Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع ( یہودی ) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب ( عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔ ( اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں ) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آ گیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آ گیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گر گیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آ گئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی۔
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا يحيى بن زكرياء بن ابي زايدة، قال حدثني ابي، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا من الانصار الى ابي رافع ليقتلوه، فانطلق رجل منهم فدخل حصنهم قال فدخلت في مربط دواب لهم، قال واغلقوا باب الحصن، ثم انهم فقدوا حمارا لهم، فخرجوا يطلبونه، فخرجت فيمن خرج اريهم انني اطلبه معهم، فوجدوا الحمار، فدخلوا ودخلت، واغلقوا باب الحصن ليلا، فوضعوا المفاتيح في كوة حيث اراها، فلما ناموا اخذت المفاتيح، ففتحت باب الحصن ثم دخلت عليه فقلت يا ابا رافع. فاجابني، فتعمدت الصوت، فضربته فصاح، فخرجت ثم جيت، ثم رجعت كاني مغيث فقلت يا ابا رافع، وغيرت صوتي، فقال ما لك لامك الويل قلت ما شانك قال لا ادري من دخل على فضربني. قال فوضعت سيفي في بطنه، ثم تحاملت عليه حتى قرع العظم، ثم خرجت وانا دهش، فاتيت سلما لهم لانزل منه فوقعت فوثيت رجلي، فخرجت الى اصحابي فقلت ما انا ببارح حتى اسمع الناعية، فما برحت حتى سمعت نعايا ابي رافع تاجر اهل الحجاز. قال فقمت وما بي قلبة حتى اتينا النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرناه
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے اس کے والد نے ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس ( اسے قتل کرنے کے لیے ) بھیجا تھا۔ چنانچہ رات میں عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور اسے سوتے ہوئے قتل کیا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا يحيى بن ابي زايدة، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا من الانصار الى ابي رافع فدخل عليه عبد الله بن عتيك بيته ليلا، فقتله وهو نايم
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا عاصم بن يوسف اليربوعي، حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن موسى بن عقبة، قال حدثني سالم ابو النضر، مولى عمر بن عبيد الله كنت كاتبا له قال كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى حين خرج الى الحرورية فقراته فاذا فيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها العدو انتظر حتى مالت الشمس. ثم قام في الناس فقال " ايها الناس لا تمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية، فاذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف ثم قال اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم ". وقال موسى بن عقبة حدثني سالم ابو النضر كنت كاتبا لعمر بن عبيد الله فاتاه كتاب عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنوا لقاء العدو
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا عاصم بن يوسف اليربوعي، حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن موسى بن عقبة، قال حدثني سالم ابو النضر، مولى عمر بن عبيد الله كنت كاتبا له قال كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى حين خرج الى الحرورية فقراته فاذا فيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها العدو انتظر حتى مالت الشمس. ثم قام في الناس فقال " ايها الناس لا تمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية، فاذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف ثم قال اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم ". وقال موسى بن عقبة حدثني سالم ابو النضر كنت كاتبا لعمر بن عبيد الله فاتاه كتاب عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنوا لقاء العدو
ابوعامر نے کہا ‘ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دشمن سے لڑنے بھڑنے کی تمنا نہ کرو ‘ ہاں! اگر جنگ شروع ہو جائے تو پھر صبر سے کام لو۔“
وقال ابو عامر حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنوا لقاء العدو، فاذا لقيتموهم فاصبروا
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " هلك كسرى ثم لا يكون كسرى بعده، وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده، ولتقسمن كنوزها في سبيل الله ". وسمى الحرب خدعة
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " هلك كسرى ثم لا يكون كسرى بعده، وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده، ولتقسمن كنوزها في سبيل الله ". وسمى الحرب خدعة
ہم سے ابوبکر بن اصرم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑائی کیا ہے؟ ایک چال ہے۔“
حدثنا ابو بكر بن اصرم، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال سمى النبي صلى الله عليه وسلم الحرب خدعة
