Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹے گئے، پھر وہ چادر نکال لی گئی ( اور سفید چادر رکھی گئی ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا الزهري، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت ادرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثوب حبرة ثم اخر عنه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت ( مالدار ) ہوں تو وہ اسے یمنی کپڑے ( یعنی اچھے کپڑے میں ) دفنائیں ۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن عبد الكريم - حدثني ابراهيم بن عقيل بن معقل، عن ابيه، عن وهب، - يعني ابن منبه - عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا توفي احدكم فوجد شييا فليكفن في ثوب حبرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں دفنائے گئے، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، قال اخبرني ابي، اخبرتني عايشة، قالت كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب يمانية بيض ليس فيها قميص ولا عمامة
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے ہم مثل مروی ہے البتہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ کپڑے روئی کے تھے۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حفص، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، مثله زاد من كرسف . قال فذكر لعايشة قولهم في ثوبين وبرد حبرة فقالت قد اتي بالبرد ولكنهم ردوه ولم يكفنوه فيه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے ( چادر اور تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا ( یعنی چادر و تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا ابن ادريس، عن يزيد، - يعني ابن ابي زياد - عن مقسم، عن ابن عباس، قال كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب نجرانية الحلة ثوبان وقميصه الذي مات فيه . قال ابو داود قال عثمان في ثلاثة اثواب حلة حمراء وقميصه الذي مات فيه
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا عمرو بن هاشم ابو مالك الجنبي، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن عامر، عن علي بن ابي طالب، قال لا تغال لي في كفن فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تغالوا في الكفن فانه يسلبه سلبا سريعا
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں قتل ہو گئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر ( گھاس ) ڈال دو ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن خباب، قال ان مصعب بن عمير قتل يوم احد ولم يكن له الا نمرة كنا اذا غطينا بها راسه خرج رجلاه واذا غطينا رجليه خرج راسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غطوا بها راسه واجعلوا على رجليه شييا من الاذخر
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار دنبہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثني ابن وهب، حدثني هشام بن سعد، عن حاتم بن ابي نصر، عن عبادة بن نسى، عن ابيه، عن عبادة بن الصامت، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خير الكفن الحلة وخير الاضحية الكبش الاقرن
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی) کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۱؎۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني نوح بن حكيم الثقفي، - وكان قاريا للقران - عن رجل، من بني عروة بن مسعود يقال له داود قد ولدته ام حبيبة بنت ابي سفيان زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن ليلى بنت قانف الثقفية قالت كنت فيمن غسل ام كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند وفاتها فكان اول ما اعطانا رسول الله صلى الله عليه وسلم الحقاء ثم الدرع ثم الخمار ثم الملحفة ثم ادرجت بعد في الثوب الاخر قالت ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس عند الباب معه كفنها يناولناها ثوبا ثوبا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے ( لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے ) ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا المستمر بن الريان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطيب طيبكم المسك
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الرحيم بن مطرف الرواسي ابو سفيان، واحمد بن جناب، قالا حدثنا عيسى، - قال ابو داود هو ابن يونس - عن سعيد بن عثمان البلوي، عن عزرة، - وقال عبد الرحيم عروة بن سعيد الانصاري - عن ابيه، عن الحصين بن وحوح، ان طلحة بن البراء، مرض فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقال " اني لا ارى طلحة الا قد حدث فيه الموت فاذنوني به وعجلوا فانه لا ينبغي لجيفة مسلم ان تحبس بين ظهرانى اهله
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا زكريا، حدثنا مصعب بن شيبة، عن طلق بن حبيب العنزي، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، انها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغتسل من اربع من الجنابة ويوم الجمعة ومن الحجامة وغسل الميت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میت کو نہلائے اسے چاہیئے کہ خود بھی نہائے، جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیئے کہ وضو کر لے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني ابن ابي ذيب، عن القاسم بن عباس، عن عمرو بن عمير، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من غسل الميت فليغتسل ومن حمله فليتوضا
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے: جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اسے وضو کر لینا کافی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔
حدثنا حامد بن يحيى، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن اسحاق، مولى زايدة عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود هذا منسوخ سمعت احمد بن حنبل وسيل عن الغسل من غسل الميت فقال يجزيه الوضوء . قال ابو داود ادخل ابو صالح بينه وبين ابي هريرة في هذا الحديث - يعني اسحاق مولى زايدة - قال وحديث مصعب ضعيف فيه خصال ليس العمل عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن القاسم، عن عايشة، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل عثمان بن مظعون وهو ميت حتى رايت الدموع تسيل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کچھ لوگوں نے قبرستان میں ( رات میں ) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: تم اپنے ساتھی کو ( یعنی نعش کو ) مجھے تھماؤ ، تو دیکھا کہ ( مرنے والا ) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا ابو نعيم، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، اخبرني جابر بن عبد الله، - او سمعت جابر بن عبد الله، - قال راى ناس نارا في المقبرة فاتوها فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبر واذا هو يقول " ناولوني صاحبكم " . فاذا هو الرجل الذي كان يرفع صوته بالذكر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں غزوہ احد کے روز ہم نے مقتولین کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی مضاجع شہادت گاہوں میں دفن کرو، تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاسود بن قيس، عن نبيح، عن جابر بن عبد الله، قال كنا حملنا القتلى يوم احد لندفنهم فجاء منادي النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامركم ان تدفنوا القتلى في مضاجعهم فرددناهم
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں: نماز ( جنازہ ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد اليزني، عن مالك بن هبيرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلم يموت فيصلي عليه ثلاثة صفوف من المسلمين الا اوجب " . قال فكان مالك اذا استقل اهل الجنازة جزاهم ثلاثة صفوف للحديث
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہمیں جنازہ کے پیچھے پیچھے جانے سے روکا گیا ہے لیکن ( روکنے میں ) ہم پر سختی نہیں برتی گئی ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، قالت نهينا ان نتبع، الجنايز ولم يعزم علينا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، يرويه قال من تبع جنازة فصلى عليها فله قيراط ومن تبعها حتى يفرغ منها فله قيراطان اصغرهما مثل احد او احدهما مثل احد