Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وقت پر نماز پڑھنا۔“ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔
حدثنا الحسن بن صباح، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مغول، قال سمعت الوليد بن العيزار، ذكر عن ابي عمرو الشيباني، قال قال عبد الله بن مسعود رضى الله عنه سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت يا رسول الله اى العمل افضل قال " الصلاة على ميقاتها ". قلت ثم اى. قال " ثم بر الوالدين ". قلت ثم اى قال " الجهاد في سبيل الله ". فسكت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو استزدته لزادني
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت ( فرض ) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية، واذا استنفرتم فانفروا
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم ( عورتیں ) بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا حبيب بن ابي عمرة، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت يا رسول الله ترى الجهاد افضل العمل، افلا نجاهد قال " لكن افضل الجهاد حج مبرور
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام نے ‘ کہا ہم سے محمد بن حجادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے ابوحصین نے خبر دی ‘ ان سے ذکوان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( نام نامعلوم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد ( جہاد کے لیے ) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور ( نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں ) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین ( پر پاؤں ) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عفان، حدثنا همام، حدثنا محمد بن جحادة، قال اخبرني ابو حصين، ان ذكوان، حدثه ان ابا هريرة رضى الله عنه حدثه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل يعدل الجهاد. قال " لا اجده قال هل تستطيع اذا خرج المجاهد ان تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر ". قال ومن يستطيع ذلك قال ابو هريرة ان فرس المجاهد ليستن في طوله فيكتب له حسنات
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن یزید لیثی نے کہا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! کون شخص سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا ”وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے ‘ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عطاء بن يزيد الليثي، ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه حدثه قال قيل يا رسول الله، اى الناس افضل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مومن يجاهد في سبيل الله بنفسه وماله ". قالوا ثم من قال " مومن في شعب من الشعاب يتقي الله، ويدع الناس من شره
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو ( خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کیلئے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت ( گھر ) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثل المجاهد في سبيل الله والله اعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصايم القايم، وتوكل الله للمجاهد في سبيله بان يتوفاه ان يدخله الجنة، او يرجعه سالما مع اجر او غنيمة
حدثنا عبد الله بن يوسف، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل على ام حرام بنت ملحان، فتطعمه، وكانت ام حرام تحت عبادة بن الصامت، فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطعمته وجعلت تفلي راسه، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك. قالت فقلت وما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة، او مثل الملوك على الاسرة ". شك اسحاق. قالت فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. فدعا لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وضع راسه، ثم استيقظ وهو يضحك فقلت وما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله ". كما قال في الاول. قالت فقلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين ". فركبت البحر في زمان معاوية بن ابي سفيان، فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر، فهلكت
حدثنا عبد الله بن يوسف، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل على ام حرام بنت ملحان، فتطعمه، وكانت ام حرام تحت عبادة بن الصامت، فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطعمته وجعلت تفلي راسه، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك. قالت فقلت وما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة، او مثل الملوك على الاسرة ". شك اسحاق. قالت فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. فدعا لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وضع راسه، ثم استيقظ وهو يضحك فقلت وما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله ". كما قال في الاول. قالت فقلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين ". فركبت البحر في زمان معاوية بن ابي سفيان، فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر، فهلكت
