Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن البراء رضى الله عنه قال كان ركوع النبي صلى الله عليه وسلم وسجوده واذا رفع راسه من الركوع وبين السجدتين قريبا من السواء
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال كان مالك بن الحويرث يرينا كيف كان صلاة النبي صلى الله عليه وسلم وذاك في غير وقت صلاة، فقام فامكن القيام، ثم ركع فامكن الركوع، ثم رفع راسه فانصت هنية، قال فصلى بنا صلاة شيخنا هذا ابي بريد. وكان ابو بريد اذا رفع راسه من السجدة الاخرة استوى قاعدا ثم نهض
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
حدثنا ابو اليمان، قال حدثنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، كان يكبر في كل صلاة من المكتوبة وغيرها في رمضان وغيره، فيكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول سمع الله لمن حمده. ثم يقول ربنا ولك الحمد. قبل ان يسجد، ثم يقول الله اكبر. حين يهوي ساجدا، ثم يكبر حين يرفع راسه من السجود، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع راسه من السجود، ثم يكبر حين يقوم من الجلوس في الاثنتين، ويفعل ذلك في كل ركعة حتى يفرغ من الصلاة، ثم يقول حين ينصرف والذي نفسي بيده اني لاقربكم شبها بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا
ابوبکر اور ابوسلمہ دونوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک ( رکوع سے ) اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہہ کر چند لوگوں کے لیے دعائیں کرتے اور نام لے لے کر فرماتے۔ یا اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور تمام کمزور مسلمانوں کو ( کفار سے ) نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کے لوگوں کو سختی کے ساتھ کچل دے اور ان پر قحط مسلط کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آیا تھا۔ ان دنوں پورب والے قبیلہ مضر کے لوگ مخالفین میں تھے۔
قالا وقال ابو هريرة رضى الله عنه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يرفع راسه يقول سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد. يدعو لرجال فيسميهم باسمايهم فيقول " اللهم انج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن ابي ربيعة، والمستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، واجعلها عليهم سنين كسني يوسف ". واهل المشرق يوميذ من مضر مخالفون له
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے باربار زہری سے یہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے۔ سفیان نے اکثر ( بجائے «عن فرس» کے ) «من فرس» کہا۔ اس گرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم بھی بیٹھ گئے۔ سفیان نے ایک مرتبہ کہا کہ ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ ( سفیان نے اپنے شاگرد علی بن مدینی سے پوچھا کہ ) کیا معمر نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی تھی۔ ( علی کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا جی ہاں۔ اس پر سفیان بولے کہ معمر کو حدیث یاد تھی۔ زہری نے یوں کہا «ولك الحمد» ۔ سفیان نے یہ بھی کہا کہ مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا آپ کا دایاں بازو چھل گیا تھا۔ جب ہم زہری کے پاس سے نکلے ابن جریج نے کہا میں زہری کے پاس موجود تھا تو انہوں نے یوں کہا کہ آپ کی داہنی پنڈلی چھل گئی۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، غير مرة عن الزهري، قال سمعت انس بن مالك، يقول سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فرس وربما قال سفيان من فرس فجحش شقه الايمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة، فصلى بنا قاعدا وقعدنا وقال سفيان مرة صلينا قعودا فلما قضى الصلاة قال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا، واذا رفع فارفعوا، واذا قال سمع الله لمن حمده. فقولوا ربنا ولك الحمد. واذا سجد فاسجدوا ". قال سفيان كذا جاء به معمر قلت نعم. قال لقد حفظ، كذا قال الزهري ولك الحمد. حفظت من شقه الايمن. فلما خرجنا من عند الزهري قال ابن جريج وانا عنده فجحش ساقه الايمن
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت میں دیکھ سکیں گے؟ آپ نے ( جواب کے لیے ) پوچھا، کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے؟ لوگ بولے ہرگز نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا اور کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں جب کہ اس کے قریب کہیں بادل بھی نہ ہو شبہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے فرمایا کہ رب العزت کو تم اسی طرح دیکھو گے۔ لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو جسے پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے۔ چنانچہ بہت سے لوگ سورج کے پیچھے ہو لیں گے، بہت سے چاند کے اور بہت سے بتوں کے ساتھ ہو لیں گے۔ یہ امت باقی رہ جائے گی۔ اس میں منافقین بھی ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک نئی صورت میں آئے گا اور ان سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ وہ منافقین کہیں گے کہ ہم یہیں اپنے رب کے آنے تک کھڑے رہیں گے۔ جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ عزوجل ان کے پاس ( ایسی صورت میں جسے وہ پہچان لیں ) آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ وہ بھی کہیں گے کہ بیشک تو ہمارا رب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بلائے گا۔ پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ رکھا جائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی امت کے ساتھ اس سے گزرنے والا سب سے پہلا رسول ہوں گا۔ اس روز سوا انبیاء کے کوئی بھی بات نہ کر سکے گا اور انبیاء بھی صرف یہ کہیں گے۔ اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو! اے اللہ! مجھے محفوظ رکھیو! اور جہنم میں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکس ہوں گے۔ سعدان کے کانٹے تو تم نے دیکھے ہوں گے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہا ہاں! ( آپ نے فرمایا ) تو وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے۔ البتہ ان کے طول و عرض کو سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ یہ آنکس لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق کھینچ لیں گے۔ بہت سے لوگ اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ بہت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ پھر ان کی نجات ہو گی۔ جہنمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمانا چاہے گا تو ملائکہ کو حکم دے گا کہ جو خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتے تھے انہیں باہر نکال لو۔ چنانچہ ان کو وہ باہر نکالیں گے اور موحدوں کو سجدے کے آثار سے پہچانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر سجدہ کے آثار کا جلانا حرام کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو اثر سجدہ کے سوا ان کے جسم کے تمام ہی حصوں کو آگ جلا چکی ہو گی۔ جب جہنم سے باہر ہوں گے تو بالکل جل چکے ہوں گے۔ اس لیے ان پر آب حیات ڈالا جائے گا۔ جس سے وہ اس طرح ابھر آئیں گے۔ جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ پر سیلاب کے تھمنے کے بعد سبزہ ابھر آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان اب بھی باقی رہ جائے گا۔ یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری دوزخی شخص ہو گا۔ اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا۔ اس لیے کہے گا کہ اے میرے رب! میرے منہ کو دوزخ کی طرف سے پھیر دے۔ کیونکہ اس کی بدبو مجھ کو مارے ڈالتی ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر تیری یہ تمنا پوری کر دوں تو تو دوبارہ کوئی نیا سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا نہیں تیری بزرگی کی قسم! اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول و قرار کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے اس کا منہ پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کی شادابی نظروں کے سامنے آئی تو اللہ نے جتنی دیر چاہا وہ چپ رہے گا۔ لیکن پھر بول پڑے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ اس ایک سوال کے سوا اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔ بندہ کہے گا اے میرے رب! مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ ہونا چاہئے۔ اللہ رب العزت فرمائے گا کہ پھر کیا ضمانت ہے کہ اگر تیری یہ تمنا پوری کر دی گئی تو دوسرا کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔ بندہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب دوسرا سوال کوئی تجھ سے نہیں کروں گا۔ چنانچہ اپنے رب سے ہر طرح عہد و پیمان باندھے گا اور جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا۔ دروازہ پر پہنچ کر جب جنت کی پنہائی، تازگی اور مسرتوں کو دیکھے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ بندہ چپ رہے گا۔ لیکن آخر بول پڑے گا کہ اے اللہ! مجھے جنت کے اندر پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ افسوس اے ابن آدم! تو ایسا دغا باز کیوں بن گیا؟ کیا ( ابھی ) تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا، اس سے زیادہ اور کچھ نہ مانگوں گا۔ بندہ کہے گا اے رب! مجھے اپنی سب سے زیادہ بدنصیب مخلوق نہ بنا۔ اللہ پاک ہنس دے گا اور اسے جنت میں بھی داخلہ کی اجازت عطا فرما دے گا اور پھر فرمائے گا مانگ کیا ہے تیری تمنا۔ چنانچہ وہ اپنی تمنائیں ( اللہ تعالیٰ کے سامنے ) رکھے گا اور جب تمام تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں چیز اور مانگو، فلاں چیز کا مزید سوال کرو۔ خود اللہ پاک ہی یاددہانی کرائے گا۔ اور جب وہ تمام تمنائیں پوری ہو جائیں گی تو فرمائے گا کہ تمہیں یہ سب اور اتنی ہی اور دی گئیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا اور زیادہ تمہیں دی گئیں۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی بات صرف مجھے یاد ہے کہ تمہیں یہ تمنائیں اور اتنی ہی اور دی گئیں۔ لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا تھا کہ یہ اور اس کی دس گنا تمنائیں تجھ کو دی گئیں۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثني بكر بن مضر، عن جعفر، عن ابن هرمز، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض ابطيه. وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة نحوه
