احادیث
#3141
سنن ابی داؤد - Funerals
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، ( یہ سن کر ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني يحيى بن عباد، عن ابيه، عباد بن عبد الله بن الزبير قال سمعت عايشة، تقول لما ارادوا غسل النبي صلى الله عليه وسلم قالوا والله ما ندري انجرد رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثيابه كما نجرد موتانا ام نغسله وعليه ثيابه فلما اختلفوا القى الله عليهم النوم حتى ما منهم رجل الا وذقنه في صدره ثم كلمهم مكلم من ناحية البيت لا يدرون من هو ان اغسلوا النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثيابه فقاموا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فغسلوه وعليه قميصه يصبون الماء فوق القميص ويدلكونه بالقميص دون ايديهم وكانت عايشة تقول لو استقبلت من امري ما استدبرت ما غسله الا نساوه
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #3141
- Book Index
- 53
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan
- Shuaib Al ArnautHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
