Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن جابر بن صبح، قال سمعت خلاسا الهجري، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - تقول كنت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم نبيت في الشعار الواحد وانا حايض طامث فان اصابه مني شىء غسل مكانه ولم يعده وان اصاب - تعني ثوبه - منه شىء غسل مكانه ولم يعده وصلى فيه
عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، ومسدد، قالا حدثنا حفص، عن الشيباني، عن عبد الله بن شداد، عن خالته، ميمونة بنت الحارث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان يباشر امراة من نسايه وهي حايض امرها ان تتزر ثم يباشرها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھتا ہے فرمایا: وہ ایک یا آدھا دینار ( بطور کفارہ ) صدقہ ادا کرے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، - غيره عن سعيد، - حدثني الحكم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي ياتي امراته وهي حايض قال " يتصدق بدينار او بنصف دينار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر دوران خون صحبت کی تو ایک دینار، اور خون بند ہو جانے پر صحبت کی تو آدھا دینار ( کفارہ ) ہے۔
حدثنا عبد السلام بن مطهر، حدثنا جعفر، - يعني ابن سليمان - عن علي بن الحكم البناني، عن ابي الحسن الجزري، عن مقسم، عن ابن عباس، قال اذا اصابها في الدم فدينار واذا اصابها في انقطاع الدم فنصف دينار
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل ۱؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ ( یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے ) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قزعہ، زیاد کے غلام ہیں۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن قزعة، عن ابي سعيد، ذكر ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم - يعني العزل - قال " فلم يفعل احدكم " . ولم يقل فلا يفعل احدكم " فانه ليست من نفس مخلوقة الا الله خالقها " . قال ابو داود قزعة مولى زياد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور مرد ہونے کے ناطے مجھے شہوت ہوتی ہے، حالانکہ یہود کہتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی چھوٹی شکل ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود جھوٹ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنا منظور ہو گا، تو تم اسے پھیر نہیں سکتے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، ان محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، حدثه ان رفاعة حدثه عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، قال يا رسول الله ان لي جارية وانا اعزل عنها وانا اكره ان تحمل وانا اريد ما يريد الرجال وان اليهود تحدث ان العزل موءودة الصغرى . قال " كذبت يهود لو اراد الله ان يخلقه ما استطعت ان تصرفه
عبداللہ بن محیریز کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہوا تو میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، ان سے عزل کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے، پھر ہم نے اپنے ( جی میں ) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں ( تو یہ کیونکر درست ہو گا ) چنانچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، قال دخلت المسجد فرايت ابا سعيد الخدري فجلست اليه فسالته عن العزل، فقال ابو سعيد خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة بني المصطلق فاصبنا سبيا من سبى العرب فاشتهينا النساء واشتدت علينا العزبة واحببنا الفداء فاردنا ان نعزل ثم قلنا نعزل ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا قبل ان نساله عن ذلك فسالناه عن ذلك فقال " ما عليكم ان لا تفعلوا ما من نسمة كاينة الى يوم القيامة الا وهي كاينة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ: میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو عزل کر لو، جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا ، ایک مدت کے بعد وہ شخص آ کر کہنے لگا، کہ لونڈی حاملہ ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا زهير، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جاء رجل من الانصار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان لي جارية اطوف عليها وانا اكره ان تحمل . فقال " اعزل عنها ان شيت فانه سياتيها ما قدر لها " . قال فلبث الرجل ثم اتاه فقال ان الجارية قد حملت . قال " قد اخبرتك انه سياتيها ما قدر لها
