Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے اسحاق بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا اسحاق بن وهب، حدثنا عمر بن يونس، قال حدثني ابي قال، حدثني اسحاق بن ابي طلحة الانصاري، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة، والمخاضرة، والملامسة، والمنابذة، والمزابنة
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کو «زهو.» سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے پوچھا کہ «زهو.» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آ سکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی ( خریدار ) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع ثمر التمر حتى تزهو. فقلنا لانس ما زهوها قال تحمر وتصفر، ارايت ان منع الله الثمرة بم تستحل مال اخيك
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک سے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے مجاہد نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کا گابھا کھا رہے تھے۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن حاضرین میں، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا ( اس لیے بطور ادب میں چپ رہا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن مجاهد، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وهو ياكل جمارا، فقال " من الشجر شجرة كالرجل المومن ". فاردت ان اقول هي النخلة. فاذا انا احدثهم قال " هي النخلة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوطیبہ نے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک صاع کھجور ( مزدوری میں ) دینے کا حکم فرمایا۔ اور اس کے مالکوں سے فرمایا کہ وہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال حجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ابو طيبة، فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہندہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابوسفیان بخیل آدمی ہے۔ تو کیا اگر میں ان کے مال سے چھپا کر کچھ لے لیا کروں تو کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے لیے اور اپنے بیٹوں کے لیے نیک نیتی کے ساتھ اتنا لے سکتی ہو جو تم سب کے لیے کافی ہو جایا کرے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن هشام، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت هند ام معاوية لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان ابا سفيان رجل شحيح، فهل على جناح ان اخذ من ماله سرا قال " خذي انت وبنوك ما يكفيك بالمعروف
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشام نے خبر دی (دوسری سند) اور مجھ سے محمد نے بیان کیا کہا کہ میں نے عثمان بن فرقد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ ( قرآن کی آیت ) «ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف» جو شخص مالدار ہو وہ ( اپنی زیر پرورش یتیم کا مال ہضم کرنے سے ) اپنے کو بچائے۔ اور جو فقیر ہو وہ نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا لے۔“ یہ آیت یتیموں کے ان سر پرستوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ان کی اور ان کے مال کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہوں کہ اگر وہ فقیر ہیں تو ( اس خدمت کے عوض ) نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا سکتے ہیں۔
حدثني اسحاق، حدثنا ابن نمير، اخبرنا هشام، وحدثني محمد، قال سمعت عثمان بن فرقد، قال سمعت هشام بن عروة، يحدث عن ابيه، انه سمع عايشة رضى الله عنها تقول {ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فلياكل بالمعروف} انزلت في والي اليتيم الذي يقيم عليه، ويصلح في ماله، ان كان فقيرا اكل منه بالمعروف
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر اس مال میں قرار دیا تھا جو تقسیم نہ ہوا ہو، لیکن اس کی حد بندی ہو جائے اور راستے بھی پھیر دیئے جائیں تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔
حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر رضى الله عنه جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الشفعة في كل مال لم يقسم، فاذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مال میں شفعہ کا حق قائم رکھا جو تقسیم نہ ہوا ہو، لیکن جب اس کی حدود قائم ہو گئی ہوں اور راستہ بھی پھیر دیا گیا ہو تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔
حدثنا محمد بن محبوب، حدثنا عبد الواحد، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل مال لم يقسم، فاذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، بهذا وقال في كل ما لم يقسم. تابعه هشام عن معمر. قال عبد الرزاق في كل مال. رواه عبد الرحمن بن اسحاق عن الزهري
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی ( اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے ) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ”اے اللہ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ! اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی، اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا۔ تو وہ بولی، اللہ سے ڈر، اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے ( نکلنے کا ) راستہ بنا دے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا ( کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ اللہ کے بندے مجھے میرا حق دیدے۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو۔ میں نے کہا ”میں مذاق نہیں کرتا“ واقعی یہ تمہارے ہی ہیں۔ تو اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے ( اس چٹان کو ہٹا کر ) راستہ بنا دے۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا اور وہ تینوں شخص باہر آ گئے۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک مسٹنڈا لمبے قد والا مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ ہیں؟ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ( یہ بیچنے کے لیے ہیں ) یا ہبہ کرنے کے لیے؟ اس نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کے لیے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا معتمر بن سليمان، عن ابيه، عن ابي عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي بكر رضى الله عنهما قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بيعا ام عطية او قال ام هبة ". قال لا بل بيع. فاشترى منه شاة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( نمرود کے ملک سے ) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ( یہ فرمایا کہ ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ( ابراہیم علیہ السلام ) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔“ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر ( ابراہیم علیہ السلام ) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔“ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر ( ہاجرہ ) کو بھی دے دو۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " هاجر ابراهيم عليه السلام بسارة، فدخل بها قرية فيها ملك من الملوك، او جبار من الجبابرة، فقيل دخل ابراهيم بامراة، هي من احسن النساء. فارسل اليه ان يا ابراهيم، من هذه التي معك قال اختي. ثم رجع اليها، فقال لا تكذبي حديثي فاني اخبرتهم انك اختي، والله ان على الارض مومن غيري وغيرك. فارسل بها اليه، فقام اليها، فقامت توضا وتصلي فقالت اللهم ان كنت امنت بك وبرسولك واحصنت فرجي، الا على زوجي فلا تسلط على الكافر. فغط حتى ركض برجله ". قال الاعرج قال ابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة قال قالت اللهم ان يمت يقال هي قتلته. فارسل ثم قام اليها، فقامت توضا تصلي، وتقول اللهم ان كنت امنت بك وبرسولك، واحصنت فرجي، الا على زوجي، فلا تسلط على هذا الكافر، فغط حتى ركض برجله. قال عبد الرحمن قال ابو سلمة قال ابو هريرة فقالت اللهم ان يمت فيقال هي قتلته، فارسل في الثانية، او في الثالثة، فقال والله ما ارسلتم الى الا شيطانا، ارجعوها الى ابراهيم، واعطوها اجر. فرجعت الى ابراهيم عليه السلام فقالت اشعرت ان الله كبت الكافر واخدم وليدة
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کے اے عبد! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ! اس لڑکے سے تو پردہ کیا کر، چنانچہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت اختصم سعد بن ابي وقاص وعبد بن زمعة في غلام، فقال سعد هذا يا رسول الله ابن اخي عتبة بن ابي وقاص، عهد الى انه ابنه، انظر الى شبهه. وقال عبد بن زمعة هذا اخي يا رسول الله ولد على فراش ابي من وليدته. فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى شبهه، فراى شبها بينا بعتبة، فقال " هو لك يا عبد، الولد للفراش وللعاهر الحجر واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة ". فلم تره سودة قط
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا، کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا، اللہ سے ڈر اور اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا نہ بن۔ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی مل جائے تو بھی میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ میں تو بچپن ہی میں چرا لیا گیا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن سعد، عن ابيه، قال عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه لصهيب اتق الله ولا تدع الى غير ابيك. فقال صهيب ما يسرني ان لي كذا وكذا، واني قلت ذلك، ولكني سرقت وانا صبي
ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا؟ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان حكيم بن حزام، اخبره انه، قال يا رسول الله، ارايت امورا كنت اتحنث او اتحنت بها في الجاهلية من صلة وعتاقة وصدقة، هل لي فيها اجر قال حكيم رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسلمت على ما سلف لك من خير
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے چمڑے سے تم لوگوں نے کیوں نہیں فائدہ اٹھایا؟ صحابہ نے عرض کیا، کہ وہ تو مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردار کا صرف کھانا منع ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، قال حدثني ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بشاة ميتة فقال " هلا استمتعتم باهابها ". قالوا انها ميتة. قال " انما حرم اكلها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابن مریم ( عیسیٰ علیہ السلام ) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله احد
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال اخبرني طاوس، انه سمع ابن عباس رضى الله عنهما يقول بلغ عمر ان فلانا باع خمرا فقال قاتل الله فلانا، الم يعلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قاتل الله اليهود، حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، ظالموں پر چربی حرام کر دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، سمعت سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قاتل الله يهودا حرمت عليهم الشحوم فباعوها، واكلوا اثمانها ". قال ابو عبد الله قاتلهم الله لعنهم قتل لعن الخراصون الكذابون
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی حسن نے، کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہا کہ اے ابوعباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا ( یہ سن کر ) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا يزيد بن زريع، اخبرنا عوف، عن سعيد بن ابي الحسن، قال كنت عند ابن عباس رضى الله عنهما اذ اتاه رجل فقال يا ابا عباس اني انسان، انما معيشتي من صنعة يدي، واني اصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس لا احدثك الا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سمعته يقول " من صور صورة فان الله معذبه، حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها ابدا ". فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه. فقال ويحك ان ابيت الا ان تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شىء ليس فيه روح. قال ابو عبد الله سمع سعيد بن ابي عروبة من النضر بن انس هذا الواحد
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خرج ثلاثة يمشون فاصابهم المطر، فدخلوا في غار في جبل، فانحطت عليهم صخرة. قال فقال بعضهم لبعض ادعوا الله بافضل عمل عملتموه. فقال احدهم اللهم، اني كان لي ابوان شيخان كبيران، فكنت اخرج فارعى، ثم اجيء فاحلب، فاجيء بالحلاب فاتي به ابوى فيشربان، ثم اسقي الصبية واهلي وامراتي، فاحتبست ليلة. فجيت فاذا هما نايمان قال فكرهت ان اوقظهما، والصبية يتضاغون عند رجلى، فلم يزل ذلك دابي ودابهما، حتى طلع الفجر اللهم ان كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا فرجة نرى منها السماء. قال ففرج عنهم. وقال الاخر اللهم ان كنت تعلم اني كنت احب امراة من بنات عمي كاشد ما يحب الرجل النساء، فقالت لا تنال ذلك منها حتى تعطيها ماية دينار. فسعيت فيها حتى جمعتها، فلما قعدت بين رجليها قالت اتق الله، ولا تفض الخاتم الا بحقه. فقمت وتركتها، فان كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا فرجة، قال ففرج عنهم الثلثين. وقال الاخر اللهم ان كنت تعلم اني استاجرت اجيرا بفرق من ذرة فاعطيته، وابى ذاك ان ياخذ، فعمدت الى ذلك الفرق، فزرعته حتى اشتريت منه بقرا وراعيها، ثم جاء فقال يا عبد الله اعطني حقي. فقلت انطلق الى تلك البقر وراعيها، فانها لك. فقال اتستهزي بي. قال فقلت ما استهزي بك ولكنها لك. اللهم ان كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا. فكشف عنهم