Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ان سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بہت زیادہ بیان کرتا ہے، اور یہ بھی کہتے ہو کہ مہاجرین و انصار ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) کی طرح کیوں حدیث نہیں بیان کرتے؟ اصل وجہ یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازار کی خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور میں اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا، اس لیے جب یہ بھائی غیر حاضر ہوتے تو میں اس وقت بھی حاضر رہتا اور میں ( وہ باتیں آپ سے سن کر ) یاد کر لیتا جسے ان حضرات کو ( اپنے کاروبار کی مشغولیت کی وجہ سے یا تو سننے کا موقعہ نہیں ملتا تھا یا ) وہ بھول جایا کرتے تھے۔ اسی طرح میرے بھائی انصار اپنے اموال ( کھیتوں اور باغوں ) میں مشغول رہتے، لیکن میں صفہ میں مقیم مسکینوں میں سے ایک مسکین آدمی تھا۔ جب یہ حضرات انصار بھولتے تو میں اسے یاد رکھتا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو کوئی اپنا کپڑا پھیلائے اور اس وقت تک پھیلائے رکھے جب تک اپنی یہ گفتگو نہ پوری کر لوں، پھر ( جب میری گفتگو پوری ہو جائے تو ) اس کپڑے کو سمیٹ لے تو وہ میری باتوں کو ( اپنے دل و دماغ میں ہمیشہ ) یاد رکھے گا، چنانچہ میں نے اپنا کمبل اپنے سامنے پھیلا دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مقالہ مبارک ختم فرمایا، تو میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بعد پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال انكم تقولون ان ابا هريرة يكثر الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. وتقولون ما بال المهاجرين والانصار لا يحدثون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثل حديث ابي هريرة وان اخوتي من المهاجرين كان يشغلهم صفق بالاسواق، وكنت الزم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ملء بطني، فاشهد اذا غابوا واحفظ اذا نسوا، وكان يشغل اخوتي من الانصار عمل اموالهم، وكنت امرا مسكينا من مساكين الصفة اعي حين ينسون، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في حديث يحدثه " انه لن يبسط احد ثوبه حتى اقضي مقالتي هذه، ثم يجمع اليه ثوبه الا وعى ما اقول ". فبسطت نمرة على، حتى اذا قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقالته جمعتها الى صدري، فما نسيت من مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك من شىء
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع انصاری کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں انصار کے سب سے زیادہ مالدار لوگوں میں سے ہوں۔ اس لیے اپنا آدھا مال میں آپ کو دیتا ہوں اور آپ خود دیکھ لیں کہ میری دو بیویوں میں سے آپ کو کون زیادہ پسند ہے۔ میں آپ کے لیے انہیں اپنے سے الگ کر دوں گا ( یعنی طلاق دے دوں گا ) جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو آپ ان سے نکاح کر لیں۔ بیان کیا کہ اس پر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ کیا یہاں کوئی بازار ہے جہاں کاروبار ہوتا ہو؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ”سوق قینقاع“ کا نام لیا۔ بیان کیا کہ جب صبح ہوئی تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ پنیر اور گھی لائے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ تجارت کے لیے بازار آنے جانے لگے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زرد رنگ کا نشان ( کپڑے یا جسم پر ) تھا۔ رسول اللہ نے دریافت فرمایا کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس سے؟ بولے کہ ایک انصاری خاتون سے۔ دریافت فرمایا اور مہر کتنا دیا ہے؟ عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے یا ( یہ کہا کہ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تو ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن جده، قال قال عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه لما قدمنا المدينة اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيني وبين سعد بن الربيع فقال سعد بن الربيع اني اكثر الانصار مالا، فاقسم لك نصف مالي، وانظر اى زوجتى هويت نزلت لك عنها، فاذا حلت تزوجتها. قال فقال عبد الرحمن لا حاجة لي في ذلك، هل من سوق فيه تجارة قال سوق قينقاع. قال فغدا اليه عبد الرحمن، فاتى باقط وسمن قال ثم تابع الغدو، فما لبث ان جاء عبد الرحمن عليه اثر صفرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تزوجت ". قال نعم. قال " ومن ". قال امراة من الانصار. قال " كم سقت ". قال زنة نواة من ذهب او نواة من ذهب. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے زہیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ مالدار آدمی تھے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا میں اور آپ میرے مال سے آدھا آدھا لے لیں۔ اور میں ( اپنی ایک بیوی سے ) آپ کی شادی کرا دوں۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے تو آپ بازار کا راستہ بتا دیجئیے، پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہ ہوئے جب تک نفع میں کافی پنیر اور گھی نہ بچا لیا۔ اب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے کچھ دن گزرے ہوں گے یا اللہ نے جتنا چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے کہ ان پر زردی کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ زردی کیسی ہے؟ عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا ہے؟ عرض کیا ”سونے کی ایک گٹھلی“ یا ( یہ کہا کہ ) ”ایک گٹھلی برابر سونا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا حميد، عن انس رضى الله عنه قال قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة فاخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، وكان سعد ذا غنى، فقال لعبد الرحمن اقاسمك مالي نصفين، وازوجك. قال بارك الله لك في اهلك ومالك، دلوني على السوق. فما رجع حتى استفضل اقطا وسمنا، فاتى به اهل منزله، فمكثنا يسيرا او ما شاء الله فجاء وعليه وضر من صفرة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " مهيم ". قال يا رسول الله تزوجت امراة من الانصار. قال " ما سقت اليها ". قال نواة من ذهب، او وزن نواة من ذهب. قال " اولم ولو بشاة
