Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
خضر کے تیر انداز بھائی عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں تھا کہ یکایک ہمارے لیے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے ۲؎۔ عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو یہاں رکھو ، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو؟ ، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو ، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني رجل، من اهل الشام يقال له ابو منظور عن عمه، قال حدثني عمي، عن عامر الرام، اخي الخضر - قال ابو داود قال النفيلي هو الخضر ولكن كذا قال - قال اني لببلادنا اذ رفعت لنا رايات والوية فقلت ما هذا قالوا هذا لواء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته وهو تحت شجرة قد بسط له كساء وهو جالس عليه وقد اجتمع اليه اصحابه فجلست اليهم فذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الاسقام فقال " ان المومن اذا اصابه السقم ثم اعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه وموعظة له فيما يستقبل وان المنافق اذا مرض ثم اعفي كان كالبعير عقله اهله ثم ارسلوه فلم يدر لم عقلوه ولم يدر لم ارسلوه " . فقال رجل ممن حوله يا رسول الله وما الاسقام والله ما مرضت قط . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قم عنا فلست منا " . فبينا نحن عنده اذ اقبل رجل عليه كساء وفي يده شىء قد التف عليه فقال يا رسول الله اني لما رايتك اقبلت اليك فمررت بغيضة شجر فسمعت فيها اصوات فراخ طاير فاخذتهن فوضعتهن في كسايي فجاءت امهن فاستدارت على راسي فكشفت لها عنهن فوقعت عليهن معهن فلففتهن بكسايي فهن اولاء معي . قال " ضعهن عنك " . فوضعتهن وابت امهن الا لزومهن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه " اتعجبون لرحم ام الافراخ فراخها " . قالوا نعم يا رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " فوالذي بعثني بالحق لله ارحم بعباده من ام الافراخ بفراخها ارجع بهن حتى تضعهن من حيث اخذتهن وامهن معهن " . فرجع بهن
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، وابراهيم بن مهدي المصيصي، - المعنى - قالا حدثنا ابو المليح، عن محمد بن خالد، - قال ابو داود قال ابراهيم بن مهدي السلمي - عن ابيه، عن جده، وكانت، له صحبة من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان العبد اذا سبقت له من الله منزلة لم يبلغها بعمله ابتلاه الله في جسده او في ماله او في ولده " . قال ابو داود زاد ابن نفيل " ثم صبره على ذلك " . ثم اتفقا " حتى يبلغه المنزلة التي سبقت له من الله تعالى
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: جب بندہ کوئی نیک عمل ( پابندی سے ) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا هشيم، عن العوام بن حوشب، عن ابراهيم بن عبد الرحمن السكسكي، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم غير مرة ولا مرتين يقول " اذا كان العبد يعمل عملا صالحا فشغله عنه مرض او سفر كتب له كصالح ما كان يعمل وهو صحيح مقيم
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے ۔
حدثنا سهل بن بكار، عن ابي عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن ام العلاء، قالت عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا مريضة فقال " ابشري يا ام العلاء فان مرض المسلم يذهب الله به خطاياه كما تذهب النار خبث الذهب والفضة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ! ، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ( سورۃ النساء: ۱۲۳ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا ( سورۃ الانشقاق: ۸ ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، - قال ابو داود وهذا لفظ ابن بشار - عن ابي عامر الخزاز، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله اني لاعلم اشد اية في القران قال " اية اية يا عايشة " . قالت قول الله تعالى { من يعمل سوءا يجز به } قال " اما علمت يا عايشة ان المومن تصيبه النكبة او الشوكة فيكافا باسوا عمله ومن حوسب عذب " . قالت اليس الله يقول { فسوف يحاسب حسابا يسيرا } قال " ذاكم العرض يا عايشة من نوقش الحساب عذب " . قال ابو داود وهذا لفظ ابن بشار قال اخبرنا ابن ابي مليكة
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا ، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے ( عبداللہ ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عروة، عن اسامة بن زيد، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود عبد الله بن ابى في مرضه الذي مات فيه فلما دخل عليه عرف فيه الموت قال " قد كنت انهاك عن حب يهود " . قال فقد ابغضهم اسعد بن زرارة فمه فلما مات اتاه ابنه فقال يا رسول الله ان عبد الله بن ابى قد مات فاعطني قميصك اكفنه فيه . فنزع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فاعطاه اياه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: تم مسلمان ہو جاؤ ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم ۱؎ کی اطاعت کرو ، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۲؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، - يعني ابن زيد - عن ثابت، عن انس، ان غلاما، من اليهود كان مرض فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقعد عند راسه فقال له " اسلم " . فنظر الى ابيه وهو عند راسه فقال له ابوه اطع ابا القاسم . فاسلم فقام النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول " الحمد لله الذي انقذه بي من النار
