Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا ‘ اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کی جنگ میں واقعی فرار ہو گئے تھے؟ ابواسحاق نے کہا میں سن رہا تھا ‘ براء رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹے تھے۔ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ‘ جس وقت مشرکین نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ سواری سے اترے اور ( تنہا میدان میں آ کر ) فرمانے لگے میں اللہ کا نبی ہوں ‘ اس میں بالکل جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ براء نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر اس دن کوئی بھی نہیں تھا۔
حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، قال سال رجل البراء رضى الله عنه فقال يا ابا عمارة، اوليتم يوم حنين قال البراء وانا اسمع اما رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يول يوميذ، كان ابو سفيان بن الحارث اخذا بعنان بغلته، فلما غشيه المشركون نزل، فجعل يقول انا النبي لا كذب، انا ابن عبد المطلب قال فما ريي من الناس يوميذ اشد منه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے ابوامامہ نے ‘ جو سہل بن حنیف کے لڑکے تھے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( سعد رضی اللہ عنہ کو ) بلایا۔ آپ وہیں قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ( کیونکہ زخمی تھے ) سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ‘ جب وہ آپ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ( اور ان کو سواری سے اتارو ) آخر آپ اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں ( بنو قریظہ کے یہودی ) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ ( اس لیے آپ ان کا فیصلہ کر دیں ) انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں ‘ انہیں قتل کر دیا جائے ‘ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي امامة هو ابن سهل بن حنيف عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال لما نزلت بنو قريظة على حكم سعد هو ابن معاذ بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان قريبا منه، فجاء على حمار، فلما دنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قوموا الى سيدكم ". فجاء فجلس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له " ان هولاء نزلوا على حكمك ". قال فاني احكم ان تقتل المقاتلة، وان تسبى الذرية. قال " لقد حكمت فيهم بحكم الملك
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے اتار رہے تھے تو ایک شخص ( ابوبرزہ اسلمی ) نے آ کر آپ کو خبر دی کہ ابن خطل ( اسلام کا بدترین دشمن ) کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے وہیں قتل کر دو۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح وعلى راسه المغفر، فلما نزعه جاء رجل فقال ان ابن خطل متعلق باستار الكعبة، فقال " اقتلوه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ اس سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عمرو بن سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی ‘ وہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دوست ‘ انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کی ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے بھیجی ‘ اس جماعت کا امیر عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا اور جماعت روانہ ہو گئی۔ جب یہ لوگ مقام ھداۃ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان میں ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کو کسی نے خبر دے دی اور اس قبیلہ کے دو سو تیر اندازوں کی جماعت ان کی تلاش میں نکلی ‘ یہ سب صحابہ کے نشانات قدم سے اندازہ لگاتے ہوئے چلتے چلتے آخر ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں ‘ جو وہ مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔ پیچھا کرنے والوں نے کہا کہ یہ ( گٹھلیاں ) تو یثرب ( مدینہ ) کی ( کھجوروں کی ) ہیں اور پھر قدم کے نشانوں سے اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ آخر عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب انہیں دیکھا تو ان سب نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی ‘ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آؤ ‘ تم سے ہمارا عہد و پیمان ہے۔ ہم کسی شخص کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ مہم کے امیر نے کہا کہ میں تو آج کسی صورت میں بھی ایک کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہماری حالت سے اپنے نبی کو مطلع کر دے۔ اس پر ان کافروں نے تیر برسانے شروع کر دئیے اور عاصم رضی اللہ عنہ اور سات دوسرے صحابہ کو شہید کر ڈالا باقی تین صحابی ان کے عہد و پیمان پر اتر آئے، یہ خبیب انصاری رضی اللہ عنہ ابن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرے صحابی ( عبداللہ بن طارق بلوی رضی اللہ عنہ ) تھے۔ جب یہ صحابی ان کے قابو میں آ گئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کے تانت اتار کر ان کو ان سے باندھ لیا ‘ عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا ‘ بلکہ میں تو انہیں کا اسوہ اختیار کروں گا ‘ ان کی مراد شہداء سے تھی۔ مگر مشرکین انہیں کھنچنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا جب وہ کسی طرح نہ گئے تو ان کو بھی شہید کر دیا۔ اب یہ خبیب اور ابن دثنہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر چلے اور ان کو مکہ میں لے جا کر بیچ دیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خرید لیا، خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ آپ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی بن کر رہے، ( زہری نے بیان کیا ) کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی اور انہیں حارث کی بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے خبر دی کہ جب ( ان کو قتل کرنے کے لیے ) لوگ آئے تو زینب سے انہوں نے موئے زیر ناف مونڈنے کے لیے استرا مانگا۔ انہوں نے استرا دے دیا، ( زینب نے بیان کیا ) پھر انہوں نے میرے ایک بچے کو اپنے پاس بلا لیا ‘ جب وہ ان کے پاس گیا تو میں غافل تھی ‘ زینب نے بیان کیا کہ پھر جب میں نے اپنے بچے کو ان کی ران پر بیٹھا ہوا دیکھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا ‘ تو میں اس بری طرح گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ بھی میرے چہرے سے سمجھ گئے انہوں نے کہا ‘ تمہیں اس کا خوف ہو گا کہ میں اسے قتل کر ڈالوں گا ‘ یقین کرو میں کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اللہ کی قسم! کوئی قیدی میں نے خبیب سے بہتر کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی روزی تھی جو اللہ نے خبیب رضی اللہ عنہ کو بھیجی تھی۔ پھر جب مشرکین انہیں حرم سے باہر لائے ‘ تاکہ حرم کے حدود سے نکل کر انہیں شہید کر دیں تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا ‘ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں ( قتل سے ) گھبرا رہا ہوں تو میں ان رکعتوں کو اور لمبا کرتا۔ اے اللہ! ان ظالموں سے ایک ایک کو ختم کر دے، ( پھر یہ اشعار پڑھے ) ”جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں ‘ تو مجھے کسی قسم کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ خواہ اللہ کے راستے میں مجھے کسی پہلو پر بھی پچھاڑا جائے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس جسم کے ٹکڑوں میں بھی برکت دے سکتا ہے جس کی بوٹی بوٹی کر دی گئی ہو۔ آخر حارث کے بیٹے ( عقبہ ) نے ان کو شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ سے ہی ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے ( قتل سے پہلے ) دو رکعتیں مشروع ہوئی ہیں۔ ادھر حادثہ کے شروع ہی میں عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ ( مہم کے امیر ) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی تھی کہ اے اللہ! ہماری حالت کی خبر اپنے نبی کو دیدے ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو وہ سب حالات بتا دیئے تھے جن سے یہ مہم دو چار ہوئی تھی۔ کفار قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم شہید کر دیئے گئے تو انہوں نے نے ان کی لاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کی جسم کا کوئی ایسا حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ہو سکتی ہو۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں کفار قریش کے ایک سردار ( عقبہ بن ابی معیط ) کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا ایک چھتہ عاصم کی نعش پر قائم کر دیا انہوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کی لاش کو بچا لیا اور وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا۔ ان سے منصور نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «عاني» یعنی قیدی کو چھڑایا کرو ‘ بھوکے کو کھلایا کرو ‘ بیمار کی عیادت کرو۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فكوا العاني يعني الاسير واطعموا الجايع وعودوا المريض
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے مطرف نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ‘ آپ حضرات ( اہل بیت ) کے پاس کتاب اللہ کے سوا اور بھی کوئی وحی ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو ( زمین ) چیر کر ( نکالا ) اور جس نے روح کو پیدا کیا ‘ مجھے تو کوئی ایسی وحی معلوم نہیں ( جو قرآن میں نہ ہو ) البتہ سمجھ ایک دوسری چیز ہے ‘ جو اللہ کسی بندے کو قرآن میں عطا فرمائے ( قرآن سے طرح طرح کے مطالب نکالے ) یا جو اس ورق میں ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس ورق میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ دیت کے احکام اور قیدی کا چھڑانا اور مسلمان کا کافر کے بدلے میں نہ مارا جانا ( یہ مسائل اس ورق میں لکھے ہوئے ہیں اور بس ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا مطرف، ان عامرا، حدثهم عن ابي جحيفة رضى الله عنه قال قلت لعلي رضى الله عنه هل عندكم شىء من الوحى الا ما في كتاب الله قال والذي فلق الحبة وبرا النسمة ما اعلمه الا فهما يعطيه الله رجلا في القران، وما في هذه الصحيفة. قلت وما في الصحيفة قال العقل وفكاك الاسير، وان لا يقتل مسلم بكافر
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس بن عبدالمطلب کا فدیہ معاف کر دیں ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے فدیہ میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم بن عقبة، عن موسى بن عقبة، عن ابن شهاب، قال حدثني انس بن مالك رضى الله عنه ان رجالا، من الانصار استاذنوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله ايذن فلنترك لابن اختنا عباس فداءه. فقال " لا تدعون منها درهما
