Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الشيباني، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت رضى الله عنهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارخص لصاحب العرية ان يبيعها بخرصها
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز ( سوکھے پھل ) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب، اخبرنا ابن جريج، عن عطاء، وابي الزبير، عن جابر رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمر حتى يطيب، ولا يباع شىء منه الا بالدينار والدرهم الا العرايا
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، قال سمعت مالكا، وساله، عبيد الله بن الربيع احدثك داود عن ابي سفيان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا في خمسة اوسق او دون خمسة اوسق قال نعم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال قال يحيى بن سعيد سمعت بشيرا، قال سمعت سهل بن ابي حثمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمر بالتمر، ورخص في العرية ان تباع بخرصها ياكلها اهلها رطبا. وقال سفيان مرة اخرى الا انه رخص في العرية يبيعها اهلها بخرصها، ياكلونها رطبا. قال هو سواء. قال سفيان فقلت ليحيى وانا غلام ان اهل مكة يقولون ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا. فقال وما يدري اهل مكة قلت انهم يروونه عن جابر. فسكت. قال سفيان انما اردت ان جابرا من اهل المدينة. قيل لسفيان وليس فيه نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه قال لا
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت رضى الله عنهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في العرايا ان تباع بخرصها كيلا. قال موسى بن عقبة والعرايا نخلات معلومات تاتيها فتشتريها
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔
وقال الليث عن ابي الزناد، كان عروة بن الزبير يحدث عن سهل بن ابي حثمة الانصاري، من بني حارثة انه حدثه عن زيد بن ثابت رضى الله عنه قال كان الناس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبايعون الثمار، فاذا جد الناس وحضر تقاضيهم قال المبتاع انه اصاب الثمر الدمان اصابه مراض اصابه قشام عاهات يحتجون بها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما كثرت عنده الخصومة في ذلك " فاما لا فلا يتبايعوا حتى يبدو صلاح الثمر ". كالمشورة يشير بها لكثرة خصومتهم. واخبرني خارجة بن زيد بن ثابت ان زيد بن ثابت لم يكن يبيع ثمار ارضه حتى تطلع الثريا فيتبين الاصفر من الاحمر. قال ابو عبد الله رواه علي بن بحر حدثنا حكام حدثنا عنبسة عن زكرياء عن ابي الزناد عن عروة عن سهل عن زيد
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها، نهى البايع والمبتاع
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( «حتى تزهو.» سے ) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا حميد الطويل، عن انس رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان تباع ثمرة النخل حتى تزهو. قال ابو عبد الله يعني حتى تحمر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سلیم بن حیان نے، ان سے سعید بن مینا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا «تشقح.» سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا۔ پوچھا گیا کہ «تشقح.» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے ( پھل کا پختہ ہونا مراد ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليم بن حيان، حدثنا سعيد بن مينا، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان تباع الثمرة حتى تشقح. فقيل ما تشقح قال تحمار وتصفار ويوكل منها
مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔
حدثني علي بن الهيثم، حدثنا معلى، حدثنا هشيم، اخبرنا حميد، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها، وعن النخل حتى يزهو. قيل وما يزهو قال يحمار او يصفار
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے؟
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تزهي. فقيل له وما تزهي قال حتى تحمر. فقال " ارايت اذا منع الله الثمرة، بم ياخذ احدكم مال اخيه
لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی ( درخت پر ) پھل خریدے، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو۔
قال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال لو ان رجلا، ابتاع ثمرا قبل ان يبدو صلاحه، ثم اصابته عاهة، كان ما اصابه على ربه، اخبرني سالم بن عبد الله عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تتبايعوا الثمر حتى يبدو صلاحها، ولا تبيعوا الثمر بالتمر
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے ابراہیم کے سامنے قرض میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ہم سے اسود کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال ذكرنا عند ابراهيم الرهن في السلف، فقال لا باس به. ثم حدثنا عن الاسود عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى طعاما من يهودي الى اجل، فرهنه درعه
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن عبد المجيد بن سهيل بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، وعن ابي هريرة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر، فجاءه بتمر جنيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكل تمر خيبر هكذا ". قال لا والله يا رسول الله، انا لناخذ الصاع من هذا بالصاعين، والصاعين بالثلاثة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن عبد المجيد بن سهيل بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، وعن ابي هريرة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر، فجاءه بتمر جنيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكل تمر خيبر هكذا ". قال لا والله يا رسول الله، انا لناخذ الصاع من هذا بالصاعين، والصاعين بالثلاثة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے کہا، انہیں ہشام نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع سے خبر دیتے تھے کہ جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیجا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا۔
قال ابو عبد الله وقال لي ابراهيم اخبرنا هشام، اخبرنا ابن جريج، قال سمعت ابن ابي مليكة، يخبر عن نافع، مولى ابن عمر ان ايما، نخل بيعت قد ابرت لم يذكر الثمر، فالثمر للذي ابرها، وكذلك العبد والحرث. سمى له نافع هولاء الثلاث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من باع نخلا قد ابرت فثمرها للبايع، الا ان يشترط المبتاع
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة ان يبيع ثمر حايطه ان كان نخلا بتمر كيلا، وان كان كرما ان يبيعه بزبيب كيلا او كان زرعا ان يبيعه بكيل طعام، ونهى عن ذلك كله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کسی کھجور کے درخت کو پیوندی بنایا۔ پھر اس درخت ہی کو بیچ دیا تو ( اس موسم کا پھل ) اسی کا ہو گا جس نے پیوندی کیا ہے، لیکن اگر خریدار نے پھلوں کی بھی شرط لگا دی ہے ( تو یہ امر دیگر ہے ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما امري ابر نخلا ثم باع اصلها، فللذي ابر ثمر النخل، الا ان يشترطه المبتاع