احادیث
#2093
صحیح بخاری - Sales and Trade
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ایک عورت ”بردہ“ لے کر آئی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہیں معلوم بھی ہے کہ ”بردہ“ کسے کہتے ہیں۔ کہا گیا جی ہاں! بردہ، حاشیہ دار چادر کو کہتے ہیں۔ تو اس عورت نے کہا، یا رسول اللہ! میں نے خاص آپ کو پہنانے کے لیے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چادر کو بطور ازار کے پہنے ہوئے تھے، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے، یا رسول اللہ! یہ تو مجھے دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لینا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے پھر واپس تشریف لے گئے پھر ازار کو تہ کر کے ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ لوگوں نے کہا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ازار مانگ کر اچھا نہیں کیا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کیا کرتے ہیں۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ واللہ! میں نے تو صرف اس لیے یہ چادر مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر ہی ان کا کفن بنی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، قال سمعت سهل بن سعد رضى الله عنه قال جاءت امراة ببردة قال اتدرون ما البردة فقيل له نعم، هي الشملة، منسوج في حاشيتها قالت يا رسول الله، اني نسجت هذه بيدي اكسوكها. فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها. فخرج الينا وانها ازاره. فقال رجل من القوم يا رسول الله، اكسنيها، فقال " نعم ". فجلس النبي صلى الله عليه وسلم في المجلس، ثم رجع فطواها، ثم ارسل بها اليه. فقال له القوم ما احسنت، سالتها اياه، لقد علمت انه لا يرد سايلا. فقال الرجل والله ما سالته الا لتكون كفني يوم اموت. قال سهل فكانت كفنه
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Sales and Trade
- Hadith Index
- #2093
- Book Index
- 46
Grades
- -
