Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی زرہ ہی دے دو ، چنانچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا ابو حيوة، عن شعيب، - يعني ابن ابي حمزة - حدثني غيلان بن انس، حدثني محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان عليا عليه السلام لما تزوج فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورضي الله عنها اراد ان يدخل بها فمنعه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يعطيها شييا فقال يا رسول الله ليس لي شىء . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اعطها درعك " . فاعطاها درعه ثم دخل بها
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
حدثنا كثير، - يعني ابن عبيد - حدثنا ابو حيوة، عن شعيب، عن غيلان، عن عكرمة، عن ابن عباس، مثله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزار، حدثنا شريك، عن منصور، عن طلحة، عن خيثمة، عن عايشة، قالت امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ادخل امراة على زوجها قبل ان يعطيها شييا . قال ابو داود خيثمة لم يسمع من عايشة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا محمد بن بكر البرساني، اخبرنا ابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة نكحت على صداق او حباء او عدة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن اعطيه واحق ما اكرم عليه الرجل ابنته او اخته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رفا الانسان اذا تزوج قال " بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے – ( حسن کی روایت میں ) تو تو اسے کوڑے لگا ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا ۔
حدثنا مخلد بن خالد، والحسن بن علي، ومحمد بن ابي السري، - المعنى - قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن المسيب، عن رجل، من الانصار - قال ابن ابي السري من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ولم يقل من الانصار ثم اتفقوا - يقال له بصرة قال تزوجت امراة بكرا في سترها فدخلت عليها فاذا هي حبلى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لها الصداق بما استحللت من فرجها والولد عبد لك فاذا ولدت " . قال الحسن " فاجلدها " . وقال ابن ابي السري " فاجلدوها " . او قال " فحدوها " . قال ابو داود روى هذا الحديث قتادة عن سعيد بن يزيد عن ابن المسيب ورواه يحيى بن ابي كثير عن يزيد بن نعيم عن سعيد بن المسيب وعطاء الخراساني عن سعيد بن المسيب ارسلوه كلهم . وفي حديث يحيى بن ابي كثير ان بصرة بن اكثم نكح امراة وكلهم قال في حديثه جعل الولد عبدا له
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي، - يعني ابن المبارك - عن يحيى، عن يزيد بن نعيم، عن سعيد بن المسيب، ان رجلا، يقال له بصرة بن اكثم نكح امراة فذكر معناه . وزاد وفرق بينهما . وحديث ابن جريج اتم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كانت له امراتان فمال الى احداهما جاء يوم القيامة وشقه مايل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد الخطمي، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم فيعدل ويقول " اللهم هذا قسمي فيما املك فلا تلمني فيما تملك ولا املك " . يعني القلب
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء: ۱۲۸ ) نازل کی: اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن ابي الزناد - عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال قالت عايشة يا ابن اختي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا وكان قل يوم الا وهو يطوف علينا جميعا فيدنو من كل امراة من غير مسيس حتى يبلغ الى التي هو يومها فيبيت عندها ولقد قالت سودة بنت زمعة حين اسنت وفرقت ان يفارقها رسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله يومي لعايشة . فقبل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم منها قالت نقول في ذلك انزل الله تعالى وفي اشباهها اراه قال { وان امراة خافت من بعلها نشوزا}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آیت کریمہ: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں ( سورۃ الاحزاب: ۵۱ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔
حدثنا يحيى بن معين، ومحمد بن عيسى، - المعنى - قالا حدثنا عباد بن عباد، عن عاصم، عن معاذة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاذننا اذا كان في يوم المراة منا بعد ما نزلت { ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء } قالت معاذة فقلت لها ما كنت تقولين لرسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كنت اقول ان كان ذلك الى لم اوثر احدا على نفسي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چنانچہ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی۔
حدثنا مسدد، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار، حدثني ابو عمران الجوني، عن يزيد بن بابنوس، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الى النساء - تعني في مرضه - فاجتمعن فقال " اني لا استطيع ان ادور بينكن فان رايتن ان تاذن لي فاكون عند عايشة فعلتن " . فاذن له
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، ان عروة بن الزبير، حدثه ان عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد سفرا اقرع بين نسايه فايتهن خرج سهمها خرج بها معه وكان يقسم لكل امراة منهن يومها وليلتها غير ان سودة بنت زمعة وهبت يومها لعايشة
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرني الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ان احق الشروط ان توفوا به ما استحللتم به الفروج
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن حصين، عن الشعبي، عن قيس بن سعد، قال اتيت الحيرة فرايتهم يسجدون لمرزبان لهم فقلت رسول الله احق ان يسجد له قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اني اتيت الحيرة فرايتهم يسجدون لمرزبان لهم فانت يا رسول الله احق ان نسجد لك . قال " ارايت لو مررت بقبري اكنت تسجد له " . قال قلت لا . قال " فلا تفعلوا لو كنت امرا احدا ان يسجد لاحد لامرت النساء ان يسجدن لازواجهن لما جعل الله لهم عليهن من الحق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعا الرجل امراته الى فراشه فابت فلم تاته فبات غضبان عليها لعنتها الملايكة حتى تصبح
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ابو قزعة الباهلي، عن حكيم بن معاوية القشيري، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ما حق زوجة احدنا عليه قال " ان تطعمها اذا طعمت وتكسوها اذا اكتسيت - او اكتسبت - ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر الا في البيت " . قال ابو داود " ولا تقبح " . ان تقول قبحك الله
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ ہیں وسلم نے جواب دیا: اپنی کھیتی ۱؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو، اور نہ ہی اس کو مارو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ نے «أطعمها إذا طعمت واكسها إذا اكتسيت» کے بجائے «تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت» روایت کیا ہے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا بهز بن حكيم، حدثني ابي، عن جدي، قال قلت يا رسول الله نساونا ما ناتي منهن وما نذر قال " ايت حرثك انى شيت واطعمها اذا طعمت واكسها اذا اكتسيت ولا تقبح الوجه ولا تضرب " . قال ابو داود روى شعبة " تطعمها اذا طعمت وتكسوها اذا اكتسيت
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ، اور نہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو ۔
اخبرني احمد بن يوسف المهلبي النيسابوري، حدثنا عمر بن عبد الله بن رزين، حدثنا سفيان بن حسين، عن داود الوراق، عن سعيد بن حكيم، عن ابيه، عن جده، معاوية القشيري قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فقلت ما تقول في نساينا قال " اطعموهن مما تاكلون واكسوهن مما تكتسون ولا تضربوهن ولا تقبحوهن
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں ( تنہا ) چھوڑ دو ۔ حماد کہتے ہیں: یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن ابي حرة الرقاشي، عن عمه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " فان خفتم نشوزهن فاهجروهن في المضاجع " . قال حماد يعني النكاح