Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس سے منع فرمایا، اور دو طرح کی بیع، بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لبستين وعن بيعتين الملامسة والمنابذة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بیچنے کے لیے ) اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے ( دھوکہ میں آ کر ) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں چاہے تو جانور کو رکھ لے، اور چاہے تو واپس کر دے۔ اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدل دیدے۔ ابوصالح، مجاہد، ولید بن رباح اور موسیٰ بن یسار سے بواسطہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ایک صاع کھجور ہی کی ہے۔ بعض راویوں نے ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کی روایت کی ہے اور یہ کہ خریدار کو ( صورت مذکورہ میں ) تین دن کا اختیار ہو گا۔ اگرچہ بعض دوسرے راویوں نے ابن سیرین ہی سے ایک صاع کھجور کی بھی روایت کی ہے، لیکن تین دن کے اختیار کا ذکر نہیں کیا اور ( تاوان میں ) کھجور دینے کی روایات ہی زیادہ ہیں۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، قال ابو هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا تصروا الابل والغنم، فمن ابتاعها بعد فانه بخير النظرين بعد ان يحتلبها ان شاء امسك، وان شاء ردها وصاع تمر ". ويذكر عن ابي صالح ومجاهد والوليد بن رباح وموسى بن يسار عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " صاع تمر ". وقال بعضهم عن ابن سيرين صاعا من طعام وهو بالخيار ثلاثا. وقال بعضهم عن ابن سيرين صاعا من تمر. ولم يذكر ثلاثا، والتمر اكثر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص «مصراة» بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو ( اصل مالک کو ) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے ( جو مال بیچنے لائیں ) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي يقول، حدثنا ابو عثمان، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال من اشترى شاة محفلة، فردها فليرد معها صاعا. ونهى النبي صلى الله عليه وسلم ان تلقى البيوع
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں کی پیشوائی ( ان کا سامان شہر پہنچے سے پہلے ہی خرید لینے کی غرض سے ) نہ کرو۔ ایک شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور کوئی «نجش» ( دھوکہ فریب ) نہ کرے اور کوئی شہری، بدوی کا مال نہ بیچے اور بکری کے تھن میں دودھ نہ روکے۔ لیکن اگر کوئی اس ( آخری ) صورت میں جانور خرید لے تو اسے دوہنے کے بعد دونوں طرح کے اختیارات ہیں۔ اگر وہ اس بیع پر راضی ہے تو جانور کو روک سکتا ہے اور اگر وہ راضی نہیں تو ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دے کر اسے واپس کر دے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تلقوا الركبان، ولا يبيع بعضكم على بيع بعض ولا تناجشوا ولا يبيع حاضر لباد، ولا تصروا الغنم، ومن ابتاعها فهو بخير النظرين بعد ان يحتلبها ان رضيها امسكها، وان سخطها ردها وصاعا من تمر
ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت نے انہیں خبر دی، کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «مصراة» بکری خریدی اور اسے دوہا۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو ( واپس کر دے اور ) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دیدے۔
حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا المكي، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني زياد، ان ثابتا، مولى عبد الرحمن بن زيد اخبره انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اشترى غنما مصراة فاحتلبها، فان رضيها امسكها، وان سخطها ففي حلبتها صاع من تمر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید مقبری نے خبر دی، ان سے ان کے باپ نے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی باندی زنا کرے اور اس کے زنا کا ثبوت ( شرعی ) مل جائے تو اسے کوڑے لگوائے، پھر اس کی لعنت ملامت نہ کرے۔ اس کے بعد اگر پھر وہ زنا کرے تو پھر کوڑے لگوائے مگر پھر لعنت ملامت نہ کرے۔ پھر اگر تیسری مرتبہ بھی زنا کرے تو اسے بیچ دے چاہے بال کی ایک رسی کے بدلہ ہی میں کیوں نہ ہو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه سمعه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا زنت الامة فتبين زناها فليجلدها، ولا يثرب، ثم ان زنت فليجلدها، ولا يثرب، ثم ان زنت الثالثة فليبعها، ولو بحبل من شعر
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الامة اذا زنت ولم تحصن قال " ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فبيعوها ولو بضفير ". قال ابن شهاب لا ادري بعد الثالثة، او الرابعة