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی خچر اور گھوڑے پر سوار ہوئے میری عیادت کو تشریف لاتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعودني ليس براكب بغل ولا برذون
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے ، میں نے کہا! اے ابوحمزہ!«خریف» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا الربيع بن روح بن خليد، حدثنا محمد بن خالد، حدثنا الفضل بن دلهم الواسطي، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء وعاد اخاه المسلم محتسبا بوعد من جهنم مسيرة سبعين خريفا " . قلت يا ابا حمزة وما الخريف قال العام . قال ابو داود والذي تفرد به البصريون منه العيادة وهو متوضي
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن عبد الله بن نافع، عن علي، قال ما من رجل يعود مريضا ممسيا الا خرج معه سبعون الف ملك يستغفرون له حتى يصبح وكان له خريف في الجنة ومن اتاه مصبحا خرج معه سبعون الف ملك يستغفرون له حتى يمسي وكان له خريف في الجنة
علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه لم يذكر الخريف . قال ابو داود رواه منصور عن الحكم ابي حفص كما رواه شعبة
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن ابي جعفر عبد الله بن نافع، قال - وكان نافع غلام الحسن بن علي - قال جاء ابو موسى الى الحسن بن علي يعوده . قال ابو داود وساق معنى حديث شعبة . قال ابو داود اسند هذا عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لما اصيب سعد بن معاذ يوم الخندق رماه رجل في الاكحل فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد فيعوده من قريب
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے درد میں میری عیادت کی۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا حجاج بن محمد، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن زيد بن ارقم، قال عادني رسول الله صلى الله عليه وسلم من وجع كان بعينى
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ۱؎ پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ ۲؎، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر ( کہیں اور ) نہ جاؤ ۳؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن عبد الله بن عباس، قال قال عبد الرحمن بن عوف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه واذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه " . يعني الطاعون
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ۱؎ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا مكي بن ابراهيم، حدثنا الجعيد، عن عايشة بنت سعد، ان اباها، قال اشتكيت بمكة فجاءني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني ووضع يده على جبهتي ثم مسح صدري وبطني ثم قال " اللهم اشف سعدا واتمم له هجرته
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور ( مسلمان ) قیدی کو ( کافروں کی ) قید سے آزاد کراؤ ۔ سفیان کہتے ہیں: «العاني» سے مرا «داسیر» ( قیدی ) ہے۔
حدثنا ابن كثير، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابي وايل، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطعموا الجايع وعودوا المريض وفكوا العاني " . قال سفيان والعاني الاسير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا ۔
حدثنا الربيع بن يحيى، حدثنا شعبة، حدثنا يزيد ابو خالد، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من عاد مريضا لم يحضر اجله فقال عنده سبع مرار اسال الله العظيم رب العرش العظيم ان يشفيك الا عافاه الله من ذلك المرض
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي، حدثنا ابن وهب، عن حيى بن عبد الله، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابن عمرو، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا جاء الرجل يعود مريضا فليقل اللهم اشف عبدك ينكا لك عدوا او يمشي لك الى جنازة " . قال ابو داود وقال ابن السرح " الى صلاة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے ( گھبرا کر ) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مر جانا ہی میرے حق میں بہتر ہو ۔
حدثنا بشر بن هلال، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدعون احدكم بالموت لضر نزل به ولكن ليقل اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي