Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ اور بھانجی اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني قبيصة بن ذويب، انه سمع ابا هريرة، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يجمع بين المراة وخالتها وبين المراة وعمتها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا خطاب بن القاسم، عن خصيف، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره ان يجمع بين العمة والخالة وبين الخالتين والعمتين
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن» ۲؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول: «وترغبون أن تنكحوهن» سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو ( کسی اور عورت سے نکاح کر لو ) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کر دیا ہے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، انه سال عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى { وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء } قالت يا ابن اختي هي اليتيمة تكون في حجر وليها فتشاركه في ماله فيعجبه مالها وجمالها فيريد ان يتزوجها بغير ان يقسط في صداقها فيعطيها مثل ما يعطيها غيره فنهوا ان ينكحوهن الا ان يقسطوا لهن ويبلغوا بهن اعلى سنتهن من الصداق وامروا ان ينكحوا ما طاب لهم من النساء سواهن . قال عروة قالت عايشة ثم ان الناس استفتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذه الاية فيهن فانزل الله عز وجل { ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا توتونهن ما كتب لهن وترغبون ان تنكحوهن } قالت والذي ذكر الله انه يتلى عليهم في الكتاب الاية الاولى التي قال الله سبحانه وتعالى { وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء } قالت عايشة وقول الله عز وجل في الاية الاخرة { وترغبون ان تنكحوهن } هي رغبة احدكم عن يتيمته التي تكون في حجره حين تكون قليلة المال والجمال فنهوا ان ينكحوا ما رغبوا في مالها وجمالها من يتامى النساء الا بالقسط من اجل رغبتهم عنهن . قال يونس وقال ربيعة في قول الله عز وجل { وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى } قال يقول اتركوهن ان خفتم فقد احللت لكم اربعا
علی بن حسین کا بیان ہے وہ لوگ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے، اللہ کی قسم! اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ۱؎۔ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی ۲؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں جوان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی آزمائش سے دو چار نہ ہو جائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی، اور فرمایا: جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعاً نہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثني ابي، عن الوليد بن كثير، حدثني محمد بن عمرو بن حلحلة الدولي، ان ابن شهاب، حدثه ان علي بن الحسين حدثه انهم، حين قدموا المدينة من عند يزيد بن معاوية مقتل الحسين بن علي - رضى الله عنهما - لقيه المسور بن مخرمة فقال له هل لك الى من حاجة تامرني بها قال فقلت له لا . قال هل انت معطي سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم فاني اخاف ان يغلبك القوم عليه وايم الله لين اعطيتنيه لا يخلص اليه ابدا حتى يبلغ الى نفسي ان علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - خطب بنت ابي جهل على فاطمة - رضى الله عنها - فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب الناس في ذلك على منبره هذا وانا يوميذ محتلم فقال " ان فاطمة مني وانا اتخوف ان تفتن في دينها " . قال ثم ذكر صهرا له من بني عبد شمس فاثنى عليه في مصاهرته اياه فاحسن قال " حدثني فصدقني ووعدني فوفى لي واني لست احرم حلالا ولا احل حراما ولكن والله لا تجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله مكانا واحدا ابدا
ابن ابی ملیکہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کر لی۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثني عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، بهذا الخبر قال فسكت علي عن ذلك النكاح
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے ۱؎ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرانے کی اجازت مجھ سے مانگی ہے تو میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، وقتيبة بن سعيد، - المعنى - قال احمد حدثنا الليث، حدثني عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة القرشي التيمي، ان المسور بن مخرمة، حدثه انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول " ان بني هشام بن المغيرة استاذنوني ان ينكحوا ابنتهم من علي بن ابي طالب فلا اذن ثم لا اذن ثم لا اذن الا ان يريد ابن ابي طالب ان يطلق ابنتي وينكح ابنتهم فانما ابنتي بضعة مني يريبني ما ارابها ويوذيني ما اذاها " . والاخبار في حديث احمد
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ ۱؎ کا ذکر ہم میں چل پڑا، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا ہے ۲؎۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا عبد الوارث، عن اسماعيل بن امية، عن الزهري، قال كنا عند عمر بن عبد العزيز فتذاكرنا متعة النساء فقال له رجل يقال له ربيع بن سبرة اشهد على ابي انه حدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها في حجة الوداع
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ربيع بن سبرة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم حرم متعة النساء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ مسدد نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے: میں نے نافع سے پوچھا: شغار ۱؎ کیا ہے؟ انہوں نے کہا آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح ( بغیر مہر کے ) کرے، اور اپنی بیٹی کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے اسی طرح کسی کی بہن سے ( بغیر مہر کے ) نکاح کرے اور اپنی بہن کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے ۲؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، كلاهما عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار . زاد مسدد في حديثه قلت لنافع ما الشغار قال ينكح ابنة الرجل وينكحه ابنته بغير صداق وينكح اخت الرجل وينكحه اخته بغير صداق
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، ان العباس بن عبد الله بن العباس، انكح عبد الرحمن بن الحكم ابنته وانكحه عبد الرحمن ابنته وكانا جعلا صداقا فكتب معاوية الى مروان يامره بالتفريق بينهما وقال في كتابه هذا الشغار الذي نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۱؎ ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثني اسماعيل، عن عامر، عن الحارث، عن علي، رضى الله عنه - قال اسماعيل واراه قد رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم - ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله المحلل والمحلل له
حارث الاعور رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن حصين، عن عامر، عن الحارث الاعور، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال فراينا انه علي - عليه السلام - عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے وہ زانی ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، وعثمان بن ابي شيبة، - وهذا لفظ اسناده - وكلاهما عن وكيع، حدثنا الحسن بن صالح، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما عبد تزوج بغير اذن مواليه فهو عاهر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا ابو قتيبة، عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نكح العبد بغير اذن مولاه فنكاحه باطل " . قال ابو داود هذا الحديث ضعيف وهو موقوف وهو قول ابن عمر رضى الله عنهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يخطب الرجل على خطبة اخيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يخطب احدكم على خطبة اخيه ولا يبيع على بيع اخيه الا باذنه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے ۱؎ ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کر لی۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا محمد بن اسحاق، عن داود بن حصين، عن واقد بن عبد الرحمن، - يعني ابن سعد بن معاذ - عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا خطب احدكم المراة فان استطاع ان ينظر الى ما يدعوه الى نكاحها فليفعل " . قال فخطبت جارية فكنت اتخبا لها حتى رايت منها ما دعاني الى نكاحها وتزوجها فتزوجتها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا، ( پھر فرمایا ) اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ۲؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، اخبرنا ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة نكحت بغير اذن مواليها فنكاحها باطل " . ثلاث مرات " فان دخل بها فالمهر لها بما اصاب منها فان تشاجروا فالسلطان ولي من لا ولي له
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثني القعنبي، حدثنا ابن لهيعة، عن جعفر، - يعني ابن ربيعة - عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود جعفر لم يسمع من الزهري كتب اليه
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا ابو عبيدة الحداد، عن يونس، واسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن ابي موسى، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا نكاح الا بولي " . قال ابو داود هو يونس عن ابي بردة واسراييل عن ابي اسحاق عن ابي بردة