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑا رہے جہاں پیدا ہوا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔ یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ محمد بن فلیح نے اپنے والد سے «وفوقه عرش الرحمن» ہی کی روایت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا فليح، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من امن بالله وبرسوله واقام الصلاة وصام رمضان، كان حقا على الله ان يدخله الجنة جاهد في سبيل الله، او جلس في ارضه التي ولد فيها ". فقالوا يا رسول الله افلا نبشر الناس. قال " ان في الجنة ماية درجة اعدها الله للمجاهدين في سبيل الله، ما بين الدرجتين كما بين السماء والارض، فاذا سالتم الله فاسالوه الفردوس، فانه اوسط الجنة واعلى الجنة، اراه فوقه عرش الرحمن، ومنه تفجر انهار الجنة ". قال محمد بن فليح عن ابيه " وفوقه عرش الرحمن
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے ‘ کہا ہم سے ابورجاء نے ‘ ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا، ایسا خوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے۔“
حدثنا موسى، حدثنا جرير، حدثنا ابو رجاء، عن سمرة، قال النبي صلى الله عليه وسلم " رايت الليلة رجلين اتياني فصعدا بي الشجرة، فادخلاني دارا هي احسن وافضل، لم ار قط احسن منها قالا اما هذه الدار فدار الشهداء
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب بن خالد نے (فضل جہاد میں) بیان کیا ‘ کہا ہم سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔“
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، حدثنا حميد، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لغدوة في سبيل الله او روحة خير من الدنيا وما فيها
سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہلال بن علی سے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک ( کمان ) ہاتھ جگہ دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام چلنا ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، قال حدثني ابي، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "لقاب قوس في الجنة خير مما تطلع عليه الشمس وتغرب ". وقال " لغدوة او روحة في سبيل الله خير مما تطلع عليه الشمس وتغرب
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں نے ابوحازم سے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح و شام دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بڑھ کر ہے۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الروحة والغدوة في سبيل الله افضل من الدنيا وما فيها
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی بھی اللہ کا بندہ جو مر جائے اور اللہ کے پاس اس کی کچھ بھی نیکی جمع ہو وہ پھر دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا گو اس کی ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ مل جائے مگر شہید پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے کہ جب وہ ( اللہ تعالیٰ کے ) یہاں شہادت کی فضیلت کو دیکھے گا تو چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ آئے اور پھر قتل ہو ( اللہ تعالیٰ کے راستے میں ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من عبد يموت له عند الله خير، يسره ان يرجع الى الدنيا، وان له الدنيا وما فيها، الا الشهيد، لما يرى من فضل الشهادة، فانه يسره ان يرجع الى الدنيا فيقتل مرة اخرى
اور میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب سے بہتر ہے اور کسی کے لیے جنت میں ایک ہاتھ کے برابر جگہ بھی یا ( راوی کو شبہ ہے ) ایک «قيد» جگہ، «قيد» سے مراد کوڑا ہے، «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ہو جائیں اور خوشبو سے معطر ہو جائیں۔ اس کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
وسمعت انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم " لروحة في سبيل الله او غدوة خير من الدنيا وما فيها، ولقاب قوس احدكم من الجنة او موضع قيد يعني سوطه خير من الدنيا وما فيها، ولو ان امراة من اهل الجنة اطلعت الى اهل الارض لاضاءت ما بينهما ولملاته ريحا، ولنصيفها على راسها خير من الدنيا وما فيها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہا ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کر دیا جاؤں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " والذي نفسي بيده لولا ان رجالا من المومنين لا تطيب انفسهم ان يتخلفوا عني، ولا اجد ما احملهم عليه، ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله، والذي نفسي بيده لوددت اني اقتل في سبيل الله ثم احيا، ثم اقتل ثم احيا، ثم اقتل ثم احيا، ثم اقتل