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ مجنہ، اور ذوالمجاز عہد جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو ایسا ہوا کہ مسلمان لوگ ( خرید و فروخت کے لیے ان بازاروں میں جانا ) گناہ سمجھنے لگے۔ اس لیے یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل ( یعنی رزق حلال ) کی تلاش کرو حج کے موسم میں“ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرآت ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كانت عكاظ ومجنة وذو المجاز اسواقا في الجاهلية، فلما كان الاسلام فكانهم تاثموا فيه فنزلت {ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم } في مواسم الحج، قراها ابن عباس
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے، ان سے شعبی نے، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، ان سے شعبی نے، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (چوتھی سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوفروہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال بھی کھلا ہوا ہے اور حرام بھی ظاہر ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ پس جو شخص ان چیزوں کو چھوڑے جن کے گناہ ہونے یا نہ ہونے میں شبہ ہے وہ ان چیزوں کو تو ضروری ہی چھوڑ دے گا جن کا گناہ ہونا ظاہر ہے لیکن جو شخص شبہ کی چیزوں کے کرنے کی جرات کرے گا تو قریب ہے کہ وہ ان گناہوں میں مبتلا ہو جائے جو بالکل واضح طور پر گناہ ہیں ( لوگو یاد رکھو ) گناہ اللہ تعالیٰ کی چراگاہ ہے جو ( جانور بھی ) چراگاہ کے اردگرد چرے گا اس کا چراگاہ کے اندر چلا جانا غیر ممکن نہیں۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن الشعبي، سمعت النعمان بن بشير رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ابن عيينة، عن ابي فروة، عن الشعبي، قال سمعت النعمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن ابي فروة، سمعت الشعبي، سمعت النعمان بن بشير رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي فروة، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الحلال بين، والحرام بين وبينهما امور مشتبهة، فمن ترك ما شبه عليه من الاثم كان لما استبان اترك، ومن اجترا على ما يشك فيه من الاثم اوشك ان يواقع ما استبان، والمعاصي حمى الله، من يرتع حول الحمى يوشك ان يواقعه
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، اخبرنا عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين، حدثنا عبد الله بن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث رضى الله عنه ان امراة، سوداء جاءت، فزعمت انها ارضعتهما، فذكر للنبي فاعرض عنه، وتبسم النبي صلى الله عليه وسلم. قال " كيف وقد قيل ". وقد كانت تحته ابنة ابي اهاب التميمي
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص ( کافر ) نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ( مسلمان ) کو ( مرتے وقت ) وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے۔ اس لیے اسے تم اپنے قبضہ میں لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے اسے لے لیا، اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور وہ اس کے متعلق مجھے وصیت کر گئے ہیں، لیکن عبد بن زمعہ نے اٹھ کر کہا کہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر دونوں یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کی انہوں نے وصیت کی تھی۔ اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا، یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے۔ انہیں کے بستر پر اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہارے ہی ساتھ رہے گا۔ اس کے بعد فرمایا، بچہ اسی کا ہوتا ہے جو جائز شوہر یا مالک ہو جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا ہو۔ اور حرام کار کے حصہ میں پتھروں کی سزا ہے۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی شباہت اس لڑکے میں محسوس کر لی تھی۔ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان عتبة بن ابي وقاص عهد الى اخيه سعد بن ابي وقاص ان ابن وليدة زمعة مني فاقبضه. قالت فلما كان عام الفتح اخذه سعد بن ابي وقاص وقال ابن اخي، قد عهد الى فيه. فقام عبد بن زمعة، فقال اخي، وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فتساوقا الى النبي صلى الله عليه وسلم. فقال سعد يا رسول الله، ابن اخي، كان قد عهد الى فيه. فقال عبد بن زمعة اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة ". ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش، وللعاهر الحجر ". ثم قال لسودة بنت زمعة زوج النبي صلى الله عليه وسلم " احتجبي منه ". لما راى من شبهه بعتبة، فما راها حتى لقي الله
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی سفر نے خبر دی، انہیں شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( تیر کے شکار ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا۔ اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھا۔ کیونکہ وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنا کتا ( شکار کے لیے ) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسے شکار کا گوشت نہ کھا۔ کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کے لیے پڑھی ہے۔ دوسرے کے لیے تو نہیں پڑھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم رضى الله عنه قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن المعراض فقال " اذا اصاب بحده فكل، واذا اصاب بعرضه فلا تاكل، فانه وقيذ ". قلت يا رسول الله ارسل كلبي واسمي، فاجد معه على الصيد كلبا اخر لم اسم عليه، ولا ادري ايهما اخذ. قال " لا تاكل، انما سميت على كلبك ولم تسم على الاخر
