Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا ‘ فرمایا کہ یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ شخص ( مسلمانوں کی طرف ) بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہو گیا۔ صحابہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا۔ آج تو وہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا ہے اور ( زخمی ہو کر ) مر بھی گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی وہی جواب دیا کہ جہنم میں گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہو جاتا۔ لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے۔ البتہ زخم کاری ہے۔ پھر جب رات آئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خودکشی کر لی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ اور انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، ح وحدثني محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل ممن يدعي الاسلام " هذا من اهل النار ". فلما حضر القتال قاتل الرجل قتالا شديدا، فاصابته جراحة فقيل يا رسول الله، الذي قلت انه من اهل النار فانه قد قاتل اليوم قتالا شديدا وقد مات. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الى النار ". قال فكاد بعض الناس ان يرتاب، فبينما هم على ذلك اذ قيل انه لم يمت، ولكن به جراحا شديدا. فلما كان من الليل لم يصبر على الجراح، فقتل نفسه، فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك فقال " الله اكبر، اشهد اني عبد الله ورسوله ". ثم امر بلالا فنادى بالناس " انه لا يدخل الجنة الا نفس مسلمة، وان الله ليويد هذا الدين بالرجل الفاجر
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ میں ) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ ( جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم ( جھنڈا ) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ ( شہداء ) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ ( کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں ) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذها جعفر فاصيب، ثم اخذها عبد الله بن رواحة فاصيب، ثم اخذها خالد بن الوليد عن غير امرة ففتح عليه، وما يسرني او قال ما يسرهم انهم عندنا ". وقال وان عينيه لتذرفان
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن ابی عدی اور سہل بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں نماز پڑھتے رہتے۔ یہ حضرات ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو انہیں قبیلہ والوں نے ان صحابہ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک ( نماز میں ) قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( ان شہداء کے بارے میں ) قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم ( مسلم ) کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، وسهل بن يوسف، عن سعيد، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم اتاه رعل وذكوان وعصية وبنو لحيان، فزعموا انهم قد اسلموا، واستمدوه على قومهم، فامدهم النبي صلى الله عليه وسلم بسبعين من الانصار قال انس كنا نسميهم القراء، يحطبون بالنهار ويصلون بالليل، فانطلقوا بهم حتى بلغوا بير معونة غدروا بهم وقتلوهم، فقنت شهرا يدعو على رعل وذكوان وبني لحيان. قال قتادة وحدثنا انس انهم قرءوا بهم قرانا الا بلغوا عنا قومنا بانا قد لقينا ربنا فرضي عنا وارضانا. ثم رفع ذلك بعد
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم پر فتح حاصل ہوتی، تو میدان جنگ میں تین رات قیام فرماتے۔ روح بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی روایت کیا۔ دونوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے انس سے ‘ انہوں نے ابوطلحہ سے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد، عن قتادة، قال ذكر لنا انس بن مالك عن ابي طلحة رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان اذا ظهر على قوم اقام بالعرصة ثلاث ليال. تابعه معاذ وعبد الاعلى حدثنا سعيد عن قتادة عن انس عن ابي طلحة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے ‘ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا ‘ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، عن قتادة، ان انسا، اخبره قال اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم من الجعرانة، حيث قسم غنايم حنين
اور عبداللہ بن نمیر نے کہا ‘ کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے۔
