Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“ ۱؎، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: ان سے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، سچ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں“، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ (سورۃ الإسراء: ۱۵) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، وابي، معاوية - المعنى - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الميت ليعذب ببكاء اهله عليه " . فذكر ذلك لعايشة فقالت وهل - تعني ابن عمر - انما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال " ان صاحب هذا ليعذب واهله يبكون عليه " . ثم قرات { ولا تزر وازرة وزر اخرى } قال عن ابي معاوية على قبر يهودي
یزید بن اوس کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہو گئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول: کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو ( میت کے غم میں ) اپنا سر منڈوائے، جو چلا کر روئے پیٹے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن يزيد بن اوس، قال دخلت على ابي موسى وهو ثقيل فذهبت امراته لتبكي او تهم به فقال لها ابو موسى اما سمعت ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت بلى . قال فسكتت فلما مات ابو موسى - قال يزيد - لقيت المراة فقلت لها ما قول ابي موسى لك اما سمعت ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سكت قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من حلق ومن سلق ومن خرق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت کہتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم ( کسی کے مرنے پر ) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حميد بن الاسود، حدثنا الحجاج، - عامل لعمر بن عبد العزيز على الربذة حدثني اسيد بن ابي اسيد، عن امراة، من المبايعات قالت كان فيما اخذ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في المعروف الذي اخذ علينا ان لا نعصيه فيه ان لا نخمش وجها ولا ندعو ويلا ولا نشق جيبا وان لا ننشر شعرا
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر ( حادثہ و سانحہ ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، حدثني جعفر بن خالد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصنعوا لال جعفر طعاما فانه قد اتاهم امر شغلهم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مر گیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا، اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا معن بن عيسى، ح وحدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن ابراهيم بن طهمان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال رمي رجل بسهم في صدره او في حلقه فمات فادرج في ثيابه كما هو - قال - ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین ( شہداء ) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔
حدثنا زياد بن ايوب، وعيسى بن يونس، قالا حدثنا علي بن عاصم، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتلى احد ان ينزع عنهم الحديد والجلود وان يدفنوا بدمايهم وثيابهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، ح وحدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، - وهذا لفظه - اخبرني اسامة بن زيد الليثي، ان ابن شهاب، اخبره ان انس بن مالك حدثهم ان شهداء احد لم يغسلوا ودفنوا بدمايهم ولم يصل عليهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ احد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ ( حمزہ بن عبدالمطلب ) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، ( حال یہ تھا ) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۱؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا زيد، - يعني ابن الحباب - ح وحدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو صفوان، - يعني المرواني - عن اسامة، عن الزهري، عن انس بن مالك، - المعنى - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على حمزة وقد مثل به فقال " لولا ان تجد صفية في نفسها لتركته حتى تاكله العافية حتى يحشر من بطونها " . وقلت الثياب وكثرت القتلى فكان الرجل والرجلان والثلاثة يكفنون في الثوب الواحد - زاد قتيبة - ثم يدفنون في قبر واحد فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال " ايهم اكثرهم قرانا " . فيقدمه الى القبلة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا اسامة، عن الزهري، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر بحمزة وقد مثل به ولم يصل على احد من الشهداء غيره
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں ( لٹانے میں ) آگے کرتے اور فرماتے: میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب، ان الليث، حدثهم عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان جابر بن عبد الله، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد ويقول " ايهما اكثر اخذا للقران " . فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة " . وامر بدفنهم بدمايهم ولم يغسلوا
اس سند سے بھی لیث سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں دفن کرتے تھے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، عن الليث، بهذا الحديث بمعناه قال يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ران کو مت کھولو اور کسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو ۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرت عن حبيب بن ابي ثابت، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تبرز فخذك ولا تنظرن الى فخذ حى ولا ميت
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، ( یہ سن کر ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني يحيى بن عباد، عن ابيه، عباد بن عبد الله بن الزبير قال سمعت عايشة، تقول لما ارادوا غسل النبي صلى الله عليه وسلم قالوا والله ما ندري انجرد رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثيابه كما نجرد موتانا ام نغسله وعليه ثيابه فلما اختلفوا القى الله عليهم النوم حتى ما منهم رجل الا وذقنه في صدره ثم كلمهم مكلم من ناحية البيت لا يدرون من هو ان اغسلوا النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثيابه فقاموا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فغسلوه وعليه قميصه يصبون الماء فوق القميص ويدلكونه بالقميص دون ايديهم وكانت عايشة تقول لو استقبلت من امري ما استدبرت ما غسله الا نساوه
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا لینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، - المعنى - عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية، قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفيت ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك - ان رايتن ذلك - بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فاعطانا حقوه فقال " اشعرنها اياه " . قال عن مالك يعني ازاره ولم يقل مسدد دخل علينا
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کر دیں۔
حدثنا احمد بن عبدة، وابو كامل - بمعنى الاسناد - ان يزيد بن زريع، حدثهم حدثنا ايوب، عن محمد بن سيرين، عن حفصة، اخته عن ام عطية، قالت مشطناها ثلاثة قرون
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، قالت وضفرنا راسها ثلاثة قرون ثم القيناها خلفها مقدم راسها وقرنيها
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے اپنی بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کے غسل کے متعلق فرمایا: ان کی داہنی جانب سے اور وضو کے مقامات سے غسل کی ابتداء کرنا ۔
حدثنا ابو كامل، وحدثنا اسماعيل، حدثنا خالد، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهن في غسل ابنته " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء منها
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں جسے انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اسی طرح کا اضافہ ہے اور اس میں انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے: یا سات بار غسل دینا، یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت سمجھنا ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية، بمعنى حديث مالك زاد في حديث حفصة عن ام عطية بنحو هذا وزادت فيه " او سبعا او اكثر من ذلك ان رايتنه
قتادہ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھا تھا، وہ دوبار بیری کے پانی سے غسل دیتے اور تیسری بار کافور ملے ہوئے پانی سے۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن محمد بن سيرين، انه كان ياخذ الغسل عن ام عطية، يغسل بالسدر مرتين والثالثة بالماء والكافور
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا، انہیں ناقص کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ڈانٹا کہ رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن ابي الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه خطب يوما فذكر رجلا من اصحابه قبض فكفن في كفن غير طايل وقبر ليلا فزجر النبي صلى الله عليه وسلم ان يقبر الرجل بالليل حتى يصلى عليه الا ان يضطر انسان الى ذلك وقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا كفن احدكم اخاه فليحسن كفنه