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ اور ہمام بن منبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے بستر پر پڑی ہوئی ایک کھجور پاتا ہوں۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن طلحة، عن انس رضى الله عنه قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بتمرة مسقوطة فقال " لولا ان تكون صدقة لاكلتها ". وقال همام عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اجد تمرة ساقطة على فراشي
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جسے نماز میں کچھ شبہ ہوا نکلنے کا ہو جاتا ہے۔ آیا اسے نماز توڑ دینی چاہئے؟ فرمایا کہ نہیں۔ جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے ( اس وقت تک نماز نہ توڑے ) ابن ابی حفصہ نے زہری سے بیان کیا ( ایسے شخص پر ) وضو واجب نہیں جب تک حدث کی بدبو نہ محسوس کرے یا آواز نہ سن لے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، قال شكي الى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد في الصلاة شييا، ايقطع الصلاة قال " لا، حتى يسمع صوتا او يجد ريحا ". وقال ابن ابي حفصة عن الزهري لا وضوء الا فيما وجدت الريح او سمعت الصوت
ہم سے احمد بن مقدام عجلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بہت سے لوگ ہمارے یہاں گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ کا نام انہوں نے ذبح کے وقت لیا تھا یا نہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بسم اللہ پڑھ کے اسے کھا لیا کرو۔
حدثني احمد بن المقدام العجلي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، حدثنا هشام بن عروة،، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان قوما، قالوا يا رسول الله، ان قوما ياتوننا باللحم لا ندري اذكروا اسم الله عليه ام لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سموا الله عليه وكلوه
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ( یعنی خطبہ سن رہے تھے ) کہ ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے۔ ( سب نمازی ) لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها» ”جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔“
حدثنا طلق بن غنام، حدثنا زايدة، عن حصين، عن سالم، قال حدثني جابر رضى الله عنه قال بينما نحن نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ اقبلت من الشام عير، تحمل طعاما، فالتفتوا اليها، حتى ما بقي مع النبي صلى الله عليه وسلم الا اثنا عشر رجلا فنزلت {واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها}
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ياتي على الناس زمان، لا يبالي المرء ما اخذ منه امن الحلال ام من الحرام
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، عن ابي المنهال، قال كنت اتجر في الصرف، فسالت زيد بن ارقم رضى الله عنه فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم. وحدثني الفضل بن يعقوب، حدثنا الحجاج بن محمد، قال ابن جريج اخبرني عمرو بن دينار، وعامر بن مصعب، انهما سمعا ابا المنهال، يقول سالت البراء بن عازب وزيد بن ارقم عن الصرف، فقالا كنا تاجرين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصرف فقال " ان كان يدا بيد فلا باس، وان كان نساء فلا يصلح
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، عن ابي المنهال، قال كنت اتجر في الصرف، فسالت زيد بن ارقم رضى الله عنه فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم. وحدثني الفضل بن يعقوب، حدثنا الحجاج بن محمد، قال ابن جريج اخبرني عمرو بن دينار، وعامر بن مصعب، انهما سمعا ابا المنهال، يقول سالت البراء بن عازب وزيد بن ارقم عن الصرف، فقالا كنا تاجرين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصرف فقال " ان كان يدا بيد فلا باس، وان كان نساء فلا يصلح
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں عبید بن عمیر نے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) تھا ( کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا ( کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا مخلد بن يزيد، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن عبيد بن عمير، ان ابا موسى الاشعري، استاذن على عمر بن الخطاب رضى الله عنه فلم يوذن له، وكانه كان مشغولا فرجع ابو موسى، ففرغ عمر فقال الم اسمع صوت عبد الله بن قيس ايذنوا له قيل قد رجع. فدعاه. فقال كنا نومر بذلك. فقال تاتيني على ذلك بالبينة. فانطلق الى مجلس الانصار، فسالهم. فقالوا لا يشهد لك على هذا الا اصغرنا ابو سعيد الخدري. فذهب بابي سعيد الخدري. فقال عمر اخفي على من امر رسول الله صلى الله عليه وسلم الهاني الصفق بالاسواق. يعني الخروج الى تجارة
لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ذكر رجلا من بني اسراييل، خرج في البحر فقضى حاجته. وساق الحديث. حدثني عبد الله بن صالح قال حدثني الليث بهذا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( تجارتی ) اونٹوں ( کا قافلہ ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ( کے خطبہ ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“
حدثني محمد، قال حدثني محمد بن فضيل، عن حصين، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر رضى الله عنه قال اقبلت عير، ونحن نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة، فانفض الناس الا اثنى عشر رجلا، فنزلت هذه الاية {واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما}
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( غلہ وغیرہ ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا انفقت المراة من طعام بيتها، غير مفسدة، كان لها اجرها بما انفقت، ولزوجها بما كسب، وللخازن مثل ذلك، لا ينقص بعضهم اجر بعض شييا
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی ( اللہ کے راستے میں ) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔
حدثني يحيى بن جعفر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، قال سمعت ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا انفقت المراة من كسب زوجها عن غير امره، فله نصف اجره