ہم سے صلت بن محمد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل سے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی۔
حدثنا الصلت بن محمد، قال حدثنا مهدي، عن واصل، عن ابي وايل، عن حذيفة، راى رجلا لا يتم ركوعه ولا سجوده، فلما قضى صلاته قال له حذيفة ما صليت قال واحسبه قال ولو مت مت على غير سنة محمد صلى الله عليه وسلم
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا، اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) پیشانی ( مع ناک ) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعضاء، ولا يكف شعرا ولا ثوبا الجبهة واليدين والركبتين والرجلين
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ ہم نہ بال سمیٹیں نہ کپڑے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا شعبة، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " امرنا ان نسجد على سبعة اعظم ولا نكف ثوبا ولا شعرا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده» کہتے ( یعنی رکوع سے سر اٹھاتے ) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔
حدثنا ادم، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن يزيد الخطمي، حدثنا البراء بن عازب وهو غير كذوب قال كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم فاذا قال سمع الله لمن حمده. لم يحن احد منا ظهره حتى يضع النبي صلى الله عليه وسلم جبهته على الارض
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حدثنا معلى بن اسد، قال حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " امرت ان اسجد على سبعة اعظم على الجبهة واشار بيده على انفه واليدين، والركبتين واطراف القدمين، ولا نكفت الثياب والشعر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے۔ چنانچہ آپ تشریف لے چلے۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں ( شب قدر ) وہ آگے ہے۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ ( رات ) آگے ہے۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا۔ آپ کا خواب سچا ہو گیا۔
حدثنا موسى، قال حدثنا همام، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال انطلقت الى ابي سعيد الخدري فقلت الا تخرج بنا الى النخل نتحدث فخرج. فقال قلت حدثني ما، سمعت من النبي، صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر. قال اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر الاول من رمضان، واعتكفنا معه، فاتاه جبريل فقال ان الذي تطلب امامك. فاعتكف العشر الاوسط، فاعتكفنا معه، فاتاه جبريل فقال ان الذي تطلب امامك. فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا صبيحة عشرين من رمضان فقال " من كان اعتكف مع النبي صلى الله عليه وسلم فليرجع، فاني اريت ليلة القدر، واني نسيتها، وانها في العشر الاواخر في وتر، واني رايت كاني اسجد في طين وماء ". وكان سقف المسجد جريد النخل وما نرى في السماء شييا، فجاءت قزعة فامطرنا، فصلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم حتى رايت اثر الطين والماء على جبهة رسول الله صلى الله عليه وسلم وارنبته تصديق روياه
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں سفیان نے ابوحازم سلمہ بن دینار کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں گردنوں سے باندھ کر نماز پڑھتے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جب تک مرد اچھی طرح بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو ( سجدہ سے ) نہ اٹھاؤ۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال كان الناس يصلون مع النبي صلى الله عليه وسلم وهم عاقدو ازرهم من الصغر على رقابهم فقيل للنساء لا ترفعن رءوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد وهو ابن زيد عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعظم، ولا يكف ثوبه ولا شعره
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابو عوانة، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " امرت ان اسجد على سبعة، لا اكف شعرا ولا ثوبا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے مسلم بن صبیح سے بیان کیا، انہوں نے مسروق سے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني منصور، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي " يتاول القران
