Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے محمد بن یعقوب کرمانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلم نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔
حدثنا محمد بن ابي يعقوب الكرماني، حدثنا حسان، حدثنا يونس، حدثنا محمد، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سره ان يبسط له رزقه او ينسا له في اثره فليصل رحمه
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں ( سامان ) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال ذكرنا عند ابراهيم الرهن في السلم فقال حدثني الاسود عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى طعاما من يهودي الى اجل، ورهنه درعا من حديد
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی ( سالن کے طور پر ) لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی۔
حدثنا مسلم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس، ح. حدثني محمد بن عبد الله بن حوشب، حدثنا اسباط ابو اليسع البصري، حدثنا هشام الدستوايي، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه انه مشى الى النبي صلى الله عليه وسلم بخبز شعير، واهالة سنخة، ولقد رهن النبي صلى الله عليه وسلم درعا له بالمدينة عند يهودي، واخذ منه شعيرا لاهله، ولقد سمعته يقول " ما امسى عند ال محمد صلى الله عليه وسلم صاع بر ولا صاع حب، وان عنده لتسع نسوة
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو فرمایا، میری قوم جانتی ہے کہ میرا ( تجارتی ) کاروبار میرے گھر والوں کی گذران کے لیے کافی رہا ہے، لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں، اس لیے آل ابوبکر اب بیت المال میں سے کھائے گی، اور ابوبکر مسلمانوں کا مال تجارت بڑھاتا رہے گا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها قالت لما استخلف ابو بكر الصديق قال لقد علم قومي ان حرفتي لم تكن تعجز عن ميونة اهلي، وشغلت بامر المسلمين، فسياكل ال ابي بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور ( زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے ) ان کے جسم سے ( پسینے کی ) بو آ جاتی تھی۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہو گا۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔
حدثني محمد، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد، قال حدثني ابو الاسود، عن عروة، قال قالت عايشة رضى الله عنها كان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عمال انفسهم، وكان يكون لهم ارواح فقيل لهم لو اغتسلتم. رواه همام عن هشام عن ابيه عن عايشة
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ثور نے خبر دی، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن المقدام رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اكل احد طعاما قط خيرا من ان ياكل من عمل يده، وان نبي الله داود عليه السلام كان ياكل من عمل يده
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، حدثنا ابو هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان داود عليه السلام كان لا ياكل الا من عمل يده
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي عبيد، مولى عبد الرحمن بن عوف انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يحتطب احدكم حزمة على ظهره خير من ان يسال احدا، فيعطيه او يمنعه
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن الزبير بن العوام رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لان ياخذ احدكم احبله خير له من ان يسال الناس
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔
حدثنا علي بن عياش، حدثنا ابو غسان، محمد بن مطرف قال حدثني محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رحم الله رجلا سمحا اذا باع، واذا اشترى، واذا اقتضى
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس ( موت کے وقت ) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو ( جو ان کے مقروض ہوں ) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے ہیں ”کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت ) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ ( اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا، ان سے ربعی نے ( کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے لوگوں کے ( جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا ) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا منصور، ان ربعي بن حراش، حدثه ان حذيفة رضى الله عنه حدثه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " تلقت الملايكة روح رجل ممن كان قبلكم قالوا اعملت من الخير شييا قال كنت امر فتياني ان ينظروا ويتجاوزوا عن الموسر قال قال فتجاوزوا عنه ". وقال ابو مالك عن ربعي " كنت ايسر على الموسر وانظر المعسر ". وتابعه شعبة عن عبد الملك عن ربعي. وقال ابو عوانة عن عبد الملك عن ربعي " انظر الموسر، واتجاوز عن المعسر ". وقال نعيم بن ابي هند عن ربعي " فاقبل من الموسر، واتجاوز عن المعسر
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان تاجر يداين الناس، فاذا راى معسرا قال لفتيانه تجاوزوا عنه، لعل الله ان يتجاوز عنا، فتجاوز الله عنه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے صالح ابوخلیل نے، ان سے عبیداللہ بن حارث نے، انہوں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار ( بیع ختم کر دینے کا ) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا ) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، رفعه الى حكيم بن حزام رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا او قال حتى يتفرقا فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وان كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال كنا نرزق تمر الجمع، وهو الخلط من التمر، وكنا نبيع صاعين بصاع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صاعين بصاع، ولا درهمين بدرهم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابوشعیب رضی اللہ عنہ تھی، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا۔ فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمی کے لیے کافی ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آ گئے ہیں۔ مگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں، اور اگر چاہیں تو واپس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني شقيق، عن ابي مسعود، قال جاء رجل من الانصار يكنى ابا شعيب فقال لغلام له قصاب اجعل لي طعاما يكفي خمسة، فاني اريد ان ادعو النبي صلى الله عليه وسلم خامس خمسة، فاني قد عرفت في وجهه الجوع. فدعاهم، فجاء معهم رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذا قد تبعنا، فان شيت ان تاذن له فاذن له، وان شيت ان يرجع رجع ". فقال لا، بل قد اذنت له
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں ( کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں ) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا الخليل، يحدث عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا او قال حتى يتفرقا فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وان كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لياتين على الناس زمان لا يبالي المرء بما اخذ المال، امن حلال ام من حرام
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ( سورۃ ) بقرہ کی آخری آیتیں «الذين يأكلون الربا *** الخ» نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کر دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما نزلت اخر البقرة قراهن النبي صلى الله عليه وسلم عليهم في المسجد، ثم حرم التجارة في الخمر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات ( خواب میں ) میں نے دو آدمی دیکھے، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے، وہاں ( نہر کے کنارے ) ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اور نہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا۔ ( نہر کے کنارے پر ) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا۔ میں نے ( اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے ) پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا ابو رجاء، عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " رايت الليلة رجلين اتياني، فاخرجاني الى ارض مقدسة، فانطلقنا حتى اتينا على نهر من دم فيه رجل قايم، وعلى وسط النهر رجل بين يديه حجارة، فاقبل الرجل الذي في النهر فاذا اراد الرجل ان يخرج رمى الرجل بحجر في فيه فرده حيث كان، فجعل كلما جاء ليخرج رمى في فيه بحجر، فيرجع كما كان، فقلت ما هذا فقال الذي رايته في النهر اكل الربا
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد کو ایک پچھنا لگانے والا غلام خریدتے دیکھا۔ میں نے یہ دیکھ کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی کو ( گودنا لگوانے سے ) سود لینے والے اور سود دینے والے کو ( سود لینے یا دینے سے ) منع فرمایا اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عون بن ابي جحيفة، قال رايت ابي اشترى عبدا حجاما، فسالته فقال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب، وثمن الدم، ونهى عن الواشمة والموشومة، واكل الربا، وموكله، ولعن المصور