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الامة اذا زنت ولم تحصن قال " ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فبيعوها ولو بضفير ". قال ابن شهاب لا ادري بعد الثالثة، او الرابعة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے خریدنے کا ) ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ( خرید و فروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہو گی۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے کیونکہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے ( اور اسی کا اعتبار ہے ) ۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال عروة بن الزبير قالت عايشة رضى الله عنها دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشتري واعتقي، فان الولاء لمن اعتق ". ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم من العشي، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال " ما بال اناس يشترطون شروطا ليس في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فهو باطل، وان اشترط ماية شرط، شرط الله احق واوثق
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا، بریرہ رضی اللہ عنہا کی ( جو باندی تھیں ) قیمت لگا رہی تھیں ( تاکہ انہیں خرید کر آزاد کر دیں ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے ( مسجد میں ) تشریف لے گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے تو ) اپنے لیے ولاء کی شرط کے بغیر انہیں بیچنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر آزاد تھے یا غلام، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
حدثنا حسان بن ابي عباد، حدثنا همام، قال سمعت نافعا، يحدث عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان عايشة رضى الله عنها ساومت بريرة فخرج الى الصلاة، فلما جاء قالت انهم ابوا ان يبيعوها، الا ان يشترطوا الولاء. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما الولاء لمن اعتق ". قلت لنافع حرا كان زوجها او عبدا فقال ما يدريني
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور ( اپنے مقررہ امیر کی بات ) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن قيس، سمعت جريرا رضى الله عنه بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله، واقام الصلاة، وايتاء الزكاة، والسمع والطاعة، والنصح لكل مسلم
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا معمر، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلقوا الركبان ولا يبيع حاضر لباد ". قال فقلت لابن عباس ما قوله لا يبيع حاضر لباد قال لا يكون له سمسارا
مجھ سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعلی حنفی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کا مال بیچے۔ یہی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی کہا ہے۔
حدثني عبد الله بن صباح، حدثنا ابو علي الحنفي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، قال حدثني ابي، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيع حاضر لباد. وبه قال ابن عباس
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی «نجش» ( دھوکہ، فریب ) نہ کرے، اور نہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، قال اخبرني ابن جريج، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبتاع المرء على بيع اخيه، ولا تناجشوا، ولا يبع حاضر لباد
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ، حدثنا ابن عون، عن محمد، قال انس بن مالك رضى الله عنه نهينا ان يبيع حاضر لباد
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی قافلوں سے ) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے بھی منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن التلقي، وان يبيع حاضر لباد
مجھ سے عیاش بن عبدالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
حدثني عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، قال سالت ابن عباس رضى الله عنهما ما معنى قوله " لا يبيعن حاضر لباد ". فقال لا يكن له سمسارا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہ ہم سے تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے ( وہ بکری پھیر دے ) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثني التيمي، عن ابي عثمان، عن عبد الله رضى الله عنه قال من اشترى محفلة فليرد معها صاعا. قال ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن تلقي البيوع
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور جو مال باہر سے آ رہا ہو اس سے آگے جا کر نہ ملے جب تک وہ بازار میں نہ آئے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع بعضكم على بيع بعض، ولا تلقوا السلع حتى يهبط بها الى السوق
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے تھے اور ( شہر میں پہنچنے سے پہلے ہی ) ان سے غلہ خرید لیا کرتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ بیچیں جب تک اناج کے بازار میں نہ لائیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ملنا بازار کے بلند کنارے پر تھا۔ ( جدھر سے سوداگر آیا کرتے تھے ) اور یہ بات عبیداللہ کی حدیث سے نکلتی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال كنا نتلقى الركبان فنشتري منهم الطعام، فنهانا النبي صلى الله عليه وسلم ان نبيعه حتى يبلغ به سوق الطعام. قال ابو عبد الله هذا في اعلى السوق، يبينه حديث عبيد الله