Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ ( تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے ) نافع نے کہا کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو ( خریدنے کے بعد ) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے۔
حدثنا صدقة، اخبرنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى، قال سمعت نافعا، عن ابن عمر، رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان المتبايعين بالخيار في بيعهما، ما لم يتفرقا، او يكون البيع خيارا ". قال نافع وكان ابن عمر اذا اشترى شييا يعجبه فارق صاحبه
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالخلیل نے، ان سے عبداللہ بن حارث نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بیچنے اور خریدنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں ( معاملہ کو باقی رکھنے یا توڑ دینے کا ) اختیار ہوتا ہے۔ احمد نے یہ زیادتی کی کہ ہم سے بہز نے بیان کیا کہ ہمام نے بیان کیا کہ میں نے اس کا ذکر ابوالتیاح کے سامنے کیا تو انہوں نے بتلایا کہ جب عبداللہ بن حارث نے یہ حدیث بیان کی تھی، تو میں بھی اس وقت ابوالخلیل کے ساتھ موجود تھا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يفترقا ". وزاد احمد حدثنا بهز، قال قال همام فذكرت ذلك لابي التياح فقال كنت مع ابي الخليل لما حدثه عبد الله بن الحارث بهذا الحديث
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے والے اور بیچنے والے کو ( بیع توڑ دینے کا ) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنے دوسرے فریق سے یہ نہ کہہ دے کہ پسند کر لو۔ کبھی یہ بھی کہا کہ ”یا اختیار کی شرط کے ساتھ بیع ہو۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، او يقول احدهما لصاحبه اختر ". وربما قال او يكون بيع خيار
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہ ان کو قتادہ نے خبر دی کہ مجھے صالح ابوالخلیل نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن حارث نے، کہا کہ میں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہو جائیں انہیں اختیار باقی رہتا ہے۔ اب اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات صاف صاف بیان اور واضح کر دی، تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے کوئی بات چھپائی یا جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت میں سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا حبان، حدثنا شعبة، قال قتادة اخبرني عن صالح ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، قال سمعت حكيم بن حزام رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وان كذبا وكتما محقت بركة بيعهما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ مگر بیع خیار میں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يتفرقا، الا بيع الخيار
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کی تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں ( بیع کو توڑ دینے کا ) اختیار باقی رہتا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی، اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا تبايع الرجلان فكل واحد منهما بالخيار، ما لم يتفرقا، وكانا جميعا، او يخير احدهما الاخر فتبايعا على ذلك، فقد وجب البيع، وان تفرقا بعد ان يتبايعا، ولم يترك واحد منهما البيع، فقد وجب البيع
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی بھی خریدنے اور بیچنے والے میں اس وقت تک بیع پختہ نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ بیع جس میں مشترکہ اختیار کی شرط لگا دی گئی ہو اس سے الگ ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل بيعين لا بيع بينهما حتى يتفرقا، الا بيع الخيار
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا، کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوخلیل نے، ان سے عبداللہ بن حارث نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں ( بیع توڑ دینے کا ) اختیار ہے۔ ہمام راوی نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ «يختار» تین مرتبہ لکھا ہوا پایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور بات صاف صاف واضح کر دی تو انہیں ان کی بیع میں برکت ملتی ہے اور اگر انہوں نے جھوٹی باتیں بنائیں اور ( کسی عیب کو ) چھپایا تو تھوڑا سا نفع شاید وہ کما لیں، لیکن ان کی بیع میں برکت نہیں ہو گی۔ ( حبان نے ) کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے سنا کہ یہی حدیث وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے تھے۔
حدثني اسحاق، حدثنا حبان، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا " قال همام وجدت في كتابي يختار ثلاث مرار "فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وان كذبا وكتما فعسى ان يربحا ربحا، ويمحقا بركة بيعهما ". قال وحدثنا همام، حدثنا ابو التياح، انه سمع عبد الله بن الحارث، يحدث بهذا الحديث عن حكيم بن حزام، عن النبي صلى الله عليه وسلم
حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ اکثر وہ مجھے مغلوب کر کے سب سے آگے نکل جاتا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے واپس کر دیتے۔ وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ ڈال۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہی کا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے یہ اونٹ دیدے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اونٹ بیچ ڈالا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تیرا ہو گیا جس طرح تو چاہے اسے استعمال کر۔
وقال الحميدي حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكنت على بكر صعب لعمر، فكان يغلبني فيتقدم امام القوم، فيزجره عمر ويرده، ثم يتقدم فيزجره عمر ويرده فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعمر " بعنيه ". قال هو لك يا رسول الله. قال " بعنيه ". فباعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد الله بن عمر تصنع به ما شيت
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ میں نے امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی تھی۔ پھر جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے اس خیال سے باہر نکل گیا کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کر دیں۔ کیونکہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو ( بیع توڑنے کا ) اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہماری خرید و فروخت پوری ہو گئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ( اس تبادلہ کے نتیجے میں، میں نے ان کی پہلی زمین سے ) انہیں تین دن کے سفر کی دوری پر ثمود کی زمین کی طرف دھکیل دیا تھا اور انہوں نے مجھے ( میری مسافت کم کر کے ) مدینہ سے صرف تین دن کے سفر کی دوری پر لا چھوڑا تھا۔
قال ابو عبد الله وقال الليث حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال بعت من امير المومنين عثمان مالا بالوادي بمال له بخيبر، فلما تبايعنا رجعت على عقبي حتى خرجت من بيته، خشية ان يرادني البيع، وكانت السنة ان المتبايعين بالخيار حتى يتفرقا، قال عبد الله فلما وجب بيعي وبيعه رايت اني قد غبنته باني سقته الى ارض ثمود بثلاث ليال وساقني الى المدينة بثلاث ليال
