Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سامان بیچتے وقت دکاندار کے ) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال ابن المسيب ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے۔ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا۔ اس پر یہ آیت اتری «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں۔“
حدثنا عمرو بن محمد، حدثنا هشيم، اخبرنا العوام، عن ابراهيم بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنه ان رجلا، اقام سلعة، وهو في السوق، فحلف بالله لقد اعطى بها ما لم يعط، ليوقع فيها رجلا من المسلمين، فنزلت {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خمس“ میں سے دیا تھا۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس ( جمع کر کے ) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي رضى الله عنهما اخبره ان عليا عليه السلام قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاني شارفا من الخمس، فلما اردت ان ابتني بفاطمة عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع ان يرتحل معي فناتي باذخر اردت ان ابيعه من الصواغين، واستعين به في وليمة عرسي
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا،، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت ولا شہر قرار دیا ہے۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ صرف «معرف» ( یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے ) کو اس کی اجازت ہے۔ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔ عکرمہ نے کہا، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ( کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو ) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ۔ عبدالوہاب نے خالد سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ( اذخر ) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله حرم مكة، ولم تحل لاحد قبلي، ولا لاحد بعدي، وانما حلت لي ساعة من نهار، ولا يختلى خلاها، ولا يعضد شجرها، ولا ينفر صيدها ولا يلتقط لقطتها الا لمعرف ". وقال عباس بن عبد المطلب الا الاذخر لصاغتنا ولسقف بيوتنا. فقال " الا الاذخر ". فقال عكرمة هل تدري ما ينفر صيدها هو ان تنحيه من الظل، وتنزل مكانه. قال عبد الوهاب عن خالد لصاغتنا وقبورنا
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل ( کافر ) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا ( آخرت میں ) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن خباب، قال كنت قينا في الجاهلية، وكان لي على العاص بن وايل دين، فاتيته اتقاضاه قال لا اعطيك حتى تكفر بمحمد صلى الله عليه وسلم. فقلت لا اكفر حتى يميتك الله، ثم تبعث. قال دعني حتى اموت وابعث، فساوتى مالا وولدا فاقضيك فنزلت {افرايت الذي كفر باياتنا وقال لاوتين مالا وولدا * اطلع الغيب ام اتخذ عند الرحمن عهدا}
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس دعوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا۔ اس درزی نے روٹی اور شوربا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے قتلے پیالے میں تلاش کر رہے تھے۔ اسی دن سے میں بھی برابر کدو کو پسند کرتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك رضى الله عنه يقول ان خياطا دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه، قال انس بن مالك فذهبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ذلك الطعام، فقرب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم خبزا ومرقا فيه دباء وقديد، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حوالى القصعة قال فلم ازل احب الدباء من يوميذ
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ایک عورت ”بردہ“ لے کر آئی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہیں معلوم بھی ہے کہ ”بردہ“ کسے کہتے ہیں۔ کہا گیا جی ہاں! بردہ، حاشیہ دار چادر کو کہتے ہیں۔ تو اس عورت نے کہا، یا رسول اللہ! میں نے خاص آپ کو پہنانے کے لیے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چادر کو بطور ازار کے پہنے ہوئے تھے، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے، یا رسول اللہ! یہ تو مجھے دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لینا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے پھر واپس تشریف لے گئے پھر ازار کو تہ کر کے ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ لوگوں نے کہا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ازار مانگ کر اچھا نہیں کیا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کیا کرتے ہیں۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ واللہ! میں نے تو صرف اس لیے یہ چادر مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر ہی ان کا کفن بنی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، قال سمعت سهل بن سعد رضى الله عنه قال جاءت امراة ببردة قال اتدرون ما البردة فقيل له نعم، هي الشملة، منسوج في حاشيتها قالت يا رسول الله، اني نسجت هذه بيدي اكسوكها. فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها. فخرج الينا وانها ازاره. فقال رجل من القوم يا رسول الله، اكسنيها، فقال " نعم ". فجلس النبي صلى الله عليه وسلم في المجلس، ثم رجع فطواها، ثم ارسل بها اليه. فقال له القوم ما احسنت، سالتها اياه، لقد علمت انه لا يرد سايلا. فقال الرجل والله ما سالته الا لتكون كفني يوم اموت. قال سهل فكانت كفنه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا۔ پھر ( جب منبر تیار ہو گیا تو ) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( مسجد میں ) رکھا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، عن ابي حازم، قال اتى رجال الى سهل بن سعد يسالونه عن المنبر، فقال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فلانة امراة قد سماها سهل " ان مري غلامك النجار، يعمل لي اعوادا اجلس عليهن اذا كلمت الناس ". فامرته يعملها من طرفاء الغابة ثم جاء بها، فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بها، فامر بها فوضعت، فجلس عليه
