Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا فليح بن سليمان، عن صالح بن عجلان، ومحمد بن عبد الله بن عباد، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت والله ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل ابن البيضاء الا في المسجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك، - يعني ابن عثمان - عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت والله لقد صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنى بيضاء في المسجد سهيل واخيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، حدثني صالح، مولى التوامة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة في المسجد فلا شىء عليه
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک تو جب سورج چمکتا ہوا نکلے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، دوسرے جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور تیسرے جب سورج ڈوبنے لگے یہاں تک کہ ڈوب جائے یا اسی طرح کچھ فرمایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا موسى بن على بن رباح، قال سمعت ابي يحدث، انه سمع عقبة بن عامر، قال ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن او نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تميل وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب او كما قال
حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام کے قریب رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا: سنت یہی ہے ( یعنی پہلے لڑکے کو رکھنا پھر عورت کو ) ۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الرملي، حدثنا ابن وهب، عن ابن جريج، عن يحيى بن صبيح، حدثني عمار، مولى الحارث بن نوفل انه شهد جنازة ام كلثوم وابنها فجعل الغلام مما يلي الامام فانكرت ذلك وفي القوم ابن عباس وابو سعيد الخدري وابو قتادة وابو هريرة فقالوا هذه السنة
نافع ابوغالب کہتے ہیں کہ میں سکۃ المربد ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ چودھری صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، چار تکبیریں کہیں ( اور تکبیریں کہنے میں ) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: ابوحمزہ! ( انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے ( اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے ) یہ کہہ کر اسے قریب لائے، وہ ایک سبز تابوت میں تھی، وہ اس کے کولہے کے سامنے کھڑے ہوئے، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی، پھر اس کے بعد بیٹھے، تو علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے؟ چار تکبیریں کہتے تھے، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے کولھے کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔ علاء بن زیاد نے ( پھر ) کہا: ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں جنگ حنین ۲؎ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا ۳؎ اور قوم ( کافروں ) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا ( پھر جنگ کا رخ پلٹا ) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں ( اسلام کی چوکھٹ پر ) لانا شروع کر دیا، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، پھر وہ ( قیدی ) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ ( یعنی نذر ماننے والا صحابی ) اپنی نذر پوری کر لے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے ) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی، تب اس صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نذر تو رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں اس کا اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ رمز سے اشارہ کرے ۔ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کولہے کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ ( وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے ) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے، اور اسلام لے آیا ہوں۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حسين المعلم، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن سمرة بن جندب، قال صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم على امراة ماتت في نفاسها فقام عليها للصلاة وسطها
شعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک نئی قبر پر سے ہوا، تو لوگوں نے اس پر صف بندی کی آپ نے ( نماز پڑھائی اور ) چار تکبیریں کہیں۔ ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک معتبر آدمی نے جو اس وقت موجود تھے، یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال اخبرنا ابن ادريس، قال سمعت ابا اسحاق، عن الشعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقبر رطب فصفوا عليه وكبر عليه اربعا . فقلت للشعبي من حدثك قال الثقة من شهده عبد الله بن عباس
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید یعنی ابن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک بار ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا ( آپ ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ کیسے کہیں؟ ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ( بھی ) کہتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابن مثنیٰ کی حدیث زیادہ یاد ہے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، قال كان زيد - يعني ابن ارقم - يكبر على جنايزنا اربعا وانه كبر على جنازة خمسا فسالته فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبرها . قال ابو داود وانا لحديث ابن المثنى اتقن
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور کہا: یہ سنت میں سے ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال صليت مع ابن عباس على جنازة فقرا بفاتحة الكتاب فقال انها من السنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا صليتم على الميت فاخلصوا له الدعاء
علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو؟ مروان نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی ( سخت کلامی ) ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے ۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ابو الجلاس، عقبة بن سيار حدثني علي بن شماخ، قال شهدت مروان سال ابا هريرة كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الجنازة قال امع الذي قلت قال نعم . قال كلام كان بينهما قبل ذلك . قال ابو هريرة " اللهم انت ربها وانت خلقتها وانت هديتها للاسلام وانت قبضت روحها وانت اعلم بسرها وعلانيتها جيناك شفعاء فاغفر له " . قال ابو داود اخطا شعبة في اسم علي بن شماخ قال فيه عثمان بن شماس وسمعت احمد بن ابراهيم الموصلي يحدث احمد بن حنبل قال ما اعلم اني جلست من حماد بن زيد مجلسا الا نهى فيه عن عبد الوارث وجعفر بن سليمان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا ۔