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا خراج آیا تو عباس رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مال سے مجھے بھی دیجئیے کیونکہ ( بدر کے موقع پر ) میں نے اپنا اور عقیل دونوں کا فدیہ ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر آپ لے لیں“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے کپڑے میں نقدی کو بندھوا دیا۔
وقال ابراهيم عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بمال من البحرين، فجاءه العباس فقال يا رسول الله، اعطني فاني فاديت نفسي، وفاديت عقيلا. فقال " خذ ". فاعطاه في ثوبه
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں محمد بن جبیر نے ‘ انہیں ان کے باپ (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے وہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھی۔
حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن محمد بن جبير، عن ابيه وكان جاء في اسارى بدر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے ان کے باپ (سلمہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ) وہ جاسوس صحابہ کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو۔ چنانچہ اسے ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) قتل کر دیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابو العميس، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم عين من المشركين وهو في سفر، فجلس عند اصحابه يتحدث ثم انفتل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اطلبوه واقتلوه ". فقتله فنفله سلبه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عمرو بن میمون نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن حصين، عن عمرو بن ميمون، عن عمر رضى الله عنه قال واوصيه بذمة الله وذمة رسوله صلى الله عليه وسلم ان يوفى لهم بعهدهم، وان يقاتل من ورايهم، ولا يكلفوا الا طاقتهم
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان احول نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جمعرات کے دن ‘ اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔ آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ قلم دوات لاؤ ‘ تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم ( میرے بعد اس پر چلتے رہو تو ) کبھی گمراہ نہ ہو سکو اس پر صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بیماری کی شدت سے ) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ‘ اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو ‘ میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا ‘ جیسے میں کرتا رہا ( ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔ اور یعقوب بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے جزیرہ عرب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہا مکہ ‘ مدینہ ‘ یمامہ اور یمن ( کا نام جزیرہ عرب ) ہے۔ اور یعقوب نے کہا کہ عرج سے تہامہ شروع ہوتا ہے ( عرج مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک منزل کا نام ہے ) ۔
حدثنا قبيصة، حدثنا ابن عيينة، عن سليمان الاحول، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما انه قال يوم الخميس، وما يوم الخميس ثم بكى حتى خضب دمعه الحصباء فقال اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه يوم الخميس فقال " ايتوني بكتاب اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده ابدا ". فتنازعوا ولا ينبغي عند نبي تنازع فقالوا هجر رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال " دعوني فالذي انا فيه خير مما تدعوني اليه ". واوصى عند موته بثلاث " اخرجوا المشركين من جزيرة العرب، واجيزوا الوفد بنحو ما كنت اجيزهم ". ونسيت الثالثة. وقال يعقوب بن محمد سالت المغيرة بن عبد الرحمن عن جزيرة العرب. فقال مكة والمدينة واليمامة واليمن. وقال يعقوب والعرج اول تهامة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ پھر اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جوڑا آپ خرید لیں اور عید اور وفود کی ملاقات پر اس سے اپنی زیبائش فرمایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں یا ( آپ نے یہ جملہ فرمایا ) اسے تو وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ پھر اللہ نے جتنے دنوں چاہا عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا تو عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ‘ یا ( عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات اس طرح دہرائی کہ ) اسے وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر آپ نے یہی میرے پاس ارسال فرما دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میرے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ ) تم اسے بیچ لو ‘ یا ( فرمایا کہ ) اس سے اپنی کوئی ضرورت پوری کر سکو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان ابن عمر رضى الله عنهما قال وجد عمر حلة استبرق تباع في السوق فاتى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، ابتع هذه الحلة فتجمل بها للعيد وللوفود. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذه لباس من لا خلاق له، او انما يلبس هذه من لا خلاق له ". فلبث ما شاء الله ثم ارسل اليه النبي صلى الله عليه وسلم بجبة ديباج، فاقبل بها عمر حتى اتى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، قلت " انما هذه لباس من لا خلاق له او انما يلبس هذه من لا خلاق له ". ثم ارسلت الى بهذه فقال " تبيعها، او تصيب بها بعض حاجتك