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا۔ تو جمعہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن ايمن، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان امراة من الانصار قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله، الا اجعل لك شييا تقعد عليه فان لي غلاما نجارا. قال " ان شيت ". قال فعملت له المنبر، فلما كان يوم الجمعة قعد النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر الذي صنع، فصاحت النخلة التي كان يخطب عندها حتى كادت ان تنشق، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى اخذها فضمها اليه، فجعلت تين انين الصبي الذي يسكت حتى استقرت. قال " بكت على ما كانت تسمع من الذكر
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار خریدا۔ اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم من يهودي طعاما بنسيية، ورهنه درعه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( ذات الرقاع یا تبوک ) میں تھا۔ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا۔ اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ فرمایا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے، چلتا ہی نہیں اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیرھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے ( یعنی ہانکنے لگے ) اور فرمایا کہ اب سوار ہو جا۔ چنانچہ میں سوار ہو گیا۔ اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، جابر تو نے شادی بھی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں! دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے۔ فرمایا، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی۔ ( جابر بھی کنوارے تھے ) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں۔ ( اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے ) اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں، جو انہیں جمع رکھے۔ ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا۔ اس کے بعد فرمایا، کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا جی ہاں! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے تھے۔ اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا۔ پھر ہم مسجد آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازہ پر ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ابھی آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فرمایا، پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ۔ میں اندر گیا اور نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دے۔ انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی تول دی۔ میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کو ذرا بلاؤ۔ میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے واپس کریں گے۔ حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے کوئی چیز نہیں تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ یہ اپنا اونٹ لے جا اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة، فابطا بي جملي واعيا، فاتى على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " جابر ". فقلت نعم. قال " ما شانك ". قلت ابطا على جملي واعيا، فتخلفت. فنزل يحجنه بمحجنه، ثم قال " اركب ". فركبت، فلقد رايته اكفه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تزوجت ". قلت نعم. قال " بكرا ام ثيبا ". قلت بل ثيبا. قال " افلا جارية تلاعبها وتلاعبك ". قلت ان لي اخوات، فاحببت ان اتزوج امراة تجمعهن، وتمشطهن، وتقوم عليهن. قال " اما انك قادم، فاذا قدمت فالكيس الكيس ". ثم قال " اتبيع جملك ". قلت نعم. فاشتراه مني باوقية، ثم قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلي، وقدمت بالغداة، فجينا الى المسجد، فوجدته على باب المسجد، قال " الان قدمت ". قلت نعم. قال " فدع جملك، فادخل فصل ركعتين ". فدخلت فصليت، فامر بلالا ان يزن له اوقية. فوزن لي بلال، فارجح في الميزان، فانطلقت حتى وليت فقال " ادع لي جابرا ". قلت الان يرد على الجمل، ولم يكن شىء ابغض الى منه. قال " خذ جملك ولك ثمنه
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس عليكم جناح** في مواسم الحج»، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرآت کی ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كانت عكاظ ومجنة وذو المجاز اسواقا في الجاهلية، فلما كان الاسلام تاثموا من التجارة فيها، فانزل الله {ليس عليكم جناح} في مواسم الحج، قرا ابن عباس كذا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا یہاں ( مکہ میں ) ایک شخص نواس نام کا تھا۔ اس کے پاس ایک بیمار اونٹ تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے شریک سے وہی اونٹ خرید لائے۔ وہ شخص آیا تو اس کے ساجھی نے کہا کہ ہم نے تو وہ اونٹ بیچ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کسے بیچا؟ شریک نے کہا کہ ایک شیخ کے ہاتھوں جو اس طرح کے تھے۔ اس نے کہا افسوس! وہ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ساتھی نے آپ کو مریض اونٹ بیچ دیا ہے اور آپ سے اس نے اس کے مرض کی وضاحت بھی نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے جاؤ۔ بیان کیا کہ جب وہ اس کو لے جانے لگا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا رہنے دو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہیں ( آپ نے فرمایا تھا کہ ) «لا عدوى.» ( یعنی امراض چھوت والے نہیں ہوتے ) علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان نے اس روایت کو عمرو سے سنا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال عمرو كان ها هنا رجل اسمه نواس، وكانت عنده ابل هيم، فذهب ابن عمر رضى الله عنهما فاشترى تلك الابل من شريك له، فجاء اليه شريكه فقال بعنا تلك الابل. فقال ممن بعتها قال من شيخ، كذا وكذا. فقال ويحك ذاك والله ابن عمر. فجاءه فقال ان شريكي باعك ابلا هيما، ولم يعرفك. قال فاستقها. قال فلما ذهب يستاقها فقال دعها، رضينا بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى. سمع سفيان عمرا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا، ان سے ابن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک زرہ تحفہ دی اور میں نے اسے بیچ دیا۔ پھر میں نے اس کی قیمت سے قبیلہ بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن ابن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة رضى الله عنه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حنين، فاعطاه يعني درعا فبعت الدرع، فابتعت به مخرفا في بني سلمة، فانه لاول مال تاثلته في الاسلام
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا اور ان سے ان کے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔
حدثني موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا ابو بردة بن عبد الله، قال سمعت ابا بردة بن ابي موسى، عن ابيه رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل الجليس الصالح والجليس السوء كمثل صاحب المسك، وكير الحداد، لا يعدمك من صاحب المسك اما تشتريه، او تجد ريحه، وكير الحداد يحرق بدنك او ثوبك او تجد منه ريحا خبيثة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں حمید نے، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور ( بطور اجرت ) انہیں دینے کے لیے حکم فرمایا۔ اور ان کے مالک کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال حجم ابو طيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر له بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا من خراجه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے جو عبداللہ کے بیٹے ہیں بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور جس نے پچھنا لگایا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت بھی دی، اگر اس کی اجرت حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہرگز نہ دیتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد هو ابن عبد الله حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال احتجم النبي صلى الله عليه وسلم واعطى الذي حجمه، ولو كان حراما لم يعطه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن حفص نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ اسے ( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے ( بیچ کر ) فائدہ اٹھاؤ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا ابو بكر بن حفص، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال ارسل النبي صلى الله عليه وسلم الى عمر رضى الله عنه بحلة حرير او سيراء فراها عليه، فقال " اني لم ارسل بها اليك لتلبسها، انما يلبسها من لا خلاق له، انما بعثت اليك لتستمتع بها ". يعني تبيعها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر جوں ہی اس پر پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہیں ہوئے۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض کیا، یا رسول اللہ! میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگتی ہوں، فرمائیے مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گدا کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ ہی کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن اس طرح کی مورتیں بنانے والے لوگ قیامت کے دن عذاب کئے جائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس چیز کو بنایا اسے زندہ کر دکھاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ( رحمت کے ) فرشتے ان میں داخل نہیں ہوتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة ام المومنين رضى الله عنها انها اخبرته انها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما راها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب، فلم يدخله، فعرفت في وجهه الكراهية، فقلت يا رسول الله، اتوب الى الله والى رسوله صلى الله عليه وسلم ماذا اذنبت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بال هذه النمرقة ". قلت اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اصحاب هذه الصور يوم القيامة يعذبون، فيقال لهم احيوا ما خلقتم ". وقال " ان البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملايكة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے، ان سے ابوالتیاح نے، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے بنو نجار! اپنے باغ کی قیمت مقرر کر دو۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کو مسجد کے لیے خریدنا چاہتے تھے ) اس باغ میں کچھ حصہ تو ویرانہ اور کچھ حصے میں کھجور کے درخت تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الوارث، عن ابي التياح، عن انس رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بني النجار ثامنوني بحايطكم ". وفيه خرب ونخل