قال ابن نمير حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال ذهب فرس له، فاخذه العدو، فظهر عليه المسلمون فرد عليه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وابق عبد له فلحق بالروم، فظهر عليهم المسلمون، فرده عليه خالد بن الوليد بعد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ( اسلامی لشکر نے ) اس پر فتح پائی اور خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انکو واپس کر دیا۔ اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی ‘ تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی عبداللہ کو واپس کر دیا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، ان عبدا، لابن عمر ابق فلحق بالروم، فظهر عليه خالد بن الوليد، فرده على عبد الله، وان فرسا لابن عمر عار فلحق بالروم، فظهر عليه فردوه على عبد الله. قال ابو عبد الله عار مشتق من العير وهو حمار وحش اي هرب
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ ( رومیوں سے ) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه كان على فرس يوم لقي المسلمون، وامير المسلمين يوميذ خالد بن الوليد، بعثه ابو بكر، فاخذه العدو، فلما هزم العدو رد خالد فرسه
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ‘ انہیں سعید بن میناء نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ آپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے ( جنگ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پا کر چپکے سے ) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا ”اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کر لیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا حنظلة بن ابي سفيان، اخبرنا سعيد بن ميناء، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قلت يا رسول الله، ذبحنا بهيمة لنا، وطحنت صاعا من شعير، فتعال انت ونفر، فصاح النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا اهل الخندق، ان جابرا قد صنع سورا، فحى هلا بكم
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں خالد بن سعید نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ‘ میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”سنہ سنہ“ عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ ( جو آپ کے پشت پر تھی ) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو ( درازی عمر کی ) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ چنانچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آ گیا۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، عن خالد بن سعيد، عن ابيه، عن ام خالد بنت خالد بن سعيد، قالت اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع ابي وعلى قميص اصفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سنه سنه ". قال عبد الله وهى بالحبشية حسنة. قالت فذهبت العب بخاتم النبوة، فزبرني ابي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعها ". ثم قال رسول الله " ابلي واخلفي، ثم ابلي واخلفي، ثم ابلي واخلفي ". قال عبد الله فبقيت حتى ذكر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجور میں سے ( جو بیت المال میں آئی تھی ) ایک کھجور اٹھا لی اور اپنے منہ کے قریب لے گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فارسی زبان کا یہ لفظ کہہ کر روک دیا کہ «كخ كخ» کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان الحسن بن علي، اخذ تمرة من تمر الصدقة، فجعلها في فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم بالفارسية " كخ كخ، اما تعرف انا لا ناكل الصدقة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول ( خیانت ) کا ذکر فرمایا ‘ اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم میں کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں تو ( اللہ کا پیغام ) تم تک پہنچا چکا تھا۔ اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا ‘ یا ( وہ اس حال میں آئے کہ ) وہ اپنی گردن پر سونا ‘ چاندی ‘ اسباب لادے ہوئے ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمایئے ‘ لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔ یا اس کی گردن پر کپڑے کے ٹکڑے ہوں جو اسے حرکت دے رہے ہوں اور وہ کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ‘ میں تو ( اللہ کا پیغام ) پہلے ہی پہنچا چکا تھا۔ اور ایوب سختیانی نے بھی ابوحیان سے روایت کیا ہے گھوڑا لادے دیکھوں جو ہنہنا رہا ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابي حيان، قال حدثني ابو زرعة، قال حدثني ابو هريرة رضى الله عنه قال قام فينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الغلول فعظمه وعظم امره قال " لا الفين احدكم يوم القيامة على رقبته شاة لها ثغاء على رقبته فرس له حمحمة يقول يا رسول الله، اغثني. فاقول لا املك لك شييا، قد ابلغتك. وعلى رقبته بعير له رغاء، يقول يا رسول الله اغثني. فاقول لا املك لك شييا، قد ابلغتك. وعلى رقبته صامت، فيقول يا رسول الله اغثني. فاقول لا املك لك شييا، قد ابلغتك. او على رقبته رقاع تخفق، فيقول يا رسول الله اغثني. فاقول لا املك لك شييا، قد ابلغتك ". وقال ايوب عن ابي حيان فرس له حمحمة
