Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
عامر شعبی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔ شعبی کہتے ہیں: مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ( دفن سے ) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی ( مردے ) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہوا کرتے ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن عامر، قال غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم علي والفضل واسامة بن زيد وهم ادخلوه قبره قال وحدثني مرحب او ابن ابي مرحب انهم ادخلوا معهم عبد الرحمن بن عوف فلما فرغ علي قال انما يلي الرجل اهله
ابومرحب سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے وہ کہتے ہیں: مجھے ایسا لگ رہا ہے گویا کہ میں ان چاروں ( علی، فضل بن عباس، اسامہ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ) کو دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا محمد بن الصباح، اخبرنا سفيان، عن ابن خالد، عن الشعبي، عن ابي مرحب، ان عبد الرحمن بن عوف، نزل في قبر النبي صلى الله عليه وسلم قال كاني انظر اليهم اربعة
ابواسحاق کہتے ہیں کہ حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز ( نماز جنازہ ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال اوصى الحارث ان يصلي، عليه عبد الله بن يزيد فصلى عليه ثم ادخله القبر من قبل رجلى القبر وقال هذا من السنة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے، قبر پر پہنچے تو ابھی قبر کی بغل کھدی ہوئی نہ تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن المنهال بن عمرو، عن زاذان، عن البراء بن عازب، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة رجل من الانصار فانتهينا الى القبر ولم يلحد بعد فجلس النبي صلى الله عليه وسلم مستقبل القبلة وجلسنا معه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں رکھتے تو: «بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے تھے، یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے ہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، ح وحدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابي الصديق، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا وضع الميت في القبر قال " بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم " . هذا لفظ مسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا ، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني ابو اسحاق، عن ناجية بن كعب، عن علي، عليه السلام قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم ان عمك الشيخ الضال قد مات . قال " اذهب فوار اباك ثم لا تحدثن شييا حتى تاتيني " . فذهبت فواريته وجيته فامرني فاغتسلت ودعا لي
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیسی قبر کھودنے کا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو ، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، ان سليمان بن المغيرة، حدثهم عن حميد، - يعني ابن هلال - عن هشام بن عامر، قال جاءت الانصار الى رسول الل��ه صلى الله عليه وسلم يوم احد فقالوا اصابنا قرح وجهد فكيف تامرنا قال " احفروا واوسعوا واجعلوا الرجلين والثلاثة في القبر " . قيل فايهم يقدم قال " اكثرهم قرانا " . قال اصيب ابي يوميذ عامر بين اثنين او قال واحد
اس سند سے بھی حمید بن ہلال سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا زیادہ ہے کہ: خوب گہری کھودو ۔
حدثنا ابو صالح، - يعني الانطاكي - اخبرنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن الثوري، عن ايوب، عن حميد بن هلال، باسناده ومعناه زاد فيه " واعمقوا
سعد بن ہشام بن عامر سے یہی حدیث مروی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير، حدثنا حميد، - يعني ابن هلال - عن سعد بن هشام بن عامر، بهذا الحديث
ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں مجھے علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا حبيب بن ابي ثابت، عن ابي وايل، عن ابي هياج الاسدي، قال بعثني علي قال لي ابعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا ادع قبرا مشرفا الا سويته ولا تمثالا الا طمسته
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں ہم سر زمین روم میں رودس ۱؎ میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہاں ہمارا ایک ساتھی انتقال کر گیا تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس کی قبر کھودنے کا حکم دیا، پھر وہ ( دفن کے بعد ) برابر کر دی گئی، پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اسے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رودس سمندر کے اندر ایک جزیرہ ہے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، حدثني عمرو بن الحارث، ان ابا علي الهمداني، حدثه قال كنا مع فضالة بن عبيد برودس من ارض الروم فتوفي صاحب لنا فامر فضالة بقبره فسوي ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بتسويتها . قال ابو داود رودس جزيرة في البحر
قاسم کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اماں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبریں میرے لیے کھول دیجئیے ( میں ان کا دیدار کروں گا ) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھول دیں، وہ قبریں نہ بہت بلند تھیں اور نہ ہی بالکل پست، زمین سے ملی ہوئی ( بالشت بالشت بھر بلند تھیں ) اور مدینہ کے اردگرد کے میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔ ابوعلی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے پاس ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ آپ کے قدموں کے پاس، عمر رضی اللہ عنہ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں کے پاس ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، اخبرني عمرو بن عثمان بن هاني، عن القاسم، قال دخلت على عايشة فقلت يا امه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه رضى الله عنهما فكشفت لي عن ثلاثة قبور لا مشرفة ولا لاطية مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء قال ابو علي يقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مقدم وابو بكر عند راسه وعمر عند رجلى رسول الله صلى الله عليه وسلم
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بحیر سے بحیر بن ریسان مراد ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا هشام، عن عبد الله بن بحير، عن هاني، مولى عثمان عن عثمان بن عفان، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال " استغفروا لاخيكم وسلوا له التثبيت فانه الان يسال " . قال ابو داود بحير بن ريسان
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «عقر» نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عقر في الاسلام " . قال عبد الرزاق كانوا يعقرون عند القبر بقرة او شاة
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے نکلے اور اہل احد پر اپنے جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی، پھر لوٹے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على اهل احد صلاته على الميت ثم انصرف
اس سند سے بھی یزید بن حبیب سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی، یہ ایسی نماز تھی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو وداع کرتے ہوئے پڑھے ( درد و سوز میں ڈوبی ہوئی ) ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، عن يزيد بن ابي حبيب، بهذا الحديث قال ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قتلى احد بعد ثمان سنين كالمودع للاحياء والاموات
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يقعد على القبر وان يقصص ويبنى عليه
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے ( بھی منع فرماتے تھے ) ۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے: یا اس پر کچھ لکھنے سے ۱؎ مسدد نے اپنی روایت میں: «أو يزاد عليه» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت میں مجھے حرف «وأن» کا پتہ نہ لگا۔
حدثنا مسدد، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن سليمان بن موسى، وعن ابي الزبير، عن جابر، بهذا الحديث قال ابو داود قال عثمان او يزاد عليه وزاد سليمان بن موسى او ان يكتب عليه ولم يذكر مسدد في حديثه او يزاد عليه . قال ابو داود خفي على من حديث مسدد حرف وان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود کو غارت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قاتل الله اليهود اتخذوا قبور انبيايهم مساجد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يجلس احدكم على جمرة فتحرق ثيابه حتى تخلص الى جلده خير له من ان يجلس على قبر