ہم سے یوسف بن یعقوب صفار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کر دیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے اور اب کسی ہدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور ان کے ہاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور ہمیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ یہ لوگ جو شہید ہو گئے ہیں ہمارے پاس زندہ رہتے کیونکہ وہ بہت عیش و آرام میں چلے گئے ہیں۔ ایوب نے بیان کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ”انہیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔“
حدثنا يوسف بن يعقوب الصفار، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذها جعفر فاصيب، ثم اخذها عبد الله بن رواحة فاصيب، ثم اخذها خالد بن الوليد عن غير امرة ففتح له وقال ما يسرنا انهم عندنا ". قال ايوب او قال " ما يسرهم انهم عندنا ". وعيناه تذرفان
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثني الليث، حدثنا يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك، عن خالته ام حرام بنت ملحان، قالت نام النبي صلى الله عليه وسلم يوما قريبا مني، ثم استيقظ يتبسم. فقلت ما اضحكك قال " اناس من امتي عرضوا على يركبون هذا البحر الاخضر، كالملوك على الاسرة ". قالت فادع الله ان يجعلني منهم. فدعا لها، ثم نام الثانية، ففعل مثلها، فقالت مثل قولها، فاجابها مثلها. فقالت ادع الله ان يجعلني منهم. فقال " انت من الاولين ". فخرجت مع زوجها عبادة بن الصامت غازيا اول ما ركب المسلمون البحر مع معاوية، فلما انصرفوا من غزوهم قافلين فنزلوا الشام، فقربت اليها دابة لتركبها فصرعتها فماتت
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثني الليث، حدثنا يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك، عن خالته ام حرام بنت ملحان، قالت نام النبي صلى الله عليه وسلم يوما قريبا مني، ثم استيقظ يتبسم. فقلت ما اضحكك قال " اناس من امتي عرضوا على يركبون هذا البحر الاخضر، كالملوك على الاسرة ". قالت فادع الله ان يجعلني منهم. فدعا لها، ثم نام الثانية، ففعل مثلها، فقالت مثل قولها، فاجابها مثلها. فقالت ادع الله ان يجعلني منهم. فقال " انت من الاولين ". فخرجت مع زوجها عبادة بن الصامت غازيا اول ما ركب المسلمون البحر مع معاوية، فلما انصرفوا من غزوهم قافلين فنزلوا الشام، فقربت اليها دابة لتركبها فصرعتها فماتت
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے ان سے اسحاق نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ( 70 ) ستر آدمی ( جو قاری تھے ) بنو عامر کے یہاں بھیجے۔ جب یہ سب حضرات ( بئرمعونہ پر ) پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا میں ( بنو سلیم کے یہاں ) آگے جاتا ہوں اگر مجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ان تک پہنچاؤں تو۔ بہتر ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہو ہی۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن بھی دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی ( عامر بن طفیل ) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر برچھا پیوست کر دیا جو آرپار ہو گیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا اللہ اکبر میں کامیاب ہو گیا کعبہ کے رب کی قسم! اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف ( جو ستر کی تعداد میں تھے ) بڑھے اور سب کو قتل کر دیا۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے ‘ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام ( راوی حدیث ) نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں کہ ایک اور ان کے ساتھ ( پہاڑ پر چڑھے تھے ) ( عمر بن امیہ ضمری ) اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جا ملے ہیں پس اللہ خود بھی ان سے خوش ہے اور انہیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہم ( قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یہ آیت بھی ) پڑھتے تھے ( ترجمہ ) ہماری قوم کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں ‘ پس ہمارا رب خود بھی خوش ہے اور ہمیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہو گئی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلہ رعل ‘ ذکوان ‘ بنی لحیان اور بنی عصیہ کے لیے بددعا کی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔
حدثنا حفص بن عمر الحوضي، حدثنا همام، عن اسحاق، عن انس رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم اقواما من بني سليم الى بني عامر في سبعين، فلما قدموا، قال لهم خالي اتقدمكم، فان امنوني حتى ابلغهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم والا كنتم مني قريبا. فتقدم، فامنوه، فبينما يحدثهم عن النبي صلى الله عليه وسلم اذ اوميوا الى رجل منهم، فطعنه فانفذه فقال الله اكبر، فزت ورب الكعبة. ثم مالوا على بقية اصحابه فقتلوهم، الا رجلا اعرج صعد الجبل. قال همام فاراه اخر معه، فاخبر جبريل عليه السلام النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد لقوا ربهم، فرضي عنهم وارضاهم، فكنا نقرا ان بلغوا قومنا ان قد لقينا ربنا فرضي عنا وارضانا. ثم نسخ بعد، فدعا عليهم اربعين صباحا، على رعل وذكوان وبني لحيان وبني عصية الذين عصوا الله ورسوله صلى الله عليه وسلم