Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے، اللہ ان پر رحم کرے، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: خبردار! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ ( مہر کی زیادتی ) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ ( چار سو اسی درہم ) سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ابي العجفاء السلمي، قال خطبنا عمر رحمه الله فقال الا لا تغالوا بصدق النساء فانها لو كانت مكرمة في الدنيا او تقوى عند الله لكان اولاكم بها النبي صلى الله عليه وسلم ما اصدق رسول الله صلى الله عليه وسلم امراة من نسايه ولا اصدقت امراة من بناته اكثر من ثنتى عشرة اوقية
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہ وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں، حبشہ میں ان کا انتقال ہو گیا تو نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار ( درہم ) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسنہ شرحبیل کی والدہ ۲؎ ہیں۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب الثقفي، حدثنا معلى بن منصور، حدثنا ابن المبارك، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن ام حبيبة، انها كانت تحت عبيد الله بن جحش فمات بارض الحبشة فزوجها النجاشي النبي صلى الله عليه وسلم وامهرها عنه اربعة الاف وبعث بها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع شرحبيل ابن حسنة . قال ابو داود حسنة هي امه
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، عن ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، ان النجاشي، زوج ام حبيبة بنت ابي سفيان من رسول الله صلى الله عليه وسلم على صداق اربعة الاف درهم وكتب بذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟ جواب دیا: گٹھلی ( نواۃ ۱؎ ) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، وحميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى عبد الرحمن بن عوف وعليه ردع زعفران فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مهيم " . فقال يا رسول الله تزوجت امراة . قال " ما اصدقتها " . قال وزن نواة من ذهب . قال " اولم ولو بشاة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حدثنا اسحاق بن جبريل البغدادي، اخبرنا يزيد، اخبرنا موسى بن مسلم بن رومان، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعطى في صداق امراة ملء كفيه سويقا او تمرا فقد استحل " . قال ابو داود رواه عبد الرحمن بن مهدي عن صالح بن رومان عن ابي الزبير عن جابر موقوفا ورواه ابو عاصم عن صالح بن رومان عن ابي الزبير عن جابر قال كنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نستمتع بالقبضة من الطعام على معنى المتعة . قال ابو داود رواه ابن جريج عن ابي الزبير عن جابر على معنى ابي عاصم
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنا ازار اسے ( مہر میں ) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو ، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے ( یاد کرانے کے ) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا ۱؎ ۔
حدثني القعنبي، عن مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امراة فقالت يا رسول الله اني قد وهبت نفسي لك . فقامت قياما طويلا فقام رجل فقال يا رسول الله زوجنيها ان لم يكن لك بها حاجة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل عندك من شىء تصدقها اياه " . فقال ما عندي الا ازاري هذا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انك ان اعطيتها ازارك جلست ولا ازار لك فالتمس شييا " . قال لا اجد شييا . قال " فالتمس ولو خاتما من حديد " . فالتمس فلم يجد شييا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهل معك من القران شىء " . قال نعم سورة كذا وسورة كذا . لسور سماها . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد زوجتكها بما معك من القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟ جواب دیا: سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے ۔
حدثنا احمد بن حفص بن عبد الله، حدثني ابي حفص بن عبد الله، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن الحجاج بن الحجاج الباهلي، عن عسل، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابي هريرة، نحو هذه القصة لم يذكر الازار والخاتم فقال " ما تحفظ من القران " . قال سورة البقرة او التي تليها . قال " فقم فعلمها عشرين اية وهي امراتك
مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن راشد، عن مكحول، نحو خبر سهل قال وكان مكحول يقول ليس ذلك لاحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن فراس، عن الشعبي، عن مسروق، عن عبد الله، في رجل تزوج امراة فمات عنها ولم يدخل بها ولم يفرض لها الصداق فقال لها الصداق كاملا وعليها العدة ولها الميراث . فقال معقل بن سنان سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى به في بروع بنت واشق
اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، وابن، مهدي عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، وساق، عثمان مثله