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا۔ صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے ( ابن عیینہ سے نقل کیا اور ) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سالم بن ابي الجعد، عن عبد الله بن عمرو، قال كان على ثقل النبي صلى الله عليه وسلم رجل يقال له كركرة فمات، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو في النار ". فذهبوا ينظرون اليه فوجدوا عباءة قد غلها. قال ابو عبد الله قال ابن سلام كركرة، يعني بفتح الكاف، وهو مضبوط كذا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن مسروق نے ‘ ان سے عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے ) جلدی کی ہانڈیاں چڑھا دیں۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان ہانڈیوں کو اوندھا دیا گیا پھر آپ نے غنیمت کی تقسیم شروع کی دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لشکر میں گھوڑوں کی کمی تھی۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے لیکن اونٹ نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک صحابی ( خود رافع رضی اللہ عنہ ) نے اسے تیر مارا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا وہیں رہ گیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ عبایہ کہتے ہیں کہ میرے دادا ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا ‘ کہ ہمیں امید ہے یا ( یہ کہا کہ ) خوف ہے کہ کل کہیں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے۔ ادھر ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔ تو کیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز خون بہا دے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو ‘ تو اس کا گوشت کھانا حلال ہے۔ البتہ وہ چیز ( جس سے ذبح کیا گیا ہو ) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہئے۔ تمہارے سامنے میں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة، فاصاب الناس جوع واصبنا ابلا وغنما، وكان النبي صلى الله عليه وسلم في اخريات الناس، فعجلوا فنصبوا القدور، فامر بالقدور فاكفيت، ثم قسم فعدل عشرة من الغنم ببعير، فند منها بعير، وفي القوم خيل يسير فطلبوه فاعياهم، فاهوى اليه رجل بسهم، فحبسه الله فقال " هذه البهايم لها اوابد كاوابد الوحش، فما ند عليكم فاصنعوا به هكذا ". فقال جدي انا نرجو او نخاف ان نلقى العدو غدا وليس معنا مدى، افنذبح بالقصب فقال " ما انهر الدم وذكر اسم الله فكل، ليس السن والظفر، وساحدثكم عن ذلك، اما السن فعظم، واما الظفر فمدى الحبشة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذی الخلصہ ( یمن کے کعبے ) کو تباہ کر کے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے۔“ یہ ذی الخلصہ ( یمن کے قبیلہ ) خثعم کا بت کدہ تھا ( کعبے کے مقابل بنایا تھا ) جسے کعبۃ الیمانیہ کہتے تھے۔ چنانچہ میں ( اپنے قبیلہ ) احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر تیار ہو گیا۔ یہ سب اچھے شہسوار تھے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح سے جم نہیں پاتا تو آپ نے میرے سینے پر ( دست مبارک ) مارا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا دی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا . فانطلق إليها فكسرها وحرقها» ”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور اسے صحیح راستہ دکھانے والا بنا دے اور خود اسے بھی راہ پایا ہوا کر دے۔“ پھر جریر رضی اللہ عنہ مہم پر روانہ ہوئے اور ذی الخلصہ کو توڑ کر جلا دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری بھجوائی جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد ( حسین بن ربیعہ ) نے ( خدمت نبوی میں ) حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا جب تک وہ بت کدہ جل کر ایسا ( سیاہ ) نہیں ہو گیا جیسا خارش والا بیمار اونٹ سیاہ ہوا کرتا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور ان کے پیدل جوانوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی مسدد نے اس حدیث میں یوں کہا ذی الخلصہ خثعم قبیلے میں ایک گھر تھا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، قال حدثني قيس، قال قال لي جرير بن عبد الله رضى الله عنه قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تريحني من ذي الخلصة ". وكان بيتا فيه خثعم يسمى كعبة اليمانية، فانطلقت في خمسين وماية من احمس، وكانوا اصحاب خيل، فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم اني لا اثبت على الخيل، فضرب في صدري حتى رايت اثر اصابعه في صدري فقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا ". فانطلق اليها فكسرها وحرقها، فارسل الى النبي صلى الله عليه وسلم يبشره فقال رسول جرير يا رسول الله، والذي بعثك بالحق، ما جيتك حتى تركتها كانها جمل اجرب، فبارك على خيل احمس ورجالها خمس مرات. قال مسدد بيت في خثعم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا ”اب ہجرت ( مکہ سے مدینہ کے لیے ) باقی نہیں رہی ‘ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو فوراً نکل جاؤ۔“
