Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ ۱؎ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے ( یہ سنا تو ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، وعبد الرحمن بن حسين الهروي، قالا حدثنا المقري، حدثنا حيوة، حدثني ابو صخر، - وهو حميد بن زياد - ان يزيد بن عبد الله بن قسيط، حدثه ان داود بن عامر بن سعد بن ابي وقاص حدثه عن ابيه، انه كان عند ابن عمر بن الخطاب اذ طلع خباب صاحب المقصورة فقال يا عبد الله بن عمر الا تسمع ما يقول ابو هريرة انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من خرج مع جنازة من بيتها وصلى عليها " . فذكر معنى حديث سفيان فارسل ابن عمر الى عايشة فقالت صدق ابو هريرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۱؎ ۔
حدثنا الوليد بن شجاع السكوني، حدثنا ابن وهب، اخبرني ابو صخر، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن كريب، عن ابن عباس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ما من مسلم يموت فيقوم على جنازته اربعون رجلا لا يشركون بالله شييا الا شفعوا فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ چیختے چلاتے ( روتے پیٹتے ) نہ لے جایا جائے، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عبد الصمد، ح وحدثنا ابن المثنى، حدثنا ابو داود، قالا حدثنا حرب، - يعني ابن شداد - حدثنا يحيى، حدثني باب بن عمير، حدثني رجل، من اهل المدينة عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تتبع الجنازة بصوت ولا نار " . زاد هارون " ولا يمشى بين يديها
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم جنازے کو دیکھو تو ( اس کے احترام میں ) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا ( زمین پر ) رکھ دیا جائے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عامر بن ربيعة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم او توضع
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تبعتم الجنازة فلا تجلسوا حتى توضع " . قال ابو داود روى هذا الحديث الثوري عن سهيل عن ابيه عن ابي هريرة قال فيه حتى توضع بالارض ورواه ابو معاوية عن سهيل قال حتى توضع في اللحد . قال ابو داود وسفيان احفظ من ابي معاوية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ڈرنے کی چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد، حدثنا ابو عمرو، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبيد الله بن مقسم، حدثني جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ مرت بنا جنازة فقام لها فلما ذهبنا لنحمل اذا هي جنازة يهودي فقلنا يا رسول الله انما هي جنازة يهودي . فقال " ان الموت فزع فاذا رايتم جنازة فقوموا
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازوں میں ( دیکھ کر ) کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر اس کے بعد بیٹھے رہنے لگے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ الانصاري، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن مسعود بن الحكم، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قام في الجنايز ثم قعد بعد
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ( اس کے بعد سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: ( مسلمانو! ) تم ( بھی ) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو ۔
حدثنا هشام بن بهرام المدايني، اخبرنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا ابو الاسباط الحارثي، عن عبد الله بن سليمان بن جنادة بن ابي امية، عن ابيه، عن جده، عن عبادة بن الصامت، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم في الجنازة حتى توضع في اللحد فمر به حبر من اليهود فقال هكذا نفعل . فجلس النبي صلى الله عليه وسلم وقال " اجلسوا خالفوهم
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن ثوبان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بدابة وهو مع الجنازة فابى ان يركبها فلما انصرف اتي بدابة فركب فقيل له فقال " ان الملايكة كانت تمشي فلم اكن لاركب وهم يمشون فلما ذهبوا ركبت
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھی، اور ہم موجود تھے، پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوئے، وہ اکڑ کر ٹاپ رکھنے لگا، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے ( تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ) ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن سماك، سمع جابر بن سمرة، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم على ابن الدحداح ونحن شهود ثم اتي بفرس فعقل حتى ركبه فجعل يتوقص به ونحن نسعى حوله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔
حدثنا القعنبي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر يمشون امام الجنازة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے، اور کچے بچوں ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن يونس، عن زياد بن جبير، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، - واحسب ان اهل، زياد اخبروني انه، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم - قال " الراكب يسير خلف الجنازة والماشي يمشي خلفها وامامها وعن يمينها وعن يسارها قريبا منها والسقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسرعوا بالجنازة فان تك صالحة فخير تقدمونها اليه وان تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا ( ڈرانے کے لیے ) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ( جنازے لے کر ) تیز چلا کرتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، انه كان في جنازة عثمان بن ابي العاص وكنا نمشي مشيا خفيفا فلحقنا ابو بكرة فرفع سوطه فقال لقد رايتنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نرمل رملا
اس سند سے بھی عیینہ سے یہی حدیث مروی ہے مگر اس میں خالد بن حارث اور عیسیٰ بن یوسف دونوں نے کہا ہے کہ یہ واقعہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کا ہے نیز اس میں یہ بھی ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اپنا خچر دوڑایا اور کوڑے سے ( جلدی ) چلنے کا اشارہ کیا۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، ح وحدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا عيسى، - يعني ابن يونس - عن عيينة، بهذا الحديث قالا في جنازة عبد الرحمن بن سمرة وقال فحمل عليهم بغلته واهوى بالسوط
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: «خبب» ۱؎ سے کچھ کم، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن يحيى المجبر، - قال ابو داود وهو يحيى بن عبد الله التيمي - عن ابي ماجدة، عن ابن مسعود، قال سالنا نبينا صلى الله عليه وسلم عن المشى مع الجنازة فقال " ما دون الخبب ان يكن خيرا تعجل اليه وان يكن غير ذلك فبعدا لاهل النار والجنازة متبوعة ولا تتبع ليس معها من تقدمها " . قال ابو داود وهو ضعيف هو يحيى بن عبد الله وهو يحيى الجابر . قال ابو داود وهذا كوفي وابو ماجدة بصري . قال ابو داود ابو ماجدة هذا لا يعرف
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ ، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی، تو اس کی بیوی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو، اس نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے پتا لگا؟ ، اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے خود دیکھا ہے؟ ، اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میں اس کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھوں گا ۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني جابر بن سمرة، قال مرض رجل فصيح عليه فجاء جاره الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له انه قد مات . قال " وما يدريك " . قال انا رايته . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه لم يمت " . قال فرجع فصيح عليه فجاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال انه قد مات . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه لم يمت " . فرجع فصيح عليه فقالت امراته انطلق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره . فقال الرجل اللهم العنه . قال ثم انطلق الرجل فراه قد نحر نفسه بمشقص معه فانطلق الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره انه قد مات فقال " ما يدريك " . قال رايته ينحر نفسه بمشاقص معه . قال " انت رايته " . قال نعم . قال " اذا لا اصلي عليه
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۱؎۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، حدثني نفر، من اهل البصرة عن ابي برزة الاسلمي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يصل على ماعز بن مالك ولم ينه عن الصلاة عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اس وقت وہ اٹھارہ مہینے کے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت مات ابراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثمانية عشر شهرا فلم يصل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم
وائل بن داود کہتے ہیں: میں نے بہی سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نشست گاہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سعید بن یعقوب طالقانی پر پڑھا کہ آپ سے حدیث بیان کی ابن مبارک نے انہوں نے یعقوب بن قعقاع سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی اس وقت وہ ستر دن کے تھے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا محمد بن عبيد، عن وايل بن داود، قال سمعت البهي، قال لما مات ابراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم صلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم في المقاعد . قال ابو داود قرات على سعيد بن يعقوب الطالقاني قيل له حدثكم ابن المبارك عن يعقوب بن القعقاع عن عطاء ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على ابنه ابراهيم وهو ابن سبعين ليلة