Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابن حجش کے نکاح میں تھیں، ان کا انتقال ہو گیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سر زمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی (شاہ حبش) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور وہ انہیں لوگوں کے پاس (ملک حبش ہی میں) تھیں۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن ام حبيبة، انها كانت عند ابن جحش فهلك عنها - وكان فيمن هاجر الى ارض الحبشة - فزوجها النجاشي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي عندهم
معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا، اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آ گئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کر دیا، پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، پھر جب اس کے لیے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آ گیا تو وہی پھر پیغام دینے آ گئے، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا، تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیا، اور ان سے اس کا نکاح کر دیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني ابو عامر، حدثنا عباد بن راشد، عن الحسن، حدثني معقل بن يسار، قال كانت لي اخت تخطب الى فاتاني ابن عم لي فانكحتها اياه ثم طلقها طلاقا له رجعة ثم تركها حتى انقضت عدتها فلما خطبت الى اتاني يخطبها فقلت لا والله لا انكحها ابدا . قال ففي نزلت هذه الاية { واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن } الاية . قال فكفرت عن يميني فانكحتها اياه
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو وہ اس کی ہو گی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیز کو دو آدمیوں سے فروخت کر دیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، ح وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - المعنى - عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة زوجها وليان فهي للاول منهما وايما رجل باع بيعا من رجلين فهو للاول منهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو ( سورۃ البقرہ: ۱۹ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس ( آدمی ) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسباط بن محمد، حدثنا الشيباني، عن عكرمة، عن ابن عباس، - قال الشيباني وذكره عطاء ابو الحسن السوايي ولا اظنه الا عن ابن عباس، - في هذه الاية { لا يحل لكم ان ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن } قال كان الرجل اذا مات كان اولياوه احق بامراته من ولي نفسها ان شاء بعضهم زوجها او زوجوها وان شاءوا لم يزوجوها فنزلت هذه الاية في ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { لا يحل لكم ان ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما اتيتموهن الا ان ياتين بفاحشة مبينة } وذلك ان الرجل كان يرث امراة ذي قرابته فيعضلها حتى تموت او ترد اليه صداقها فاحكم الله عن ذلك ونهى عن ذلك
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔
حدثنا احمد بن شبوية المروزي، حدثنا عبد الله بن عثمان، عن عيسى بن عبيد، عن عبيد الله، مولى عمر عن الضحاك، بمعناه قال فوعظ الله ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کی اجازت یہ ہے کہ ) وہ خاموش رہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنكح الثيب حتى تستامر ولا البكر الا باذنها " . قالوا يا رسول الله وما اذنها قال " ان تسكت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد يعني ابن زريع، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - المعنى - حدثني محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تستامر اليتيمة في نفسها فان سكتت فهو اذنها وان ابت فلا جواز عليها " . والاخبار في حديث يزيد . قال ابو داود وكذلك رواه ابو خالد سليمان بن حيان ومعاذ عن محمد بن عمرو
اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں «فإن بكت أو سكتت» اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے یعنی «بكت» ( رو پڑے ) کا اضافہ ہے، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» ( رو پڑے ) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ادريس، عن محمد بن عمرو، بهذا الحديث باسناده زاد فيه قال " فان بكت او سكتت " . زاد " بكت " . قال ابو داود وليس " بكت " . بمحفوظ وهو وهم في الحديث الوهم من ابن ادريس او من محمد بن العلاء . قال ابو داود ورواه ابو عمرو ذكوان عن عايشة قالت يا رسول الله ان البكر تستحي ان تتكلم . قال " سكاتها اقرارها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن اسماعيل بن امية، حدثني الثقة، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امروا النساء في بناتهن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن محمد، حدثنا جرير بن حازم، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان جارية، بكرا اتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ان اباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث . قال ابو داود لم يذكر ابن عباس وكذلك رواه الناس مرسلا معروف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، وعبد الله بن مسلمة، قالا اخبرنا مالك، عن عبد الله بن الفضل، عن نافع بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايم احق بنفسها من وليها والبكر تستاذن في نفسها واذنها صماتها " . وهذا لفظ القعنبي
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن زياد بن سعد، عن عبد الله بن الفضل، باسناده ومعناه قال " الثيب احق بنفسها من وليها والبكر يستامرها ابوها " . قال ابو داود " ابوها " . ليس بمحفوظ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن صالح بن كيسان، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس للولي مع الثيب امر واليتيمة تستامر وصمتها اقرارها
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابنى يزيد الانصاريين عن خنساء بنت خدام الانصارية، ان اباها، زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فرد نكاحها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم ( اپنی بچیوں کی ) شادی کرو اور ( ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے ) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ۱؎ ، اور فرمایا: تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے ۔
حدثنا عبد الواحد بن غياث، حدثنا حماد، حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان ابا هند، حجم النبي صلى الله عليه وسلم في اليافوخ فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بني بياضة انكحوا ابا هند وانكحوا اليه " . قال " وان كان في شىء مما تداوون به خير فالحجامة
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران ( یہ جاہلیت کی جنگ ہے ) میں حاضر تھا، ( ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے ) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہو گا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے ( یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے ) ، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ( گھبراؤ مت ) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ «قتیر» کا مطلب بڑھاپا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن المثنى، - المعنى - قالا حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عبد الله بن يزيد بن مقسم الثقفي، - من اهل الطايف - حدثتني سارة بنت مقسم، انها سمعت ميمونة بنت كردم، قالت خرجت مع ابي في حجة رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فدنا اليه ابي وهو على ناقة له فوقف له واستمع منه ومعه درة كدرة الكتاب فسمعت الاعراب والناس وهم يقولون الطبطبية الطبطبية الطبطبية فدنا اليه ابي فاخذ بقدمه فاقر له ووقف عليه واستمع منه فقال اني حضرت جيش عثران - قال ابن المثنى جيش غثران - فقال طارق بن المرقع من يعطيني رمحا بثوابه قلت وما ثوابه قال ازوجه اول بنت تكون لي . فاعطيته رمحي ثم غبت عنه حتى علمت انه قد ولد له جارية وبلغت ثم جيته فقلت له اهلي جهزهن الى . فحلف ان لا يفعل حتى اصدقه صداقا جديدا غير الذي كان بيني وبينه وحلفت لا اصدق غير الذي اعطيته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وبقرن اى النساء هي اليوم " . قال قد رات القتير . قال " ارى ان تتركها " . قال فراعني ذلك ونظرت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راى ذلك مني قال " لا تاثم ولا ياثم صاحبك " . قال ابو داود القتير الشيب
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ ( تپتی زمین سے ) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابراهيم بن ميسرة، ان خالته، اخبرته عن امراة، قالت هي مصدقة امراة صدق قالت بينا ابي في غزاة في الجاهلية اذ رمضوا فقال رجل من يعطيني نعليه وانكحه اول بنت تولد لي فخلع ابي نعليه فالقاهما اليه فولدت له جارية فبلغت وذكر نحوه ولم يذكر قصة القتير
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی ازواج مطہرات ) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا يزيد بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة - رضى الله عنها - عن صداق النبي صلى الله عليه وسلم قالت ثنتا عشرة اوقية ونش . فقلت وما نش قالت نصف اوقية