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ‘ ابن صیاد ( یہودی لڑکا ) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ ( ایک انصاری قبیلے ) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے ان لوگوں نے پا لیا ‘ ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ) پتہ نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے قریب پہنچ کر ) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘ اور فرمایا کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا ‘ پھر کہنے لگا۔ ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔ اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ نے اس کا جواب ( صرف اتنا ) دیا کہ میں اللہ اور اس کے ( سچے ) انبیاء پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ‘ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ حقیقت حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اچھا میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے ( بتا وہ کیا ہے؟ ) “ ابن صیاد بولا کہ دھواں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذلیل ہو ‘ کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرني سالم بن عبد الله، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه اخبره ان عمر انطلق في رهط من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مع النبي صلى الله عليه وسلم قبل ابن صياد حتى وجدوه يلعب مع الغلمان عند اطم بني مغالة، وقد قارب يوميذ ابن صياد يحتلم، فلم يشعر حتى ضرب النبي صلى الله عليه وسلم ظهره بيده ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اتشهد اني رسول الله صلى الله عليه وسلم ". فنظر اليه ابن صياد فقال اشهد انك رسول الاميين. فقال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم اتشهد اني رسول الله. قال له النبي صلى الله عليه وسلم " امنت بالله ورسله " قال النبي صلى الله عليه وسلم " ماذا ترى ". قال ابن صياد ياتيني صادق وكاذب. قال النبي صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر ". قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني قد خبات لك خبييا ". قال ابن صياد هو الدخ. قال النبي صلى الله عليه وسلم " اخسا فلن تعدو قدرك ". قال عمر يا رسول الله، ايذن لي فيه اضرب عنقه. قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان يكنه فلن تسلط عليه، وان لم يكنه فلا خير لك في قتله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
قال ابن عمر انطلق النبي صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب ياتيان النخل الذي فيه ابن صياد، حتى اذا دخل النخل طفق النبي صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل وهو يختل ابن صياد ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها رمزة، فرات ام ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد اى صاف وهو اسمه فثار ابن صياد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". وقال سالم قال ابن عمر ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله، ثم ذكر الدجال فقال " اني انذركموه، وما من نبي الا قد انذره قومه، لقد انذره نوح قومه، ولكن ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه، تعلمون انه اعور وان الله ليس باعور
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
قال ابن عمر انطلق النبي صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب ياتيان النخل الذي فيه ابن صياد، حتى اذا دخل النخل طفق النبي صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل وهو يختل ابن صياد ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها رمزة، فرات ام ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد اى صاف وهو اسمه فثار ابن صياد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". وقال سالم قال ابن عمر ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله، ثم ذكر الدجال فقال " اني انذركموه، وما من نبي الا قد انذره قومه، لقد انذره نوح قومه، ولكن ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه، تعلمون انه اعور وان الله ليس باعور
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے ‘ انہیں علی بن حسین نے ‘ انہیں عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر فرمایا کہ کل ہمارا قیام حنیف بن کنانہ کے مقام محصب میں ہو گا ‘ جہاں پر قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بنی کنانہ اور قریش نے ( یہیں پر ) بنی ہاشم کے خلاف اس بات کی قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے خرید و فروخت کی جائے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں۔ زہری نے کہا کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمود، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان بن عفان، عن اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله، اين تنزل غدا في حجته. قال " وهل ترك لنا عقيل منزلا ". ثم قال "نحن نازلون غدا بخيف بني كنانة المحصب، حيث قاسمت قريش على الكفر ". وذلك ان بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم ان لا يبايعوهم ولا ييووهم. قال الزهري والخيف الوادي
