Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ( آپ کے اس فرمان کے بعد ) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ ( مار پیٹ کرنے والے ) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں ۔
حدثنا احمد بن ابي خلف، واحمد بن عمرو بن السرح، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبد الله بن عبد الله، - قال ابن السرح عبيد الله بن عبد الله - عن اياس بن عبد الله بن ابي ذباب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تضربوا اماء الله " . فجاء عمر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ذيرن النساء على ازواجهن . فرخص في ضربهن فاطاف بال رسول الله صلى الله عليه وسلم نساء كثير يشكون ازواجهن فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد طاف بال محمد نساء كثير يشكون ازواجهن ليس اوليك بخياركم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا ابو عوانة، عن داود بن عبد الله الاودي، عن عبد الرحمن المسلي، عن الاشعث بن قيس، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يسال الرجل فيما ضرب امراته
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثني يونس بن عبيد، عن عمرو بن سعيد، عن ابي زرعة، عن جرير، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظرة الفجاة فقال " اصرف بصرك
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، اخبرنا شريك، عن ابي ربيعة الايادي، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي " يا علي لا تتبع النظرة النظرة فان لك الاولى وليست لك الاخرة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تباشر المراة المراة لتنعتها لزوجها كانما ينظر اليها
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو ( اپنی بیوی ) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى امراة فدخل على زينب بنت جحش فقضى حاجته منها ثم خرج الى اصحابه فقال لهم " ان المراة تقبل في صورة شيطان فمن وجد من ذلك شييا فليات اهله فانه يضمر ما في نفسه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ( قرآن میں وارد لفظ ) «لمم» ( چھوٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا ( غیر محرم کو بنظر شہوت ) دیکھنا ہے زبان کا زنا ( غیر محرم سے شہوت کی ) بات کرنی ہے، ( انسان کا ) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، اخبرنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال ما رايت شييا اشبه باللمم مما قال ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله كتب على ابن ادم حظه من الزنا ادرك ذلك لا محالة فزنا العينين النظر وزنا اللسان المنطق والنفس تمنى وتشتهي والفرج يصدق ذلك ويكذبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لكل ابن ادم حظه من الزنا " . بهذه القصة قال " واليدان تزنيان فزناهما البطش والرجلان تزنيان فزناهما المشى والفم يزني فزناه القبل
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة قال " والاذن زناها الاستماع
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں ( سورۃ النساء: ۲۴ ) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن ابي علقمة الهاشمي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث يوم حنين بعثا الى اوطاس فلقوا عدوهم فقاتلوهم فظهروا عليهم واصابوا لهم سبايا فكان اناسا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم تحرجوا من غشيانهن من اجل ازواجهن من المشركين فانزل الله تعالى في ذلك { والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم } اى فهن لهم حلال اذا انقضت عدتهن
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مسكين، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن ابي الدرداء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في غزوة فراى امراة مجحا فقال " لعل صاحبها الم بها " . قالوا نعم . فقال " لقد هممت ان العنه لعنة تدخل معه في قبره كيف يورثه وهو لا يحل له وكيف يستخدمه وهو لا يحل له
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ”کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے“۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا شريك، عن قيس بن وهب، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد الخدري، ورفعه، انه قال في سبايا اوطاس " لا توطا حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ”اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن ابي مرزوق، عن حنش الصنعاني، عن رويفع بن ثابت الانصاري، قال قام فينا خطيبا قال اما اني لا اقول لكم الا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم حنين قال " لا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يسقي ماءه زرع غيره " . يعني اتيان الحبالى " ولا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يقع على امراة من السبى حتى يستبريها ولا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يبيع مغنما حتى يقسم
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے ، اس میں «بحيضة» کا اضافہ ہے، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو معاوية، عن ابن اسحاق، بهذا الحديث قال " حتى يستبريها بحيضة " . زاد فيه { بحيضة وهو وهم من ابي معاوية، وهو صحيح في حديث ابي سعيد زاد } " ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يركب دابة من فىء المسلمين حتى اذا اعجفها ردها فيه ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يلبس ثوبا من فىء المسلمين حتى اذا اخلقه رده فيه " . قال ابو داود الحيضة ليست بمحفوظة وهو وهم من ابي معاوية
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها ومن شر ما جبلتها عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں، جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے، اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا ابو خالد، - يعني سليمان بن حيان - عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا تزوج احدكم امراة او اشترى خادما فليقل اللهم اني اسالك خيرها وخير ما جبلتها عليه واعوذ بك من شرها ومن شر ما جبلتها عليه واذا اشترى بعيرا فلياخذ بذروة سنامه وليقل مثل ذلك " . قال ابو داود زاد ابو سعيد " ثم لياخذ بناصيتها وليدع بالبركة " . في المراة والخادم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا جرير، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان احدكم اذا اراد ان ياتي اهله قال بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا ثم قدر ان يكون بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان ابدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کی دبر ( پاخانہ کے مقام ) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے ۔
حدثنا هناد، عن وكيع، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن الحارث بن مخلد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ملعون من اتى امراته في دبرها
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورۃ البقرہ: ۲۲۳ ) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابرا، يقول ان اليهود يقولون اذا جامع الرجل اهله في فرجها من ورايها كان ولده احول فانزل الله سبحانه وتعالى { نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخشے ان کو «أنى شئتم» کے لفظ سے وہم ہو گیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود ( جو کہ اہل کتاب ہیں کے ) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی، چنانچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کر دیتے تھے اور آگے سے، پیچھے سے، اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے، مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی ( مشہور ) آسن رائج ہے، لہٰذا یا تو اس طرح کرو، ورنہ مجھ سے دور رہو، جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر لگ گئی چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے، اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے ۱؎۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن ابان بن صالح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال ان ابن عمر - والله يغفر له - اوهم انما كان هذا الحى من الانصار - وهم اهل وثن - مع هذا الحى من يهود - وهم اهل كتاب - وكانوا يرون لهم فضلا عليهم في العلم فكانوا يقتدون بكثير من فعلهم وكان من امر اهل الكتاب ان لا ياتوا النساء الا على حرف وذلك استر ما تكون المراة فكان هذا الحى من الانصار قد اخذوا بذلك من فعلهم وكان هذا الحى من قريش يشرحون النساء شرحا منكرا ويتلذذون منهن مقبلات ومدبرات ومستلقيات فلما قدم المهاجرون المدينة تزوج رجل منهم امراة من الانصار فذهب يصنع بها ذلك فانكرته عليه وقالت انما كنا نوتى على حرف فاصنع ذلك والا فاجتنبني حتى شري امرهما فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله عز وجل { نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم } اى مقبلات ومدبرات ومستلقيات يعني بذلك موضع الولد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «يسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو ( سورۃ البقرہ: ۲۲۲ ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ: یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم ( ان کی مخالفت میں ) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چنانچہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان اليهود، كانت اذا حاضت منهم امراة اخرجوها من البيت ولم يواكلوها ولم يشاربوها ولم يجامعوها في البيت فسيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله تعالى { يسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض } الى اخر الاية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جامعوهن في البيوت واصنعوا كل شىء غير النكاح " . فقالت اليهود ما يريد هذا الرجل ان يدع شييا من امرنا الا خالفنا فيه . فجاء اسيد بن حضير وعباد بن بشر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالا يا رسول الله ان اليهود تقول كذا وكذا افلا ننكحهن في المحيض فتمعر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ظننا ��ن قد وجد عليهما فخرجا فاستقبلتهما هدية من لبن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث في اثارهما فسقاهما فظننا انه لم يجد عليهما