Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ( میرے باپ ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے ( لوگوں کا ) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ ( ایک خاص قسم کی کھجور ) کو الگ رکھ اور عذق زید ( کھجور کی ایک قسم ) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔“ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، عن جابر رضى الله عنه قال توفي عبد الله بن عمرو بن حرام، وعليه دين فاستعنت النبي صلى الله عليه وسلم على غرمايه ان يضعوا من دينه، فطلب النبي صلى الله عليه وسلم اليهم، فلم يفعلوا، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اذهب فصنف تمرك اصنافا، العجوة على حدة، وعذق زيد على حدة، ثم ارسل الى ". ففعلت، ثم ارسلت الى النبي صلى الله عليه وسلم فجلس على اعلاه، او في وسطه ثم قال " كل للقوم ". فكلتهم حتى اوفيتهم الذي لهم، وبقي تمري، كانه لم ينقص منه شىء. وقال فراس عن الشعبي حدثني جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم، فما زال يكيل لهم حتى اداه، وقال هشام عن وهب عن جابر قال النبي صلى الله عليه وسلم " جذ له فاوف له
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے غلے کو ناپ لیا کرو۔ اس میں تمہیں برکت ہو گی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا الوليد، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كيلوا طعامكم يبارك لكم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا۔ اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اور اس کے لیے، اس کے مد اور صاع ( غلہ ناپنے کے دو پیمانے ) کی برکت کے لیے اس طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔
حدثنا موسى، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن عباد بن تميم الانصاري، عن عبد الله بن زيد رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان ابراهيم حرم مكة، ودعا لها، وحرمت المدينة كما حرم ابراهيم مكة، ودعوت لها في مدها وصاعها، مثل ما دعا ابراهيم عليه السلام لمكة
مجھ سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! انہیں ان کے پیمانوں میں برکت دے، اے اللہ! انہیں ان کے صاع اور مد میں برکت دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل مدینہ تھے۔
حدثني عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لهم في مكيالهم، وبارك لهم في صاعهم ومدهم ". يعني اهل المدينة
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان لوگوں کو دیکھا جو اناج کے ڈھیر ( بغیر تولے ہوئے محض اندازہ کر کے ) خرید لیتے ان کو مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک اپنے گھر نہ لے جائیں نہ بچیں۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه رضى الله عنه قال رايت الذين يشترون الطعام مجازفة يضربون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيعوه حتى ييووه الى رحالهم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ پر پوری طرح قبضہ سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔ طاؤس نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو روپے کا روپوں کے بدلے بیچنا ہوا جب کہ ابھی غلہ تو میعاد ہی پر دیا جائے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ «مرجئون» سے مراد «مؤخرون» یعنی مؤخر کرنا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يبيع الرجل طعاما حتى يستوفيه. قلت لابن عباس كيف ذاك قال ذاك دراهم بدراهم والطعام مرجا. قال ابو عبد الله مرجيون موخرون
مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی کوئی غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچے۔
حدثني ابو الوليد، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الله بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يقبضه
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار ان سے بیان کرتے تھے، اور ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس نے، کہ انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی بیع صرف ( یعنی دینار، درہم، اشرفی وغیرہ بدلنے کا کام ) کرتا ہے۔ طلحہ نے کہا کہ میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت کر سکوں گا جب کہ ہمارا خزانچی غابہ سے آ جائے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ زہری سے ہم نے اسی طرح حدیث یاد کی تھی۔ اس میں کوئی زیادتی نہیں تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ مجھے مالک بن اوس نے خبر دی کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں ( خریدنا ) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں ( خریدنا بیچنا ) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو، کھجور، کھجور کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو اور جَو، جَو کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، كان عمرو بن دينار يحدثه عن الزهري، عن مالك بن اوس، انه قال من عنده صرف فقال طلحة انا حتى يجيء خازننا من الغابة. قال سفيان هو الذي حفظناه من الزهري ليس فيه زيادة. فقال اخبرني مالك بن اوس سمع عمر بن الخطاب رضى الله عنه يخبر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذهب بالذهب ربا الا هاء وهاء، والبر بالبر ربا الا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء، والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا جو کچھ ہم نے عمرو بن دینار سے (سن کر) یاد کر رکھا ہے (وہ یہ ہے کہ) انہوں نے طاؤس سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع فرمایا تھا، وہ اس غلہ کی بیع تھی جس پر ابھی قبضہ نہ کیا گیا ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں تو تمام چیزوں کو اسی کے حکم میں سمجھتا ہوں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الذي حفظناه من عمرو بن دينار سمع طاوسا، يقول سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول اما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام ان يباع حتى يقبض. قال ابن عباس ولا احسب كل شىء الا مثله
