Loading...

Loading...
کتب
۱۹۲ احادیث
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی تمام آیتیں نازل ہو چکیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے۔
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها لما نزلت ايات سورة البقرة عن اخرها خرج النبي صلى الله عليه وسلم فقال " حرمت التجارة في الخمر
مجھ سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔
حدثني بشر بن مرحوم، حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن امية، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال الله ثلاثة انا خصمهم يوم القيامة، رجل اعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فاكل ثمنه، ورجل استاجر اجيرا فاستوفى منه، ولم يعط اجره
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیدیوں میں صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ملیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال كان في السبى صفية، فصارت الى دحية الكلبي، ثم صارت الى النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ ( ایک انصاری صحابی نے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابن محيريز، ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه اخبره انه، بينما هو جالس عند النبي صلى الله عليه وسلم قال يا رسول الله انا نصيب سبيا، فنحب الاثمان، فكيف ترى في العزل فقال " اوانكم تفعلون ذلك لا عليكم ان لا تفعلوا ذلكم، فانها ليست نسمة كتب الله ان تخرج الا هي خارجة
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا۔
حدثنا ابن نمير، حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل، عن سلمة بن كهيل، عن عطاء، عن جابر رضى الله عنه قال باع النبي صلى الله عليه وسلم المدبر
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ مدبر غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچا تھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول باعه رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثني زهير بن حرب، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح، قال حدث ابن شهاب، ان عبيد الله، اخبره ان زيد بن خالد وابا هريرة رضى الله عنهما اخبراه انهما، سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال عن الامة تزني ولم تحصن قال " اجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم بيعوها بعد الثالثة او الرابعة
حدثني زهير بن حرب، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح، قال حدث ابن شهاب، ان عبيد الله، اخبره ان زيد بن خالد وابا هريرة رضى الله عنهما اخبراه انهما، سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال عن الامة تزني ولم تحصن قال " اجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم بيعوها بعد الثالثة او الرابعة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی، انہیں سعید نے، انہیں ان کے والد نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال اخبرني الليث، عن سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا زنت امة احدكم، فتبين زناها فليجلدها الحد، ولا يثرب عليها، ثم ان زنت فليجلدها الحد ولا يثرب، ثم ان زنت الثالثة فتبين زناها فليبعها ولو بحبل من شعر
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔
حدثنا عبد الغفار بن داود، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن عمرو بن ابي عمرو، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر، فلما فتح الله عليه الحصن ذكر له جمال صفية بنت حيى بن اخطب، وقد قتل زوجها، وكانت عروسا، فاصطفاها رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه فخرج بها، حتى بلغنا سد الروحاء حلت، فبنى بها، ثم صنع حيسا في نطع صغير، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذن من حولك ". فكانت تلك وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم على صفية، ثم خرجنا الى المدينة، قال فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحوي لها وراءه بعباءة، ثم يجلس عند بعيره فيضع ركبته، فتضع صفية رجلها على ركبته، حتى تركب
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔ ابوعاصم نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة " ان الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والاصنام ". فقيل يا رسول الله، ارايت شحوم الميتة فانها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس. فقال " لا، هو حرام ". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " قاتل الله اليهود، ان الله لما حرم شحومها جملوه ثم باعوه فاكلوا ثمنه ". قال ابو عاصم حدثنا عبد الحميد، حدثنا يزيد، كتب الى عطاء سمعت جابرا رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابی بکر بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود الانصاري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عون بن ابی حجیفہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ ایک پچھنا لگانے والے ( غلام ) کو خرید رہے ہیں۔ اس پر میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت، باندی کی ( ناجائز ) کمائی سے منع فرمایا تھا۔ اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، سود لینے والوں اور دینے والوں پر لعنت کی تھی اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت کی تھی۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عون بن ابي جحيفة، قال رايت ابي اشترى حجاما، فسالته عن ذلك،. قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الدم، وثمن الكلب، وكسب الامة، ولعن الواشمة والمستوشمة، واكل الربا، وموكله، ولعن المصور