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں عمرو نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”جنگ تو ایک چالبازی کا نام ہے۔“
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، عن عمرو، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الحرب خدعة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیتیں پہنچا چکا ہے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت بخش دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر محمد بن مسلمہ کعب یہودی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں تھکا دیا ‘ اور ہم سے آپ زکوٰۃ مانگتے ہیں۔ کعب نے کہا کہ قسم اللہ کی! ابھی کیا ہے ابھی اور مصیبت میں پڑو گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کی پیروی کر لی ہے۔ اس لیے اس وقت تک اس کا ساتھ چھوڑنا ہم مناسب بھی نہیں سمجھتے جب تک ان کی دعوت کا کوئی انجام ہمارے سامنے نہ آ جائے۔ غرض محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ آخر موقع پا کر اسے قتل کر دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لكعب بن الاشرف، فانه قد اذى الله ورسوله ". قال محمد بن مسلمة اتحب ان اقتله يا رسول الله قال " نعم ". قال فاتاه فقال ان هذا يعني النبي صلى الله عليه وسلم قد عنانا وسالنا الصدقة، قال وايضا والله قال فانا قد اتبعناه فنكره ان ندعه حتى ننظر الى ما يصير امره قال فلم يزل يكلمه حتى استمكن منه فقتله
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کے لیے کون ہمت کرتا ہے؟“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں!“ انہوں نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے اجازت دیں ( کہ میں جو چاہوں جھوٹ سچ کہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری طرف سے اس کی اجازت ہے۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لكعب بن الاشرف ". فقال محمد بن مسلمة اتحب ان اقتله قال " نعم ". قال فاذن لي فاقول. قال " قد فعلت
لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد ( یہودی بچے ) کی طرف جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے ( ابن صیاد کے عجیب و غریب احوال کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تحقیق کرنا چاہتے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی کہ ابن صیاد اس وقت کھجوروں کی آڑ میں موجود ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو شاخوں کی آڑ میں چلنے لگے۔ ( تاکہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکے ) ابن صیاد اس وقت ایک چادر اوڑھے ہوئے چپکے چپکے کچھ گنگنا رہا تھا ‘ اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور پکار اٹھی کہ اے ابن صیاد! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ پہنچے ‘ وہ چونک اٹھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ اس کی خبر نہ کرتی تو وہ کھولتا ( یعنی اس کی باتوں سے اس کا حال کھل جاتا ) ۔
قال الليث حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما انه قال انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ابى بن كعب قبل ابن صياد، فحدث به في نخل، فلما دخل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم النخل، طفق يتقي بجذوع النخل، وابن صياد في قطيفة له فيها رمرمة، فرات ام ابن صياد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا صاف، هذا محمد، فوثب ابن صياد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو فتنہ فساد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ آپ یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔)
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا ابو اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق وهو ينقل التراب حتى وارى التراب شعر صدره، وكان رجلا كثير الشعر وهو يرتجز برجز عبد الله اللهم لولا انت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فانزلن سكينة علينا وثبت الاقدام ان لاقينا ان الاعداء قد بغوا علينا اذا ارادوا فتنة ابينا يرفع بها صوته
حدثني محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابن ادريس، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير رضى الله عنه قال ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت، ولا راني الا تبسم في وجهي. ولقد شكوت اليه اني لا اثبت على الخيل. فضرب بيده في صدري وقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