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق – جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن خلاس، وابي، حسان عن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عبد الله بن مسعود، اتي في رجل بهذا الخبر قال فاختلفوا اليه شهرا او قال مرات قال فاني اقول فيها ان لها صداقا كصداق نسايها لا وكس ولا شطط وان لها الميراث وعليها العدة فان يك صوابا فمن الله وان يكن خطا فمني ومن الشيطان والله ورسوله برييان . فقام ناس من اشجع فيهم الجراح وابو سنان فقالوا يا ابن مسعود نحن نشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضاها فينا في بروع بنت واشق وان زوجها هلال بن مرة الاشجعي كما قضيت . قال ففرح عبد الله بن مسعود فرحا شديدا حين وافق قضاوه قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس الذهلي، ومحمد بن المثنى، وعمر بن الخطاب، - قال محمد - حدثنا ابو الاصبغ الجزري عبد العزيز بن يحيى، اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، خالد بن ابي يزيد عن زيد بن ابي انيسة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله، عن عقبة بن عامر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل " اترضى ان ازوجك فلانة " . قال نعم . وقال للمراة " اترضين ان ازوجك فلانا " . قالت نعم . فزوج احدهما صاحبه فدخل بها الرجل ولم يفرض لها صداقا ولم يعطها شييا وكان ممن شهد الحديبية وكان من شهد الحديبية له سهم بخيبر فلما حضرته الوفاة قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجني فلانة ولم افرض لها صداقا ولم اعطها شييا واني اشهدكم اني اعطيتها من صداقها سهمي بخيبر فاخذت سهما فباعته بماية الف . قال ابو داود وزاد عمر بن الخطاب - وحديثه اتم - في اول الحديث قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير النكاح ايسره " . وقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للرجل ثم ساق معناه . قال ابو داود يخاف ان يكون هذا الحديث ملزقا لان الامر على غير هذا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی ( سورۃ الاحزاب: ۷۱، ۷۰ ) ، محمد بن سلیمان کی روایت میں «إن» نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، في خطبة الحاجة في النكاح وغيره ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري - المعنى - حدثنا وكيع عن اسراييل عن ابي اسحاق عن ابي الاحوص وابي عبيدة عن عبد الله قال علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبة الحاجة " ان الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور انفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله يا ايها الذين امنوا { اتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا } { يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون } { يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لكم اعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما } . لم يقل محمد بن سليمان ان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں «ورسوله» کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں: «أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا، وہ ہدایت پا چکا، اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عمران، عن قتادة، عن عبد ربه، عن ابي عياض، عن ابن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا تشهد ذكر نحوه وقال بعد قوله " ورسوله " . " ارسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فانه لا يضر الا نفسه ولا يضر الله شييا
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا بدل بن المحبر، اخبرنا شعبة، عن العلاء ابن اخي، شعيب الرازي عن اسماعيل بن ابراهيم، عن رجل، من بني سليم قال خطبت الى النبي صلى الله عليه وسلم امامة بنت عبد المطلب فانكحني من غير ان يتشهد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی ( سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ( شب زفاف منائی ) اس وقت میں نو برس کی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، وابو كامل قالا حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا بنت سبع - قال سليمان او ست - ودخل بي وانا بنت تسع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني محمد بن ابي بكر، عن عبد الملك بن ابي بكر، عن ابيه، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما تزوج ام سلمة اقام عندها ثلاثا ثم قال " ليس بك على اهلك هوان ان شيت سبعت لك وان سبعت لك سبعت لنسايي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ تھیں ۱؎۔
حدثنا وهب بن بقية، وعثمان بن ابي شيبة، عن هشيم، عن حميد، عن انس بن مالك، قال لما اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية اقام عندها ثلاثا . زاد عثمان وكانت ثيبا . وقال حدثني هشيم اخبرنا حميد اخبرنا انس
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ سنت اسی طرح ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، واسماعيل ابن علية، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال اذا تزوج البكر على الثيب اقام عندها سبعا . واذا تزوج الثيب اقام عندها ثلاثا . ولو قلت انه رفعه لصدقت ولكنه قال السنة كذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہاری حطمی زرہ۱؎ کہاں ہے؟ ۲؎۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، حدثنا عبدة، حدثنا سعيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما تزوج علي فاطمة قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطها شييا " . قال ما عندي شىء . قال " اين درعك الحطمية