Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو، اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن يزيد بن جابر - عن بسر بن عبيد الله، قال سمعت واثلة بن الاسقع، يقول سمعت ابا مرثد الغنوي، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا اليها
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بشیر رضی اللہ عنہ ( جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ ، انہوں نے کہا: زحم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: یہ لوگ خیر کثیر ( دین اسلام ) سے پہلے گزر ( مر ) گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے خیر کثیر ( بہت زیادہ بھلائی ) حاصل کی اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے اس آدمی نے ( نظر اٹھا کر ) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا الاسود بن شيبان، عن خالد بن سمير السدوسي، عن بشير بن نهيك، عن بشير، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان اسمه في الجاهلية زحم بن معبد فهاجر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما اسمك " . قال زحم . قال " بل انت بشير " . قال بينما انا اماشي رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقبور المشركين فقال " لقد سبق هولاء خيرا كثيرا " . ثلاثا ثم مر بقبور المسلمين فقال " لقد ادرك هولاء خيرا كثيرا " . وحانت من رسول الله صلى الله عليه وسلم نظرة فاذا رجل يمشي في القبور عليه نعلان فقال " يا صاحب السبتيتين ويحك الق سبتيتيك " . فنظر الرجل فلما عرف رسول الله صلى الله عليه وسلم خلعهما فرمى بهما
انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الوهاب، - يعني ابن عطاء - عن سعيد، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن سعيد بن يزيد ابي مسلمة، عن ابي نضرة، عن جابر، قال دفن مع ابي رجل فكان في نفسي من ذلك حاجة فاخرجته بعد ستة اشهر فما انكرت منه شييا الا شعيرات كن في لحيته مما يلي الارض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وجبت» جنت اس کا حق بن گئی پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: «وجبت» دوزخ اس کے گلے پڑ گئی پھر فرمایا: تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابراهيم بن عامر، عن عامر بن سعد، عن ابي هريرة، قال مروا على رسول الله صلى الله عليه وسلم بجنازة فاثنوا عليها خيرا فقال " وجبت " . ثم مروا باخرى فاثنوا عليها شرا فقال " وجبت " . ثم قال " ان بعضكم على بعض شهداء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو ( بھی ) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا محمد بن عبيد، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قبر امه فبكى وابكى من حوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استاذنت ربي تعالى على ان استغفر لها فلم يوذن لي فاستاذنت ان ازور قبرها فاذن لي فزوروا القبور فانها تذكر بالموت
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا معرف بن واصل، عن محارب بن دثار، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فان في زيارتها تذكرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور اس پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن محمد بن جحادة، قال سمعت ابا صالح، يحدث عن ابن عباس، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زايرات القبور والمتخذين عليها المساجد والسرج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان گئے تو فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون» سلامتی ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی والو! ہم بھی ان شاءاللہ آ کر آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى المقبرة فقال " السلام عليكم دار قوم مومنين وانا ان شاء الله بكم لاحقون
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے دونوں کپڑوں ( تہبند اور چادر ) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس ( محرم ) کا سر نہ ڈھانپو۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثني عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل وقصته راحلته فمات وهو محرم فقال " كفنوه في ثوبيه واغسلوه بماء وسدر ولا تخمروا راسه فان الله يبعثه يوم القيامة يلبي " . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يقول في هذا الحديث خمس سنن " كفنوه في ثوبيه " . اى يكفن الميت في ثوبين " واغسلوه بماء وسدر " . اى ان في الغسلات كلها سدرا " ولا تخمروا راسه " . ولا تقربوه طيبا وكان الكفن من جميع المال
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ اسے دو کپڑوں میں کفناؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان نے کہا ہے کہ ایوب کی روایت میں «ثوبين» کے بجائے «ثوبيه» ( اسی کے دونوں کپڑے میں ) ہے اور عمرو نے «ثوبين» کا لفظ نقل کیا ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ ایوب نے «في ثوبين» اور عمرو نے «في ثوبيه» کہا ہے، اور تنہا سلیمان نے «ولا تحنطوه» ( اسے خوشبو نہ لگاؤ ) کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومحمد بن عبيد، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن عمرو، وايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، نحوه قال " وكفنوه في ثوبين " . قال ابو داود قال سليمان قال ايوب " ثوبيه " . وقال عمرو " ثوبين " . وقال ابن عبيد قال ايوب " في ثوبين " . وقال عمرو " في ثوبيه " . زاد سليمان وحده " ولا تحنطوه
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں «في ثوبين» ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، نحوه بمعنى سليمان " في ثوبين
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کر دیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو اور کفن پہناؤ ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال وقصت برجل محرم ناقته فقتلته فاتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلوه وكفنوه ولا تغطوا راسه ولا تقربوه طيبا فانه يبعث يهل