حدثني محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابن ادريس، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير رضى الله عنه قال ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت، ولا راني الا تبسم في وجهي. ولقد شكوت اليه اني لا اثبت على الخيل. فضرب بيده في صدري وقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے شاگردوں نے پوچھا کہ ( جنگ احد میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا؟ سہل نے اس پر کہا کہ اب صحابہ میں کوئی شخص بھی ایسا زندہ موجود نہیں ہے جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی بھربھر کر لا رہے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون کو دھو رہی تھیں۔ اور ایک بوریا جلایا گیا تھا اور آپ کے زخموں میں اسی کی راکھ کو بھر دیا گیا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابو حازم، قال سالوا سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه باى شىء دووي جرح النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما بقي من الناس احد اعلم به مني، كان علي يجيء بالماء في ترسه، وكانت يعني فاطمة تغسل الدم عن وجهه، واخذ حصير فاحرق، ثم حشي به جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعید بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ان کے دادا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ کو یمن بھیجا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ‘ ان کو خوش رکھنا ‘ نفرت نہ دلانا ‘ اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا وابا موسى الى اليمن قال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ولا تختلفا
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر ( تیر اندازوں کے ) پچاس آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تاکید کر دی تھی کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ پرندے ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پھر بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا ‘ جب تک میں تم لوگوں کو کہلا نہ بھیجوں۔ اسی طرح اگر تم یہ دیکھو کہ کفار کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں پامال کر دیا ہے پھر بھی یہاں سے نہ ٹلنا ‘ جب میں تمہیں خود بلا نہ بھیجوں۔ پھر اسلامی لشکر نے کفار کو شکست دے دی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ اللہ کی قسم! میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ تیزی کے ساتھ بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب اور پنڈلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اور وہ اپنے کپڑوں کو اٹھائے ہوئے تھیں۔ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا ‘ کہ غنیمت لوٹو ‘ اے قوم! غنیمت تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں۔ اب ڈر کس بات کا ہے۔ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ کیا جو ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ‘ تم اسے بھول گئے؟ لیکن وہ لوگ اسی پر اڑے رہے کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ غنیمت جمع کرنے میں شریک رہیں گے۔ جب یہ لوگ ( اکثریت ) اپنی جگہ چھوڑ کر چلے آئے تو ان کے منہ کافروں نے پھیر دیئے ‘ اور ( مسلمانوں کو ) شکست زدہ پا کر بھاگتے ہوئے آئے ‘ یہی وہ گھڑی تھی ( جس کا ذکر سورۃ آل عمران میں ہے کہ ) ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو پیچھے کھڑے ہوئے بلا رہے تھے“۔ اس سے یہی مراد ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ صحابہ کے سوا اور کوئی بھی باقی نہ رہ گیا تھا۔ آخر ہمارے ستر آدمی شہید ہو گئے۔ بدر کی لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ مشرکین کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا ‘ ستر ان میں سے قیدی تھے اور ستر مقتول ‘ ( جب جنگ ختم ہو گئی تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر ) ابوسفیان نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ساتھ موجود ہیں؟ تین مرتبہ انہوں نے یہی پوچھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے منع فرما دیا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا ‘ کیا ابن ابی قحافہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ سوال بھی تین مرتبہ کیا ‘ پھر پوچھا ابن خطاب ( عمر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ بھی تین مرتبہ پوچھا ‘ پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑ کر کہنے لگے کہ یہ تینوں قتل ہو چکے ہیں اس پر عمر رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا اور آپ بول پڑے کہ اے اللہ کے دشمن! اللہ گواہ ہے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے جن کے تو نے ابھی نام لیے تھے وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ ابوسفیان نے کہا اچھا! آج کا دن بدر کا بدلہ ہے۔ اور لڑائی بھی ایک ڈول کی طرح ہے ( کبھی ادھر کبھی ادھر ) تم لوگوں کو اپنی قوم کے بعض لوگ مثلہ کئے ہوئے ملیں گے۔ میں نے اس طرح کا کوئی حکم ( اپنے آدمیوں کو ) نہیں دیا تھا ‘ لیکن مجھے ان کا یہ عمل برا بھی نہیں معلوم ہوا۔ اس کے بعد وہ فخر یہ رجز پڑھنے لگا ‘ ہبل ( بت کا نام ) بلند رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا ہم اس کے جواب میں کیا کہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہمارا مددگار عزیٰ ( بت ) ہے اور تمہارا کوئی بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جواب کیوں نہیں دیتے، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس کا جواب کیا دیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہو کہ اللہ ہمارا حامی ہے اور تمہارا حامی کوئی نہیں۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین ‘ سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ گھبرا گئے تھے ‘ کیونکہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جس کی پیٹھ ننگی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے تنہا اطراف مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ کر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملے تو تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اسے دریا کی طرح پایا۔ ( تیز دوڑنے میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ گھوڑے کی طرف تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم احسن الناس، واجود الناس، واشجع الناس، قال وقد فزع اهل المدينة ليلة سمعوا صوتا، قال فتلقاهم النبي صلى الله عليه وسلم على فرس لابي طلحة عرى، وهو متقلد سيفه فقال " لم تراعوا، لم تراعوا ". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجدته بحرا ". يعني الفرس
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یزید بن ابی عبید نے خبر دی ‘ انہیں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ سے غابہ ( شام کے راستے میں ایک مقام ) جا رہا تھا ‘ غابہ کی پہاڑی پر ابھی میں پہنچا تھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک غلام ( رباح ) مجھے ملا۔ میں نے کہا ‘ کیا بات پیش آئی؟ کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودہیل اونٹنیاں ( دودھ دینے والیاں ) چھین لی گئیں ہیں۔ میں نے پوچھا کس نے چھینا ہے؟ بتایا کہ قبیلہ غطفان اور قبیلہ فزارہ کے لوگوں نے۔ پھر میں نے تین مرتبہ بہت زور سے چیخ کر ”یا صباحاہ ‘ یا صباحاہ“ کہا۔ اتنی زور سے کہ مدینہ کے چاروں طرف میری آواز پہنچ گئی۔ اس کے بعد میں بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھا ‘ اور ڈاکوؤں کو جا لیا ‘ اونٹنیاں ان کے ساتھ تھیں ‘ میں نے ان پر تیر برسانا شروع کر دیا ‘ اور کہنے لگا ‘ میں اکوع کا بیٹا سلمہ ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ آخر اونٹنیاں میں نے ان سے چھڑا لیں ‘ ابھی وہ لوگ پانی نہ پینے پائے تھے اور انہیں ہانک کر واپس لا رہا تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ کو مل گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ڈاکو پیاسے ہیں اور میں نے مارے تیروں کے پانی بھی نہیں پینے دیا۔ اس لیے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اے ابن الاکوع! تو ان پر غالب ہو چکا اب جانے دے ‘ درگزر کر وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے جہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، اخبرنا يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، انه اخبره قال خرجت من المدينة ذاهبا نحو الغابة، حتى اذا كنت بثنية الغابة لقيني غلام لعبد الرحمن بن عوف قلت ويحك، ما بك قال اخذت لقاح النبي صلى الله عليه وسلم. قلت من اخذها قال غطفان وفزارة. فصرخت ثلاث صرخات اسمعت ما بين لابتيها يا صباحاه، يا صباحاه. ثم اندفعت حتى القاهم وقد اخذوها، فجعلت ارميهم واقول انا ابن الاكوع، واليوم يوم الرضع، فاستنقذتها منهم قبل ان يشربوا، فاقبلت بها اسوقها، فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله، ان القوم عطاش، واني اعجلتهم ان يشربوا سقيهم، فابعث في اثرهم، فقال " يا ابن الاكوع، ملكت فاسجح. ان القوم يقرون في قومهم
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما يحدث قال جعل النبي صلى الله عليه وسلم على الرجالة يوم احد وكانوا خمسين رجلا عبد الله بن جبير فقال " ان رايتمونا تخطفنا الطير، فلا تبرحوا مكانكم هذا حتى ارسل اليكم، وان رايتمونا هزمنا القوم واوطاناهم فلا تبرحوا حتى ارسل اليكم " فهزموهم. قال فانا والله رايت النساء يشتددن قد بدت خلاخلهن واسوقهن رافعات ثيابهن، فقال اصحاب عبد الله بن جبير الغنيمة اى قوم الغنيمة، ظهر اصحابكم فما تنتظرون فقال عبد الله بن جبير انسيتم ما قال لكم رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا والله لناتين الناس فلنصيبن من الغنيمة. فلما اتوهم صرفت وجوههم فاقبلوا منهزمين، فذاك اذ يدعوهم الرسول في اخراهم، فلم يبق مع النبي صلى الله عليه وسلم غير اثنى عشر رجلا، فاصابوا منا سبعين، وكان النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه اصاب من المشركين يوم بدر اربعين وماية سبعين اسيرا وسبعين قتيلا، فقال ابو سفيان افي القوم محمد ثلاث مرات، فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يجيبوه ثم قال افي القوم ابن ابي قحافة ثلاث مرات، ثم قال افي القوم ابن الخطاب ثلاث مرات، ثم رجع الى اصحابه فقال اما هولاء فقد قتلوا. فما ملك عمر نفسه فقال كذبت والله يا عدو الله، ان الذين عددت لاحياء كلهم، وقد بقي لك ما يسووك. قال يوم بيوم بدر، والحرب سجال، انكم ستجدون في القوم مثلة لم امر بها ولم تسوني، ثم اخذ يرتجز اعل هبل، اعل هبل. قال النبي صلى الله عليه وسلم " الا تجيبوا له ". قالوا يا رسول الله، ما نقول قال " قولوا الله اعلى واجل ". قال ان لنا العزى ولا عزى لكم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا تجيبوا له ". قال قالوا يا رسول الله، ما نقول قال " قولوا الله مولانا ولا مولى لكم