ارسل الى جارك " . فغضب الانصاري فقال يا رسول الله ان كان ابن عمتك فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " اسق ثم احبس الماء حتى يرجع الى الجدر " . فقال الزبير فوالله اني لاحسب هذه الاية نزلت في ذلك { فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك } الاية
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی کہتے ہیں انہوں نے اپنے بزرگوں سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ قریش کے ایک آدمی نے جو بنو قریظہ کے ساتھ ( پانی میں ) شریک تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہزور کے نالے کے متعلق جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی سب تقسیم کر لیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جب تک پانی ٹخنوں تک نہ پہنچ جائے اوپر والا نیچے والے کے لیے نہ روکے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن الوليد، - يعني ابن كثير - عن ابي مالك بن ثعلبة، عن ابيه، ثعلبة بن ابي مالك انه سمع كبراءهم، يذكرون ان رجلا، من قريش كان له سهم في بني قريظة فخاصم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم في مهزور - يعني السيل الذي يقتسمون ماءه - فقضى بينهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الماء الى الكعبين لا يحبس الاعلى على الاسفل
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ ٹخنے کے برابر نہ پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کے لیے چھوڑ دے۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، حدثني ابي عبد الرحمن بن الحارث، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في السيل المهزور ان يمسك حتى يبلغ الكعبين ثم يرسل الاعلى على الاسفل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔
حدثنا محمود بن خالد، ان محمد بن عثمان، حدثهم حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابي طوالة، وعمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال اختصم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان في حريم نخلة - في حديث احدهما فامر بها فذرعت فوجدت سبعة اذرع وفي حديث الاخر - فوجدت خمسة اذرع فقضى بذاك . قال عبد العزيز فامر بجريدة من جريدها فذرعت