احادیث
#3057
صحیح بخاری - Fighting for the Cause of Allah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
قال ابن عمر انطلق النبي صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب ياتيان النخل الذي فيه ابن صياد، حتى اذا دخل النخل طفق النبي صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل وهو يختل ابن صياد ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها رمزة، فرات ام ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد اى صاف وهو اسمه فثار ابن صياد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". وقال سالم قال ابن عمر ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله، ثم ذكر الدجال فقال " اني انذركموه، وما من نبي الا قد انذره قومه، لقد انذره نوح قومه، ولكن ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه، تعلمون انه اعور وان الله ليس باعور
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Fighting for the Cause of Allah
- Hadith Index
- #3057
- Book Index
- 262
Grades
- -