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو ( سرکاری ) چراگاہ کا حاکم بنایا ‘ تو انہیں یہ ہدایت کی ‘ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا ( ان پر ظلم نہ کرنا ) اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا ‘ کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے ( امیر صحابہ ) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ( یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا ) کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا مالک ( غریب ) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے ‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا ‘ اور فریاد کرے گا: یا امیرالمؤمنین! یا امیرالمؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا ( یعنی ان کو پالنا ) تمہارا باپ نہ ہو؟ اس لیے ( پہلے ہی سے ) ان کیلئے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کیلئے سونے چاندی کا انتظام کروں اور اللہ کی قسم! وہ ( اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ یہ زمینیں انہیں کی ہیں۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال ( گھوڑے وغیرہ ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی میں چراگاہ نہ بناتا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه استعمل مولى له يدعى هنيا على الحمى فقال يا هنى، اضمم جناحك عن المسلمين، واتق دعوة المظلوم، فان دعوة المظلوم مستجابة، وادخل رب الصريمة ورب الغنيمة، واياى ونعم ابن عوف، ونعم ابن عفان، فانهما ان تهلك ماشيتهما يرجعا الى نخل وزرع، وان رب الصريمة ورب الغنيمة ان تهلك ماشيتهما ياتني ببنيه فيقول يا امير المومنين. افتاركهم انا لا ابا لك فالماء والكلا ايسر على من الذهب والورق، وايم الله، انهم ليرون اني قد ظلمتهم، انها لبلادهم فقاتلوا عليها في الجاهلية، واسلموا عليها في الاسلام، والذي نفسي بيده لولا المال الذي احمل عليه في سبيل الله ما حميت عليهم من بلادهم شبرا
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے ( مذکورہ بالا سند کے ساتھ ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی ( ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا ) اور ابومعاویہ نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اكتبوا لي من تلفظ بالاسلام من الناس ". فكتبنا له الفا وخمسماية رجل، فقلنا نخاف ونحن الف وخمسماية فلقد رايتنا ابتلينا حتى ان الرجل ليصلي وحده وهو خايف. حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، فوجدناهم خمسماية. قال ابو معاوية ما بين ستماية الى سبعماية
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا نام فلاں جہاد میں جانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ادھر میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر آ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن عمرو بن دينار، عن ابي معبد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، اني كتبت في غزوة كذا وكذا، وامراتي حاجة. قال " ارجع فحج مع امراتك
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عمرو بن ابي سفيان بن اسيد بن جارية الثقفي وهو حليف لبني زهرة وكان من اصحاب ابي هريرة ان ابا هريرة رضى الله عنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة رهط سرية عينا، وامر عليهم عاصم بن ثابت الانصاري جد عاصم بن عمر، فانطلقوا حتى اذا كانوا بالهداة وهو بين عسفان ومكة ذكروا لحى من هذيل يقال لهم بنو لحيان، فنفروا لهم قريبا من مايتى رجل، كلهم رام، فاقتصوا اثارهم حتى وجدوا ماكلهم تمرا تزودوه من المدينة فقالوا هذا تمر يثرب. فاقتصوا اثارهم، فلما راهم عاصم واصحابه لجيوا الى فدفد، واحاط بهم القوم فقالوا لهم انزلوا واعطونا بايديكم، ولكم العهد والميثاق، ولا نقتل منكم احدا. قال عاصم بن ثابت امير السرية اما انا فوالله لا انزل اليوم في ذمة كافر، اللهم اخبر عنا نبيك. فرموهم بالنبل، فقتلوا عاصما في سبعة، فنزل اليهم ثلاثة رهط بالعهد والميثاق، منهم خبيب الانصاري وابن دثنة ورجل اخر، فلما استمكنوا منهم اطلقوا اوتار قسيهم فاوثقوهم فقال الرجل الثالث هذا اول الغدر، والله لا اصحبكم، ان في هولاء لاسوة. يريد القتلى، فجرروه وعالجوه على ان يصحبهم فابى فقتلوه، فانطلقوا بخبيب وابن دثنة حتى باعوهما بمكة بعد وقعة بدر، فابتاع خبيبا بنو الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف، وكان خبيب هو قتل الحارث بن عامر يوم بدر، فلبث خبيب عندهم اسيرا، فاخبرني عبيد الله بن عياض ان بنت الحارث اخبرته انهم حين اجتمعوا استعار منها موسى يستحد بها فاعارته، فاخذ ابنا لي وانا غافلة حين اتاه قالت فوجدته مجلسه على فخذه والموسى بيده، ففزعت فزعة عرفها خبيب في وجهي فقال تخشين ان اقتله ما كنت لافعل ذلك. والله ما رايت اسيرا قط خيرا من خبيب، والله لقد وجدته يوما ياكل من قطف عنب في يده، وانه لموثق في الحديد، وما بمكة من ثمر وكانت تقول انه لرزق من الله رزقه خبيبا، فلما خرجوا من الحرم ليقتلوه في الحل، قال لهم خبيب ذروني اركع ركعتين. فتركوه، فركع ركعتين ثم قال لولا ان تظنوا ان ما بي جزع لطولتها اللهم احصهم عددا. ولست ابالي حين اقتل مسلما على اى شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الاله وان يشا يبارك على اوصال شلو ممزع فقتله ابن الحارث، فكان خبيب هو سن الركعتين لكل امري مسلم قتل صبرا، فاستجاب الله لعاصم بن ثابت يوم اصيب، فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه خبرهم وما اصيبوا، وبعث ناس من كفار قريش الى عاصم حين حدثوا انه قتل ليوتوا بشىء منه يعرف، وكان قد قتل رجلا من عظمايهم يوم بدر، فبعث على عاصم مثل الظلة من الدبر، فحمته من رسولهم، فلم يقدروا على ان يقطع من لحمه شييا