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شيبان، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة " لا هجرة ولكن جهاد ونية، واذا استنفرتم فانفروا
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا يزيد بن زريع، عن خالد، عن ابي عثمان النهدي، عن مجاشع بن مسعود، قال جاء مجاشع باخيه مجالد بن مسعود الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هذا مجالد يبايعك على الهجرة. فقال " لا هجرة بعد فتح مكة، ولكن ابايعه على الاسلام
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا يزيد بن زريع، عن خالد، عن ابي عثمان النهدي، عن مجاشع بن مسعود، قال جاء مجاشع باخيه مجالد بن مسعود الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال هذا مجالد يبايعك على الهجرة. فقال " لا هجرة بعد فتح مكة، ولكن ابايعه على الاسلام
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو اور ابن جریح بیان کرتے تھے کہ ہم نے عطا سے سنا تھا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح دی تھی ‘ اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا ( ثبیر مشہور پہاڑ ہے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو وابن جريج سمعت عطاء، يقول ذهبت مع عبيد بن عمير الى عايشة رضى الله عنها وهى مجاورة بثبير فقالت لنا انقطعت الهجرة منذ فتح الله على نبيه صلى الله عليه وسلم مكة
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب الطائفی نے بیان کیا ‘ ان سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن عبیدہ نے اور انہیں ابی عبدالرحمٰن نے اور وہ عثمانی تھے ‘ انہوں نے عطیہ سے کہا ‘ جو علوی تھے ‘ کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارے صاحب ( علی رضی اللہ عنہ ) کو کس چیز سے خون بہانے پر جرات ہوئی ‘ میں نے خود ان سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا۔ اور ہدایت فرمائی کہ روضہ خاخ پر جب تم پہنچو ‘ تو انہیں ایک عورت ( سارہ نامی ) ملے گی۔ جسے حاطب ابن بلتعہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط دے کر بھیجا ہے ( تم وہ خط اس سے لے کر آؤ ) چنانچہ جب ہم اس باغ تک پہنچے ہم نے اس عورت سے کہا خط لا۔ اس نے کہا کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط خود بخود نکال کر دیدے ورنہ ( تلاشی کے لیے ) تمہارے کپڑے اتار لیے جائیں گے۔ تب کہیں اس نے خط اپنے نیفے میں سے نکال کر دیا۔ ( جب ہم نے وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ‘ تو ) آپ نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا انہوں نے ( حاضر ہو کر ) عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں! اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کیا ہے اور نہ میں اسلام سے ہٹا ہوں ‘ صرف اپنے خاندان کی محبت نے اس پر مجبور کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ( مہاجرین ) میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے رشتہ دار وغیرہ مکہ میں نہ ہوں۔ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان والوں اور ان کی جائیداد کی حفاظت نہ کراتا ہو۔ لیکن میرا وہاں کوئی بھی آدمی نہیں ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر ایک احسان کر دوں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی بات کی تصدیق فرمائی۔ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے مجھے اس کا سر اتارنے دیجئیے یہ تو منافق ہو گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم! اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے خوب واقف تھا اور وہ خود اہل بدر کے بارے میں فرما چکا ہے کہ ”جو چاہو کرو۔“ ابوعبدالرحمٰن نے کہا، علی رضی اللہ عنہ کو اسی ارشاد نے ( کہ تم جو چاہو کرو، خون ریزی پر ) دلیر بنا دیا ہے۔
حدثني محمد بن عبد الله بن حوشب الطايفي، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، وكان، عثمانيا فقال لابن عطية وكان علويا اني لاعلم ما الذي جرا صاحبك على الدماء سمعته يقول بعثني النبي صلى الله عليه وسلم والزبير، فقال " ايتوا روضة كذا، وتجدون بها امراة اعطاها حاطب كتابا ". فاتينا الروضة فقلنا الكتاب. قالت لم يعطني. فقلنا لتخرجن او لاجردنك. فاخرجت من حجزتها، فارسل الى حاطب فقال لا تعجل، والله ما كفرت ولا ازددت للاسلام الا حبا، ولم يكن احد من اصحابك الا وله بمكة من يدفع الله به عن اهله وماله، ولم يكن لي احد، فاحببت ان اتخذ عندهم يدا. فصدقه النبي صلى الله عليه وسلم. قال عمر دعني اضرب عنقه، فانه قد نافق. فقال " ما يدريك لعل الله اطلع على اهل بدر، فقال اعملوا ما شيتم ". فهذا الذي جراه