Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
علقمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چل رہا تھا کہ اچانک ان کی ملاقات عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی تو وہ ان کو لے کر خلوت میں گئے، جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں ( شادی کی ) ضرورت نہیں ہے تو مجھ سے کہا: علقمہ! آ جاؤ ۱؎ تو میں گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ ۲؎ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم آپ کی شادی ایک کنواری لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید آپ کی دیرینہ طاقت و نشاط واپس آ جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ایسی بات کہہ رہے ہیں تو میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سن چکا ہوں کہ تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیئے کیونکہ یہ نگاہ کو خوب پست رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی چیز ہے اور جو تم میں سے اس کے اخراجات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ ہے، یہ اس کی شہوت کے لیے توڑ ہو گا ۳؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال اني لامشي مع عبد الله بن مسعود بمنى اذ لقيه عثمان فاستخلاه فلما راى عبد الله ان ليست له حاجة قال لي تعال يا علقمة فجيت فقال له عثمان الا نزوجك يا ابا عبد الرحمن بجارية بكر لعله يرجع اليك من نفسك ما كنت تعهد فقال عبد الله لين قلت ذاك لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من استطاع منكم الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع منكم فعليه بالصوم فانه له وجاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - يعني ابن سعيد - حدثني عبيد الله، حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تنكح النساء لاربع لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے یا غیر کنواری سے؟ میں نے کہا غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو معاوية، اخبرنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتزوجت " . قلت نعم . قال " بكرا ام ثيبا " . فقلت ثيبا . قال " افلا بكر تلاعبها وتلاعبك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
قال ابو داود كتب الى حسين بن حريث المروزي حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن عمارة بن ابي حفصة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي لا تمنع يد لامس . قال " غربها " . قال اخاف ان تتبعها نفسي . قال " فاستمتع بها
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر وہ آپ کے پاس دوسری بار آیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوب محبت کرنے والی اور خوب جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ ( بروز قیامت ) میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا مستلم بن سعيد ابن اخت، منصور بن زاذان عن منصور، - يعني ابن زاذان - عن معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني اصبت امراة ذات حسب وجمال وانها لا تلد افاتزوجها قال " لا " . ثم اتاه الثانية فنهاه ثم اتاه الثالثة فقال " تزوجوا الودود الولود فاني مكاثر بكم الامم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ قیدیوں کو مکہ سے اٹھا لایا کرتے تھے، مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت تھی جو ان کی آشنا تھی، مرثد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں عناق سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو آیت کریمہ«والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور اسے پڑھ کر سنایا اور فرمایا: تم اس سے شادی نہ کرنا ۔
حدثنا ابراهيم بن محمد التيمي، حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان مرثد بن ابي مرثد الغنوي، كان يحمل الاسارى بمكة وكان بمكة بغي يقال لها عناق وكانت صديقته قال جيت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انكح عناق قال فسكت عني فنزلت { والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك } فدعاني فقراها على وقال " لا تنكحها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنی جیسی عورت ہی سے شادی کرے ۔
حدثنا مسدد، وابو معمر قالا حدثنا عبد الوارث، عن حبيب، حدثني عمرو بن شعيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينكح الزاني المجلود الا مثله " . وقال ابو معمر حدثني حبيب المعلم عن عمرو بن شعيب
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لیے دوہرا ثواب ہے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبثر، عن مطرف، عن عامر، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق جاريته وتزوجها كان له اجران
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن قتادة، وعبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتق صفية وجعل عتقها صداقها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عروة، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن ( عزہ ) میں رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں کیا کروں ، انہوں نے کہا: آپ ان سے نکاح کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن سے؟ انہوں نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ ( سوکن ) پسند کرو گی؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں جتنی عورتیں میرے ساتھ خیر میں شریک ہیں ان سب میں اپنی بہن کا ہونا مجھے زیادہ پسند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کہا: اللہ کی قسم مجھے تو بتایا گیا ہے کہ آپ درہ یا ذرہ بنت ابی سلمہ ( یہ شک زہیر کو ہوا ہے ) کو پیغام دے رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی کو؟ کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ( وہ تو میری ربیبہ ہے ) اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی تو وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر ( نکاح کے لیے ) پیش نہ کیا کرو ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان ام حبيبة، قالت يا رسول الله هل لك في اختي قال " فافعل ماذا " . قالت فتنكحها . قال " اختك " . قالت نعم . قال " اوتحبين ذاك " . قالت لست بمخلية بك واحب من شركني في خير اختي . قال " فانها لا تحل لي " . قالت فوالله لقد اخبرت انك تخطب درة - او ذرة شك زهير - بنت ابي سلمة . قال " بنت ام سلمة " . قالت نعم . قال " اما والله لو لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي انها ابنة اخي من الرضاعة ارضعتني واباها ثويبة فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، اخبرنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت دخل على افلح بن ابي القعيس فاستترت منه . قال تستترين مني وانا عمك قالت قلت من اين قال ارضعتك امراة اخي . قالت انما ارضعتني المراة ولم يرضعني الرجل . فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال " انه عمك فليلج عليك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، ( حفص کی روایت میں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری، آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ( پھر حفص اور شعبہ دونوں کی روایتیں متفق ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح دیکھ لو کون تمہارے بھائی ہیں؟ کیونکہ رضاعت تو غذا سے ثابت ہوتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن اشعث بن سليم، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة المعنى، واحد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها رجل قال حفص فشق ذلك عليه وتغير وجهه - ثم اتفقا - قالت يا رسول الله انه اخي من الرضاعة . فقال " انظرن من اخوانكن فانما الرضاعة من المجاعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رضاعت وہی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرے اور گوشت بڑھائے، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عالم کی موجودگی میں تم لوگ ہم سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔
حدثنا عبد السلام بن مطهر، ان سليمان بن المغيرة، حدثهم عن ابي موسى، عن ابيه، عن ابن لعبد الله بن مسعود، عن ابن مسعود، قال لا رضاع الا ما شد العظم وانبت اللحم . فقال ابو موسى لا تسالونا وهذا الحبر فيكم
اس سند سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن اس میں: «شد العظم» کے بجائے «أنشز العظم» کا لفظ ہے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سليمان بن المغيرة، عن ابي موسى الهلالي، عن ابيه، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه وقال انشز العظم
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو ( جو کہ ایک انصاری عورت کے غلام تھے ) منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا، اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ان کا نکاح کرا دیا، زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنی طرف منسوب کرتے تھے اور اسے ان کی میراث بھی دی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت: «ادعوهم لآبائهم» سے «فإخوانكم في الدين ومواليكم» ۱؎ تک نازل فرمائی تو وہ اپنے اصل باپ کی طرف منسوب ہونے لگے، اور جس کے باپ کا علم نہ ہوتا اسے مولیٰ اور دینی بھائی سمجھتے۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ثم عامری جو کہ ابوحذیفہ کی بیوی تھیں آئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے، اور مجھے گھر کے کپڑوں میں کھلا دیکھتے تھے اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے بارے میں جو حکم نازل فرما دیا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے لہٰذا اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں دودھ پلا دو ، چنانچہ انہوں نے انہیں پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا، اور وہ ان کے رضاعی بیٹے ہو گئے، اسی کے پیش نظر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اس شخص کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیں جسے دیکھنا یا اس کے سامنے آنا چاہتی ہوں گرچہ وہ بڑی عمر کا آدمی ہی کیوں نہ ہو پھر وہ ان کے پاس آتا جاتا، لیکن ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کا انکار کیا جب تک کہ دودھ پلانا بچپن میں نہ ہو اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں یہ معلوم نہیں شاید یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صرف سالم کے لیے رخصت رہی ہو نہ کہ دیگر لوگوں کے لیے ۲؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثني يونس، عن ابن شهاب، حدثني عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم وام سلمة ان ابا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس كان تبنى سالما وانكحه ابنة اخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة وهو مولى لامراة من الانصار كما تبنى رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس اليه وورث ميراثه حتى انزل الله سبحانه وتعالى في ذلك { ادعوهم لابايهم } الى قوله { فاخوانكم في الدين ومواليكم } فردوا الى ابايهم فمن لم يعلم له اب كان مولى واخا في الدين فجاءت سهلة بنت سهيل بن عمرو القرشي ثم العامري - وهي امراة ابي حذيفة - فقالت يا رسول الله انا كنا نرى سالما ولدا وكان ياوي معي ومع ابي حذيفة في بيت واحد ويراني فضلا وقد انزل الله عز وجل فيهم ما قد علمت فكيف ترى فيه فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " ارضعيه " . فارضعته خمس رضعات فكان بمنزلة ولدها من الرضاعة فبذلك كانت عايشة - رضى الله عنها - تامر بنات اخواتها وبنات اخوتها ان يرضعن من احبت عايشة ان يراها ويدخل عليها وان كان كبيرا خمس رضعات ثم يدخل عليها وابت ام سلمة وساير ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان يدخلن عليهن بتلك الرضاعة احدا من الناس حتى يرضع في المهد وقلن لعايشة والله ما ندري لعلها كانت رخصة من النبي صلى الله عليه وسلم لسالم دون الناس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں «عشر رضعات يحرمن» والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت «خمس معلومات يحرمن» والی آیت سے منسوخ ہو گئی، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور یہ آیتیں پڑھی جا رہی تھیں ( یعنی بعض لوگ پڑھتے تھے پھر وہ بھی متروک ہو گئیں ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، انها قالت كان فيما انزل الله عز وجل من القران عشر رضعات يحرمن ثم نسخن بخمس معلومات يحرمن فتوفي النبي صلى الله عليه وسلم وهن مما يقرا من القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحرم المصة ولا المصتان
حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دودھ پلانے کا حق مجھ سے کس طرح ادا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی یا غلام ( دودھ پلانے والی کو خدمت کے لیے دے دینے ) سے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا ابن العلاء، حدثنا ابن ادريس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن حجاج بن حجاج، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ما يذهب عني مذمة الرضاعة قال " الغرة العبد او الامة " . قال النفيلي حجاج بن حجاج الاسلمي وهذا لفظه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی بھانجی کے نکاح میں رہتے ہوئے خالہ سے نکاح درست ہے، غرض یہ کہ چھوٹی کے رہتے ہوئے بڑی سے اور بڑی کے رہتے ہوئے چھوٹی سے نکاح جائز نہیں ہے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا داود بن ابي هند، عن عامر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنكح المراة على عمتها ولا العمة على بنت اخيها ولا المراة على خالتها ولا الخالة على بنت اختها ولا تنكح الكبرى على الصغرى ولا الصغرى على الكبرى