حدثنا موسى بن مروان الرقي، حدثنا شعيب، - يعني ابن اسحاق - عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة فقال " اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وانثانا وشاهدنا وغايبنا اللهم من احييته منا فاحيه على الايمان ومن توفيته منا فتوفه على الاسلام اللهم لا تحرمنا اجره ولا تضلنا بعده
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ ( عذاب ) سے بچا لے ۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے: «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد، ح وحدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا الوليد، - وحديث عبد الرحمن اتم - حدثنا مروان بن جناح، عن يونس بن ميسرة بن حلبس، عن واثلة بن الاسقع، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين فسمعته يقول " اللهم ان فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر " . قال عبد الرحمن " في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وانت اهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه انك انت الغفور الرحيم " . قال عبد الرحمن عن مروان بن جناح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ ، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان امراة، سوداء او رجلا كان يقم المسجد ففقده النبي صلى الله عليه وسلم فسال عنه فقيل مات . فقال " الا اذنتموني به " . قال " دلوني على قبره " . فدلوه فصلى عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( حبشہ کا بادشاہ ) نجاشی ۱؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز ( جنازہ ) پڑھی ۲؎۔
حدثنا القعنبي، قال قرات على مالك بن انس عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى للناس النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم الى المصلى فصف بهم وكبر اربع تكبيرات
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب کفار نے سخت ایذائیں پہنچائیں تو ) ہمیں نجاشی کے ملک میں چلے جانے کا حکم دیا، نجاشی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور وہ وہی شخص ہیں جن کے آنے کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی ہے اور اگر میں سلطنت کے انتظام اور اس کی ذمہ داریوں میں پھنسا ہوا نہ ہوتا تو ان کے پاس آتا یہاں تک کہ میں ان کی جوتیاں اٹھاتا۔
حدثنا عباد بن موسى، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن ابيه، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ننطلق الى ارض النجاشي فذكر حديثه قال النجاشي اشهد انه رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه الذي بشر به عيسى ابن مريم ولولا ما انا فيه من الملك لاتيته حتى احمل نعليه
مطلب کہتے ہیں جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا ( تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے ) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں۔ کثیر ( راوی ) کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا: میں اسے اپنے بھائی کی قبر کی پہچان کے لیے لگا رہا ہوں، میرے خاندان کا جو مرے گا میں اسے انہیں کے آس پاس میں دفن کروں گا ۱؎ ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا سعيد بن سالم، ح وحدثنا يحيى بن الفضل السجستاني، حدثنا حاتم، - يعني ابن اسماعيل - بمعناه عن كثير بن زيد المدني، عن المطلب، قال لما مات عثمان بن مظعون اخرج بجنازته فدفن امر النبي صلى الله عليه وسلم رجلا ان ياتيه بحجر فلم يستطع حمله فقام اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم وحسر عن ذراعيه - قال كثير قال المطلب قال الذي يخبرني ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال - كاني انظر الى بياض ذراعى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين حسر عنهما ثم حملها فوضعها عند راسه وقال " اتعلم بها قبر اخي وادفن اليه من مات من اهلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کی ہڈی توڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سعد، - يعني ابن سعيد - عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كسر عظم الميت ككسره حيا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لحد ( بغلی قبر ) ہمارے لیے ہے، اور شق ( صندوقی قبر ) دوسروں کے لیے ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا حكام بن سلم، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللحد لنا والشق لغيرنا
حدثنا داود بن معاذ، حدثنا عبد الوارث، عن نافع ابي غالب، قال كنت في سكة المربد فمرت جنازة معها ناس كثير قالوا جنازة عبد الله بن عمير فتبعتها فاذا انا برجل عليه كساء رقيق على بريذينته وعلى راسه خرقة تقيه من الشمس فقلت من هذا الدهقان قالوا هذا انس بن مالك . فلما وضعت الجنازة قام انس فصلى عليها وانا خلفه لا يحول بيني وبينه شىء فقام عند راسه فكبر اربع تكبيرات لم يطل ولم يسرع ثم ذهب يقعد فقالوا يا ابا حمزة المراة الانصارية فقربوها وعليها نعش اخضر فقام عند عجيزتها فصلى عليها نحو صلاته على الرجل ثم جلس فقال العلاء بن زياد يا ابا حمزة هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الجنازة كصلاتك يكبر عليها اربعا ويقوم عند راس الرجل وعجيزة المراة قال نعم . قال يا ابا حمزة غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم غزوت معه حنينا فخرج المشركون فحملوا علينا حتى راينا خيلنا وراء ظهورنا وفي القوم رجل يحمل علينا فيدقنا ويحطمنا فهزمهم الله وجعل يجاء بهم فيبايعونه على الاسلام فقال رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان على نذرا ان جاء الله بالرجل الذي كان منذ اليوم يحطمنا لاضربن عنقه . فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجيء بالرجل فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا رسول الله تبت الى الله . فامسك رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبايعه ليفي الاخر بنذره . قال فجعل الرجل يتصدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم ليامره بقتله وجعل يهاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتله فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم انه لا يصنع شييا بايعه فقال الرجل يا رسول الله نذري . فقال " اني لم امسك عنه منذ اليوم الا لتوفي بنذرك " . فقال يا رسول الله الا اومضت الى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه ليس لنبي ان يومض " . قال ابو غالب فسالت عن صنيع انس في قيامه على المراة عند عجيزتها فحدثوني انه انما كان لانه لم تكن النعوش فكان الامام يقوم حيال عجيزتها يسترها من القوم . قال ابو داود قول النبي صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله " . نسخ من هذا الحديث الوفاء بالنذر في قتله بقوله اني قد تبت