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه ". زاد اسماعيل " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يقبضه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دیکھا کہ لوگوں کو اس پر تنبیہ کی جاتی جب وہ غلہ کا ڈھیر خرید کر کے اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے ہی اس کو بیچ ڈالتے۔ یعنی غلہ تو اس بات پر انہیں سزا دی جاتی تھی کہ وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے اس کو بیچ ڈالیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان ابن عمر رضى الله عنهما قال لقد رايت الناس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يبتاعون جزافا يعني الطعام يضربون ان يبيعوه في مكانهم حتى يوووه الى رحالهم
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایسے دن ( مکی زندگی میں ) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ ( معمول کے خلاف اچانک ) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، اخبرنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت لقل يوم كان ياتي على النبي صلى الله عليه وسلم الا ياتي فيه بيت ابي بكر احد طرفى النهار، فلما اذن له في الخروج الى المدينة لم يرعنا الا وقد اتانا ظهرا، فخبر به ابو بكر فقال ما جاءنا النبي صلى الله عليه وسلم في هذه الساعة، الا لامر حدث، فلما دخل عليه قال لابي بكر " اخرج من عندك ". قال يا رسول الله انما هما ابنتاى. يعني عايشة واسماء. قال " اشعرت انه قد اذن لي في الخروج ". قال الصحبة يا رسول الله. قال " الصحبة ". قال يا رسول الله ان عندي ناقتين اعددتهما للخروج، فخذ احداهما. قال " قد اخذتها بالثمن
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے بھائی کی خرید و فروخت میں دخل اندازی نہ کرے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع بعضكم على بيع اخيه
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی ( سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے ) بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص ( کسی عورت کو ) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيع حاضر لباد، ولا تناجشوا، ولا يبيع الرجل على بيع اخيه ولا يخطب على خطبة اخيه، ولا تسال المراة طلاق اختها لتكفا ما في انايها
ہم سے بشیر بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حسین مکتب نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد کیا۔ لیکن اتفاق سے وہ شخص مفلس ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے غلام کو لے کر فرمایا کہ اسے مجھ سے کون خریدے گا۔ اس پر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام ان کے حوالہ کر دیا۔
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الحسين المكتب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان رجلا اعتق غلاما له عن دبر، فاحتاج فاخذه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من يشتريه مني " فاشتراه نعيم بن عبد الله بكذا وكذا، فدفعه اليه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «نجش» ( فریب، دھوکہ ) سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النجش
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة، وكان بيعا يتبايعه اهل الجاهلية، كان الرجل يبتاع الجزور الى ان تنتج الناقة، ثم تنتج التي في بطنها
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے عامر بن سعید نے خبر دی، اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف ( جو خریدار ہوتا ) پھینکتا اور اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹے پلٹے یا اس کی طرف دیکھے ( صرف پھینک دینے کی وجہ سے وہ بیع لازم سمجھی جاتی تھی ) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسۃ سے بھی منع فرمایا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ ( خریدنے والا ) کپڑے کو بغیر دیکھے صرف اسے چھو دیتا ( اور اسی سے بیع لازم ہو جاتی تھی اسے بھی دھوکہ کی بیع قرار دیا گیا۔)
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عامر بن سعد، ان ابا سعيد رضى الله عنه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المنابذة، وهى طرح الرجل ثوبه بالبيع الى الرجل، قبل ان يقلبه، او ينظر اليه، ونهى عن الملامسة، والملامسة لمس الثوب لا ينظر اليه
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو طرح کے لباس پہننے منع ہیں۔ کہ کوئی آدمی ایک ہی کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے، پھر اسے مونڈے پر اٹھا کر ڈال لے ( اور شرمگاہ کھلی رہے ) اور دو طرح کی بیع سے منع کیا ایک بیع ملامسۃ سے اور دوسری بیع منابذہ سے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهي عن لبستين، ان يحتبي الرجل، في الثوب الواحد، ثم يرفعه على منكبه، وعن بيعتين اللماس والنباذ
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن محمد بن يحيى بن حبان، وعن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الملامسة والمنابذة