Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال كانوا يبتاعون الطعام في اعلى السوق فيبيعونه في مكانهم، فنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيعوه في مكانه حتى ينقلوه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا ( جو اس وقت تک باندی تھیں ) آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر کتابت کر لی ہے۔ شرط یہ ہوئی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی انہیں دیا کروں۔ اب آپ بھی میری کچھ مدد کیجئے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ پسند کریں کہ یک مشت ان کا سب روپیہ میں ان کے لیے ( ابھی ) مہیا کر دوں اور تمہارا ترکہ میرے لیے ہو تو میں ایسا بھی کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجویز ان کے سامنے رکھی۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے یہاں واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ) بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی صورت ان کے سامنے رکھی تھی مگر وہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ ترکہ تو ہمارا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کو حقیقت حال سے خبر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو تم لے لو اور انہیں ترکہ کی شرط لگانے دو۔ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر لوگوں کے مجمع میں تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ( خرید و فروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کتاب اللہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔ جو کوئی شرط ایسی لگائی جائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہو گی۔ خواہ ایسی سو شرطیں کوئی کیوں نہ لگائے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر مقدم ہے اور اللہ کی شرط ہی بہت مضبوط ہے اور ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت جاءتني بريرة فقالت كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام وقية، فاعينيني. فقلت ان احب اهلك ان اعدها لهم ويكون ولاوك لي فعلت. فذهبت بريرة الى اهلها، فقالت لهم فابوا عليها، فجاءت من عندهم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فقالت اني قد عرضت ذلك عليهم فابوا، الا ان يكون الولاء لهم. فسمع النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرت عايشة النبي صلى الله عليه وسلم فقال " خذيها واشترطي لهم الولاء، فانما الولاء لمن اعتق ". ففعلت عايشة ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال " اما بعد ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وان كان ماية شرط، قضاء الله احق، وشرط الله اوثق، وانما الولاء لمن اعتق
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک باندی کو خرید کر آزاد کر دیں، لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ ہم انہیں اس شرط پر آپ کو بیچ سکتے ہیں کہ ان کی ولاء ہمارے ساتھ رہے۔ اس کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کی وجہ سے تم قطعاً نہ رکو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان عايشة، ام المومنين ارادت ان تشتري جارية فتعتقها، فقال اهلها نبيعكها على ان ولاءها لنا. فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا يمنعك ذلك، فانما الولاء لمن اعتق
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے مالک بن اوس نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گیہوں کو گیہوں کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جَو کو جَو کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اور کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا سود ہے لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ، نقدا نقد ہو۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس، سمع عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البر بالبر ربا الا هاء وهاء، والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة، والمزابنة بيع الثمر بالتمر كيلا، وبيع الزبيب بالكرم كيلا
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة قال والمزابنة ان يبيع الثمر بكيل، ان زاد فلي وان نقص فعلى. قال وحدثني زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في العرايا بخرصها
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة قال والمزابنة ان يبيع الثمر بكيل، ان زاد فلي وان نقص فعلى. قال وحدثني زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في العرايا بخرصها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ ( انہوں نے بیان کیا کہ ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے بلایا۔ اور ہم نے ( اپنے معاملہ کی ) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ سونے ( اشرفیوں ) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس، اخبره انه التمس، صرفا بماية دينار، فدعاني طلحة بن عبيد الله فتراوضنا، حتى اصطرف مني، فاخذ الذهب يقلبها في يده، ثم قال حتى ياتي خازني من الغابة، وعمر يسمع ذلك، فقال والله لا تفارقه حتى تاخذ منه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذهب بالذهب ربا الا هاء وهاء، والبر بالبر ربا الا هاء وهاء، والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء، والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک ( دونوں طرف سے ) برابر برابر ( کی لین دین ) نہ ہو۔ اسی طرح چاندی، چاندی کے بدلہ میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک ( دونوں طرف سے ) برابر برابر نہ ہو۔ البتہ سونا، چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا اسماعيل ابن علية، قال حدثني يحيى بن ابي اسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن ابي بكرة، قال قال ابو بكرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبيعوا الذهب بالذهب الا سواء بسواء، والفضة بالفضة الا سواء بسواء، وبيعوا الذهب بالفضة والفضة بالذهب كيف شيتم
ہم سے عبیداللہ بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کی ( جیسے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ سے گزری ) پھر ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا، اے ابوسعید! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے یہ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حدیث بیع صرف ( یعنی روپیہ اشرفیاں بدلنے یا تڑوانے ) سے متعلق ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا کہ سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہی بیچا جا سکتا ہے اور چاندی، چاندی کے بدلہ میں برابر برابر ہی بیچی جا سکتی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن سعد، حدثنا عمي، حدثنا ابن اخي الزهري، عن عمه، قال حدثني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان ابا سعيد، حدثه مثل، ذلك حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيه عبد الله بن عمر فقال يا ابا سعيد، ما هذا الذي تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو سعيد في الصرف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الذهب بالذهب مثلا بمثل والورق بالورق مثلا بمثل
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا الذهب بالذهب الا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق الا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها غايبا بناجز
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، ان ابا صالح الزيات، اخبره انه، سمع ابا سعيد الخدري رضى الله عنه يقول الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم. فقلت له فان ابن عباس لا يقوله. فقال ابو سعيد سالته فقلت سمعته من النبي، صلى الله عليه وسلم، او وجدته في كتاب الله قال كل ذلك لا اقول، وانتم اعلم برسول الله صلى الله عليه وسلم مني، ولكنني اخبرني اسامة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ربا الا في النسيية
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، ان ابا صالح الزيات، اخبره انه، سمع ابا سعيد الخدري رضى الله عنه يقول الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم. فقلت له فان ابن عباس لا يقوله. فقال ابو سعيد سالته فقلت سمعته من النبي، صلى الله عليه وسلم، او وجدته في كتاب الله قال كل ذلك لا اقول، وانتم اعلم برسول الله صلى الله عليه وسلم مني، ولكنني اخبرني اسامة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ربا الا في النسيية
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابا المنهال، قال سالت البراء بن عازب وزيد بن ارقم رضى الله عنهم عن الصرف،، فكل واحد منهما يقول هذا خير مني. فكلاهما يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الذهب بالورق دينا
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابا المنهال، قال سالت البراء بن عازب وزيد بن ارقم رضى الله عنهم عن الصرف،، فكل واحد منهما يقول هذا خير مني. فكلاهما يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الذهب بالورق دينا
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عوام نے، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ابی اسحٰق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے ان کے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، چاندی کے بدلے میں اور سونا سونے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔ البتہ سونا چاندی کے بدلے میں جس طرح چاہیں خریدیں۔ اسی طرح چاندی سونے کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عباد بن العوام، اخبرنا يحيى بن ابي اسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الفضة بالفضة والذهب بالذهب، الا سواء بسواء، وامرنا ان نبتاع الذهب بالفضة كيف شينا، والفضة بالذهب كيف شينا
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه، ولا تبيعوا الثمر بالتمر " قال سالم واخبرني عبد الله، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص بعد ذلك في بيع العرية بالرطب او بالتمر، ولم يرخص في غيره
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا الثمر حتى يبدو صلاحه، ولا تبيعوا الثمر بالتمر " قال سالم واخبرني عبد الله، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص بعد ذلك في بيع العرية بالرطب او بالتمر، ولم يرخص في غيره
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة. والمزابنة اشتراء الثمر بالتمر كيلا، وبيع الكرم بالزبيب كيلا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن داود بن الحصين، عن ابي سفيان، مولى ابن ابي احمد عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة والمحاقلة. والمزابنة اشتراء الثمر بالتمر في رءوس النخل