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، ان مالك بن الحويرث، قال لاصحابه الا انبيكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وذاك في غير حين صلاة، فقام، ثم ركع فكبر ثم رفع راسه، فقام هنية، ثم سجد ثم رفع راسه هنية، فصلى صلاة عمرو بن سلمة شيخنا هذا. قال ايوب كان يفعل شييا لم ارهم يفعلونه، كان يقعد في الثالثة والرابعة. قال فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فاقمنا عنده فقال " لو رجعتم الى اهليكم صلوا صلاة كذا في حين كذا، صلوا صلاة كذا في حين كذا، فاذا حضرت الصلاة فليوذن احدكم وليومكم اكبركم
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، ان مالك بن الحويرث، قال لاصحابه الا انبيكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وذاك في غير حين صلاة، فقام، ثم ركع فكبر ثم رفع راسه، فقام هنية، ثم سجد ثم رفع راسه هنية، فصلى صلاة عمرو بن سلمة شيخنا هذا. قال ايوب كان يفعل شييا لم ارهم يفعلونه، كان يقعد في الثالثة والرابعة. قال فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فاقمنا عنده فقال " لو رجعتم الى اهليكم صلوا صلاة كذا في حين كذا، صلوا صلاة كذا في حين كذا، فاذا حضرت الصلاة فليوذن احدكم وليومكم اكبركم
ہم سے محمد بن عبدالرحیم صاعقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے حکم عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، قال حدثنا ابو احمد، محمد بن عبد الله الزبيري قال حدثنا مسعر، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء، قال كان سجود النبي صلى الله عليه وسلم وركوعه، وقعوده بين السجدتين قريبا من السواء
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وعطاء بن يزيد الليثي، ان ابا هريرة، اخبرهما ان الناس قالوا يا رسول الله، هل نرى ربنا يوم القيامة قال " هل تمارون في القمر ليلة البدر ليس دونه سحاب ". قالوا لا يا رسول الله. قال " فهل تمارون في الشمس ليس دونها سحاب ". قالوا لا. قال " فانكم ترونه كذلك، يحشر الناس يوم القيامة، فيقول من كان يعبد شييا فليتبع. فمنهم من يتبع الشمس، ومنهم من يتبع القمر ومنهم من يتبع الطواغيت، وتبقى هذه الامة فيها منافقوها، فياتيهم الله فيقول انا ربكم فيقولون هذا مكاننا حتى ياتينا ربنا، فاذا جاء ربنا عرفناه. فياتيهم الله فيقول انا ربكم. فيقولون انت ربنا. فيدعوهم فيضرب الصراط بين ظهرانى جهنم، فاكون اول من يجوز من الرسل بامته، ولا يتكلم يوميذ احد الا الرسل، وكلام الرسل يوميذ اللهم سلم سلم. وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان، هل رايتم شوك السعدان ". قالوا نعم. قال " فانها مثل شوك السعدان، غير انه لا يعلم قدر عظمها الا الله، تخطف الناس باعمالهم، فمنهم من يوبق بعمله، ومنهم من يخردل ثم ينجو، حتى اذا اراد الله رحمة من اراد من اهل النار، امر الله الملايكة ان يخرجوا من كان يعبد الله، فيخرجونهم ويعرفونهم باثار السجود، وحرم الله على النار ان تاكل اثر السجود فيخرجون من النار، فكل ابن ادم تاكله النار الا اثر السجود، فيخرجون من النار قد امتحشوا، فيصب عليهم ماء الحياة، فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، ثم يفرغ الله من القضاء بين العباد، ويبقى رجل بين الجنة والنار، وهو اخر اهل النار دخولا الجنة، مقبل بوجهه قبل النار فيقول يا رب اصرف وجهي عن النار، قد قشبني ريحها، واحرقني ذكاوها. فيقول هل عسيت ان فعل ذلك بك ان تسال غير ذلك فيقول لا وعزتك. فيعطي الله ما يشاء من عهد وميثاق، فيصرف الله وجهه عن النار، فاذا اقبل به على الجنة راى بهجتها سكت ما شاء الله ان يسكت، ثم قال يا رب قدمني عند باب الجنة. فيقول الله له اليس قد اعطيت العهود والمواثيق ان لا تسال غير الذي كنت سالت فيقول يا رب لا اكون اشقى خلقك. فيقول فما عسيت ان اعطيت ذلك ان لا تسال غيره فيقول لا وعزتك لا اسال غير ذلك. فيعطي ربه ما شاء من عهد وميثاق، فيقدمه الى باب الجنة، فاذا بلغ بابها، فراى زهرتها وما فيها من النضرة والسرور، فيسكت ما شاء الله ان يسكت، فيقول يا رب ادخلني الجنة. فيقول الله ويحك يا ابن ادم ما اغدرك، اليس قد اعطيت العهد والميثاق ان لا تسال غير الذي اعطيت فيقول يا رب لا تجعلني اشقى خلقك. فيضحك الله عز وجل منه، ثم ياذن له في دخول الجنة فيقول تمن. فيتمنى حتى اذا انقطعت امنيته قال الله عز وجل تمن كذا وكذا. اقبل يذكره ربه، حتى اذا انتهت به الاماني قال الله تعالى لك ذلك ومثله معه ". قال ابو سعيد الخدري لابي هريرة رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله لك ذلك وعشرة امثاله ". قال ابو هريرة لم احفظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم الا قوله " لك ذلك ومثله معه ". قال ابو سعيد اني سمعته يقول " ذلك لك وعشرة امثاله