Loading...

Loading...
کتب
۱۵۳ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يتمنين احدكم الموت " . فذكر مثله
صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا) اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن منصور، عن تميم بن سلمة، او سعد بن عبيدة عن عبيد بن خالد السلمي، - رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال مرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال مرة عن عبيد - قال " موت الفجاة اخذة اسف
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے تو ان کو بیہوش پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، اور فرمایا: اے ابوربیع! تمہارے معاملے میں قضاء ہمیں مغلوب کر گئی ، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ( رونے دو انہیں ) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول: واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں: میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے چکا، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مر جانے والا شہید ہے، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے، ذات الجنب ( نمونیہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری ( دستوں وغیرہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، عن عتيك بن الحارث بن عتيك، - وهو جد عبد الله بن عبد الله ابو امه - انه اخبره ان عمه جابر بن عتيك اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء يعود عبد الله بن ثابت فوجده قد غلب فصاح به رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يجبه فاسترجع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " غلبنا عليك يا ابا الربيع " . فصاح النسوة وبكين فجعل ابن عتيك يسكتهن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعهن فاذا وجب فلا تبكين باكية " . قالوا وما الوجوب يا رسول الله قال " الموت " . قالت ابنته والله ان كنت لارجو ان تكون شهيدا فانك كنت قد قضيت جهازك . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل قد اوقع اجره على قدر نيته وما تعدون الشهادة " . قالوا القتل في سبيل الله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله المطعون شهيد والغرق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحريق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمراة تموت بجمع شهيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا ۱؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے ( جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے ) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا ۳؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، اخبرني عمر بن جارية الثقفي، حليف بني زهرة - وكان من اصحاب ابي هريرة - عن ابي هريرة، قال ابتاع بنو الحارث بن عامر بن نوفل خبيبا - وكان خبيب هو قتل الحارث بن عامر يوم بدر - فلبث خبيب عندهم اسيرا حتى اجمعوا لقتله فاستعار من ابنة الحارث موسى يستحد بها فاعارته فدرج بنى لها وهي غافلة حتى اتته فوجدته مخليا وهو على فخذه والموسى بيده ففزعت فزعة عرفها فيها فقال اتخشين ان اقتله ما كنت لافعل ذلك . قال ابو داود روى هذه القصة شعيب بن ابي حمزة عن الزهري قال اخبرني عبيد الله بن عياض ان ابنة الحارث اخبرته انهم حين اجتمعوا - يعني لقتله - استعار منها موسى يستحد بها فاعارته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قبل موته بثلاث قال " لا يموت احدكم الا وهو يحسن الظن بالله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں ( قیامت میں ) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، انه لما حضره الموت دعا بثياب جدد فلبسها ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو بھلی بات کہو ۱؎ اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں ، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمایا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حضرتم الميت فقولوا خيرا فان الملايكة يومنون على ما تقولون " . فلما مات ابو سلمة قلت يا رسول الله ما اقول قال " قولي اللهم اغفر له واعقبنا عقبى صالحة " . قالت فاعقبني الله تعالى به محمدا صلى الله عليه وسلم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا مالك بن عبد الواحد المسمعي، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن ابي عريب، عن كثير بن مرة، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان اخر كلامه لا اله الا الله دخل الجنة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مرنے والے لوگوں کو کلمہ «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، حدثنا عمارة بن غزية، حدثنا يحيى بن عمارة، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا موتاكم قول لا اله الا الله
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کر دیا ( یہ دیکھ کر ) ان کے خاندان کے کچھ لوگ رونے پیٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اپنے حق میں صرف خیر کی دعا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه» اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے، انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما کر ان کے درجات بلند فرما اور باقی ماندہ لوگوں میں ان کا اچھا جانشین بنا، اے سارے جہان کے پالنہار! ہمیں اور انہیں ( سبھی کو ) بخش دے، ان کے لیے قبر میں کشادگی فرما اور ان کی قبر میں روشنی کر دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تغميض الميت» ( آنکھ بند کرنے کا عمل ) روح نکلنے کے بعد ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد بن نعمان مقری سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے ابومیسرہ سے جو ایک عابد شخص تھے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر معلم کی آنکھ جو ایک عابد آدمی تھے مرتے وقت ڈھانپ دی تو ان کے انتقال والی رات میں خواب میں دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا میرے مرنے سے پہلے میری آنکھ کو بند کر دینا میرے لیے باعث مشقت و تکلیف رہی ( یعنی آنکھ مرنے سے پہلے بند نہیں کرنی چاہیئے ) ۔
حدثنا عبد الملك بن حبيب ابو مروان، حدثنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن قبيصة بن ذويب، عن ام سلمة، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابي سلمة وقد شق بصره فاغمضه فصيح ناس من اهله فقال " لا تدعوا على انفسكم الا بخير فان الملايكة يومنون على ما تقولون " . ثم قال " اللهم اغفر لابي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه " . قال ابو داود وتغميض الميت بعد خروج الروح سمعت محمد بن محمد بن النعمان المقري قال سمعت ابا ميسرة رجلا عابدا يقول غمضت جعفرا المعلم وكان رجلا عابدا في حالة الموت فرايته في منامي ليلة مات يقول اعظم ما كان على تغميضك لي قبل ان اموت