ابونضرہ کہتے ہیں: مجھ سے قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے بیان کیا کہ مدینہ میں میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی کو بھی مہمانوں کے معاملے میں ان سے زیادہ چاق و چوبند اور ان کی خاطر مدارات کرنے والا نہیں دیکھا، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں ان کے پاس تھا، وہ اپنے تخت پر بیٹھے تھے ان کے ساتھ ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں، نیچے ایک کالی کلوٹی لونڈی تھی، آپ رضی اللہ عنہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے، جب ( پڑھتے پڑھتے ) تھیلی ختم ہو جاتی تو انہیں لونڈی کی طرف ڈال دیتے، اور وہ انہیں دوبارہ تھیلی میں بھر کر دیتی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا ایک واقعہ نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا اور بخار میں مبتلا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے اور کہنے لگے: کس نے دوسی جوان ( ابوہریرہ ) کو دیکھا ہے؟ یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! وہ یہاں مسجد کے کونے میں ہیں، انہیں بخار ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا، اور مجھ سے بھلی بات کی تو میں اٹھ گیا، اور آپ چل کر اسی جگہ واپس آ گئے، جہاں نماز پڑھاتے تھے، اور لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو صف مردوں اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صف عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نماز میں شیطان مجھے کچھ بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز بھولے نہیں اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر امابعد کہا اور پہلے مردوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اپنی بیوی کے پاس آ کر، دروازہ بند کر لیتا ہے اور پردہ ڈال لیتا ہے اور اللہ کے پردے میں چھپ جاتا ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد وہ لوگوں میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: میں نے ایسا کیا میں نے ایسا کیا ، یہ سن کر لوگ خاموش رہے، مردوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے بھی پوچھا کہ: کیا کوئی تم میں ایسی ہے، جو ایسی باتیں کرتی ہے؟ ، تو وہ بھی خاموش رہیں، لیکن ایک نوجوان عورت اپنے ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہو کر اونچی ہو گئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ سکیں اور اس کی باتیں سن سکیں، اس نے کہا: اللہ کے رسول! اس قسم کی گفتگو مرد بھی کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو ایسے شخص کی مثال کیسی ہے؟ ، پھر خود ہی فرمایا: اس کی مثال اس شیطان عورت کی سی ہے جو گلی میں کسی شیطان مرد سے ملے، اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے، اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔ خبردار! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ظاہر ہو رنگ ظاہر نہ ہو اور خبردار! عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو بو ظاہر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے موسیٰ اور مومل کے یہ الفاظ یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کوئی مرد کسی مرد اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک بستر میں نہ لیٹے مگر اپنے باپ یا بیٹے کے ساتھ لیٹا جا سکتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ بیٹے اور باپ کے علاوہ ایک تیسرے آدمی کا بھی ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جو میں بھول گیا وہ مسدد والی روایت میں ہے، لیکن جیسا یاد رہنا چاہیئے وہ مجھے یاد نہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، حدثنا الجريري، ح وحدثنا مومل، حدثنا اسماعيل، ح وحدثنا موسى، حدثنا حماد، كلهم عن الجريري، عن ابي نضرة، حدثني شيخ، من طفاوة قال تثويت ابا هريرة بالمدينة فلم ار رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اشد تشميرا ولا اقوم على ضيف منه فبينما انا عنده يوما وهو على سرير له ومعه كيس فيه حصى او نوى - واسفل منه جارية له سوداء - وهو يسبح بها حتى اذا انفد ما في الكيس القاه اليها فجمعته فاعادته في الكيس فدفعته اليه فقال الا احدثك عني وعن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت بلى . قال بينا انا اوعك في المسجد اذ جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى دخل المسجد . فقال " من احس الفتى الدوسي " . ثلاث مرات . فقال رجل يا رسول الله هو ذا يوعك في جانب المسجد فاقبل يمشي حتى انتهى الى فوضع يده على فقال لي معروفا فنهضت فانطلق يمشي حتى اتى مقامه الذي يصلي فيه فاقبل عليهم ومعه صفان من رجال وصف من نساء او صفان من نساء وصف من رجال فقال " ان انساني الشيطان شييا من صلاتي فليسبح القوم وليصفق النساء " . قال فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينس من صلاته شييا . فقال " مجالسكم مجالسكم " . زاد موسى " ها هنا " . ثم حمد الله تعالى واثنى عليه ثم قال " اما بعد " . ثم اتفقوا ثم اقبل على الرجال فقال " هل منكم الرجل اذا اتى اهله فاغلق عليه بابه والقى عليه ستره واستتر بستر الله " . قالوا نعم . قال " ثم يجلس بعد ذلك فيقول فعلت كذا فعلت كذا " . قال فسكتوا قال فاقبل على النساء فقال " هل منكن من تحدث " . فسكتن فجثت فتاة - قال مومل في حديثه فتاة كعاب - على احدى ركبتيها وتطاولت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ليراها ويسمع كلامها فقالت يا رسول الله انهم ليتحدثون وانهن ليتحدثنه فقال " هل تدرون ما مثل ذلك " . فقال " انما ذلك مثل شيطانة لقيت شيطانا في السكة فقضى منها حاجته والناس ينظرون اليه الا وان طيب الرجال ما ظهر ريحه ولم يظهر لونه الا ان طيب النساء ما ظهر لونه ولم يظهر ريحه " . قال ابو داود من ها هنا حفظته عن مومل وموسى " الا لا يفضين رجل الى رجل ولا امراة الى امراة الا الى ولد او والد " . وذكر ثالثة فانسيتها وهو في حديث مسدد ولكني لم اتقنه كما احب وقال موسى حدثنا حماد عن الجريري عن ابي نضرة عن الطفاوي