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص ( حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی خرید و فروخت کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ ”بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رجلا، ذكر للنبي صلى الله عليه وسلم انه يخدع في البيوع، فقال " اذا بايعت فقل لا خلابة
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے محمد بن سوقہ نے، ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، عن محمد بن سوقة، عن نافع بن جبير بن مطعم، قال حدثتني عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يغزو جيش الكعبة، فاذا كانوا ببيداء من الارض يخسف باولهم واخرهم ". قالت قلت يا رسول الله كيف يخسف باولهم واخرهم، وفيهم اسواقهم ومن ليس منهم. قال " يخسف باولهم واخرهم، ثم يبعثون على نياتهم
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ کسی کی نماز بازار میں یا اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے درجوں میں کچھ اوپر بیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ کیونکہ جب ایک شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں صرف نماز کے ارادہ سے آتا ہے۔ نماز کے سوا اور کوئی چیز اسے لے جانے کا باعث نہیں بنتی تو جو بھی قدم وہ اٹھاتا ہے اس سے ایک درجہ اس کا بلند ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے ایک گناہ اس کا معاف ہوتا ہے اور جب تک ایک شخص اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے جس پر اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اس کے لیے رحمت کی دعائیں یوں کرتے رہتے ہیں «اللهم صل عليه، اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما۔“ یہ اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ وضو توڑ کر فرشتوں کو تکلیف نہ پہنچائے جتنی دیر تک بھی آدمی نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے وہ سب نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة احدكم في جماعة تزيد على صلاته في سوقه وبيته بضعا وعشرين درجة، وذلك بانه اذا توضا فاحسن الوضوء، ثم اتى المسجد، لا يريد الا الصلاة، لا ينهزه الا الصلاة، لم يخط خطوة الا رفع بها درجة، او حطت عنه بها خطيية، والملايكة تصلي على احدكم ما دام في مصلاه الذي يصلي فيه اللهم صل عليه، اللهم ارحمه، ما لم يحدث فيه، ما لم يوذ فيه ". وقال " احدكم في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بازار میں تھے۔ کہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا۔ ( کیونکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہی تھی ) اس پر اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اس کو بلایا تھا۔ ( یعنی ایک دوسرے شخص کو جو ابوالقاسم ہی کنیت رکھتا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت تم اپنے لیے نہ رکھو۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم في السوق، فقال رجل يا ابا القاسم. فالتفت اليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال انما دعوت هذا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سموا باسمي، ولا تكنوا بكنيتي
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے بقیع میں ( کسی کو ) پکارا ”اے ابوالقاسم“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا۔ اس دوسرے آدمی کو پکارا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا زهير، عن حميد، عن انس رضى الله عنه دعا رجل بالبقيع يا ابا القاسم. فالتفت اليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال لم اعنك. قال " سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن یزید نے ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصہ میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر ( واپس ہوئے اور ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا، وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا، پھر فرمایا اے اللہ؟! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔ سفیان نے کہا کہ عبیداللہ نے مجھے خبر دی، انہوں نے نافع بن جبیر کو دیکھا کہ انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک ہی رکعت پڑھی تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابي هريرة الدوسي رضى الله عنه قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم في طايفة النهار لا يكلمني ولا اكلمه حتى اتى سوق بني قينقاع، فجلس بفناء بيت فاطمة فقال " اثم لكع اثم لكع ". فحبسته شييا فظننت انها تلبسه سخابا او تغسله، فجاء يشتد حتى عانقه وقبله، وقال " اللهم احببه واحب من يحبه ". قال سفيان قال عبيد الله اخبرني انه راى نافع بن جبير اوتر بركعة
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، حدثنا ابن عمر، انهم كانوا يشترون الطعام من الركبان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فيبعث عليهم من يمنعهم ان يبيعوه حيث اشتروه، حتى ينقلوه حيث يباع الطعام. قال وحدثنا ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يباع الطعام اذا اشتراه حتى يستوفيه
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، حدثنا ابن عمر، انهم كانوا يشترون الطعام من الركبان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فيبعث عليهم من يمنعهم ان يبيعوه حيث اشتروه، حتى ينقلوه حيث يباع الطعام. قال وحدثنا ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يباع الطعام اذا اشتراه حتى يستوفيه
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ ”اے نبی! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخو ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، ( اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ) وہ ( میرا بندہ اور رسول ) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرا لے، یعنی لوگ «لا إله إلا الله» نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ اس حدیث کی متابعت عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال سے کی ہے۔ اور سعید نے بیان کیا کہ ان سے ہلال نے، ان سے عطاء نے کہ «غلف» ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پردے میں ہو۔ «سيف أغلف، وقوس غلفاء» اسی سے ہے اور «رجل أغلف» اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، عن عطاء بن يسار، قال لقيت عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما قلت اخبرني عن صفة، رسول الله صلى الله عليه وسلم في التوراة. قال اجل، والله انه لموصوف في التوراة ببعض صفته في القران يا ايها النبي انا ارسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا، وحرزا للاميين، انت عبدي ورسولي سميتك المتوكل، ليس بفظ ولا غليظ ولا سخاب في الاسواق، ولا يدفع بالسيية السيية ولكن يعفو ويغفر، ولن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء بان يقولوا لا اله الا الله. ويفتح بها اعينا عميا، واذانا صما، وقلوبا غلفا. تابعه عبد العزيز بن ابي سلمة عن هلال. وقال سعيد عن هلال عن عطاء عن ابن سلام. غلف كل شىء في غلاف، سيف اغلف، وقوس غلفاء، ورجل اغلف اذا لم يكن مختونا
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع طعاما فلا يبيعه حتى يستوفيه