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے ( تھوڑی ہو یا زیادہ ) تو اسے چاہیئے کہ: «إنا لله وإنا إليه راجعون» ، «اللهم عندك أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها»بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن ابن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اصابت احدكم مصيبة فليقل { انا لله وانا اليه راجعون } اللهم عندك احتسب مصيبتي فاجرني فيها وابدل لي خيرا منها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وفات کے بعد ) یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجي في ثوب حبرة
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں پر سورۃ، يس، پڑھو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء، ومحمد بن مكي المروزي، - المعنى - قالا حدثنا ابن المبارك، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، - وليس بالنهدي - عن ابيه، عن معقل بن يسار، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اقرءوا { يس } على موتاكم " . وهذا لفظ ابن العلاء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم قتل کر دئیے گئے ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی ) تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھ گئے، آپ کے چہرے سے غم ٹپک رہا تھا، اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت لما قتل زيد بن حارثة وجعفر وعبد الله بن رواحة جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد يعرف في وجهه الحزن وذكر القصة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک میت کو دفنایا، جب ہم تدفین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، ہم بھی آپ کے ساتھ لوٹے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دروازے کے سامنے آئے تو رک گئے، اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک عورت چلی آ رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پہچان لیا، جب وہ چلی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی؟ ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس گھر والوں کے پاس آئی تھی تاکہ میں ان کی میت کے لیے اللہ سے رحم کی دعا کروں یا ان کی تعزیت کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شاید تم ان کے ساتھ کُدی ( مکہ میں ایک جگہ ہے ) گئی تھی ، انہوں نے کہا: معاذاللہ! میں تو اس بارے میں آپ کا بیان سن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ کدی گئی ہوتی تو میں ایسا ایسا کرتا ، ( اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت رویے کا اظہار فرمایا ) ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ربیعہ سے کدی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں اس سے قبریں مراد ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، حدثنا المفضل، عن ربيعة بن سيف المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قبرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني ميتا - فلما فرغنا انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم وانصرفنا معه فلما حاذى بابه وقف فاذا نحن بامراة مقبلة - قال اظنه عرفها - فلما ذهبت اذا هي فاطمة - عليها السلام - فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اخرجك يا فاطمة من بيتك " . فقالت اتيت يا رسول الله اهل هذا البيت فرحمت اليهم ميتهم او عزيتهم به . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلعلك بلغت معهم الكدى " . قالت معاذ الله وقد سمعتك تذكر فيها ما تذكر . قال " لو بلغت معهم الكدى " . فذكر تشديدا في ذلك فسالت ربيعة عن الكدى فقال القبور فيما احسب
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں ( بآواز ) رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۱؎ ، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا۲؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ( جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی ) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو یا فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا شعبة، عن ثابت، عن انس، قال اتى نبي الله صلى الله عليه وسلم على امراة تبكي على صبي لها فقال لها " اتقي الله واصبري " . فقالت وما تبالي انت بمصيبتي فقيل لها هذا النبي صلى الله عليه وسلم . فاتته فلم تجد على بابه بوابين فقالت يا رسول الله لم اعرفك فقال " انما الصبر عند الصدمة الاولى " . او " عند اول صدمة
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواباً ) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ان سے ( جا کر ) کہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو چیز کہ وہ لے، اور اسی کی ہے جو چیز کہ وہ دے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھیں بہ پڑیں، سعد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن عاصم الاحول، قال سمعت ابا عثمان، عن اسامة بن زيد، ان ابنة لرسول الله، صلى الله عليه وسلم ارسلت اليه وانا معه وسعد واحسب ابيا ان ابني او بنتي قد حضر فاشهدنا . فارسل يقري السلام فقال " قل لله ما اخذ وما اعطى وكل شىء عنده الى اجل " . فارسلت تقسم عليه فاتاها فوضع الصبي في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم ونفسه تقعقع ففاضت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له سعد ما هذا قال " انها رحمة وضعها الله في قلوب من يشاء وانما يرحم الله من عباده الرحماء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے ۱؎، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں ۲؎ ۔
حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولد لي الليلة غلام فسميته باسم ابي ابراهيم " . فذكر الحديث قال انس لقد رايته يكيد بنفسه بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدمعت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول الا ما يرضى ربنا انا بك يا ابراهيم لمحزونون
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا عن النياحة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ ( دلچسپی سے ) سننے والی پر لعنت فرمائی ہے
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا محمد بن ربيعة، عن محمد بن الحسن بن عطية، عن ابيه، عن جده، عن ابي سعيد الخدري، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النايحة والمستمعة