Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ ( نماز کے وقت کے اعلان کے لیے ) لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا۔ پھر یہود و نصاریٰ کا ذکر آ گیا۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک ایک مرتبہ۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس، قال ذكروا النار والناقوس، فذكروا اليهود والنصارى، فامر بلال ان يشفع الاذان وان يوتر الاقامة
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جب مسلمان ( ہجرت کر کے ) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا ( بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو ) لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے ) فرمایا کہ بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني نافع، ان ابن عمر، كان يقول كان المسلمون حين قدموا المدينة يجتمعون فيتحينون الصلاة، ليس ينادى لها، فتكلموا يوما في ذلك، فقال بعضهم اتخذوا ناقوسا مثل ناقوس النصارى. وقال بعضهم بل بوقا مثل قرن اليهود. فقال عمر اولا تبعثون رجلا ينادي بالصلاة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بلال قم فناد بالصلاة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا سماک بن عطیہ سے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور سوا «قد قامت الصلوة» کے تکبیر کے کلمات ایک ایک دفعہ کہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن سماك بن عطية، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، قال امر بلال ان يشفع، الاذان وان يوتر الاقامة الا الاقامة
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مہران حذاء نے ابوقلابہ عبدالرحمٰن بن زید حرمی سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ روشن کی جائے۔ یا نرسنگا کے ذریعہ اعلان کریں۔ لیکن آخر میں بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر کے ایک ایک دفعہ۔
حدثنا محمد، قال اخبرنا عبد الوهاب، قال اخبرنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال لما كثر الناس قال ذكروا ان يعلموا وقت الصلاة بشىء يعرفونه، فذكروا ان يوروا نارا او يضربوا ناقوسا، فامر بلال ان يشفع الاذان وان يوتر الاقامة
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں یہی کلمات ایک ایک دفعہ۔ اسماعیل نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا مگر لفظ «قد قامت الصلوة» دو ہی دفعہ کہا جائے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن انس، قال امر بلال ان يشفع، الاذان، وان يوتر الاقامة. قال اسماعيل فذكرت لايوب فقال الا الاقامة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے ابولزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر بھی ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر۔ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا نودي للصلاة ادبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع التاذين، فاذا قضى النداء اقبل، حتى اذا ثوب بالصلاة ادبر، حتى اذا قضى التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه، يقول اذكر كذا، اذكر كذا. لما لم يكن يذكر، حتى يظل الرجل لا يدري كم صلى
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری سے خبر دی، پھر عبدالرحمٰن مازنی اپنے والد عبداللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ صحابی نے ان سے بیان کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے۔ اس لیے جب تم جنگل میں اپنی بکریوں کو لیے ہوئے موجود ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو تم بلند آواز سے اذان دیا کرو۔ کیونکہ جن و انس بلکہ تمام ہی چیزیں جو مؤذن کی آواز سنتی ہیں قیامت کے دن اس پر گواہی دیں گی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة الانصاري، ثم المازني عن ابيه، انه اخبره ان ابا سعيد الخدري قال له " اني اراك تحب الغنم والبادية، فاذا كنت في غنمك او باديتك فاذنت بالصلاة فارفع صوتك بالنداء، فانه لا يسمع مدى صوت الموذن جن ولا انس ولا شىء الا شهد له يوم القيامة ". قال ابو سعيد سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر انصاری نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کر دیتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم خیبر کی طرف گئے اور رات کے وقت وہاں پہنچے۔ صبح کے وقت جب اذان کی آواز نہیں سنائی دی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھ گئے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ چلنے میں میرے قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو چھو جاتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خبیر کے لوگ اپنے ٹوکروں اور کدالوں کو لیے ہوئے ( اپنے کام کاج کو ) باہر نکلے۔ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور چلا اٹھے کہ ” «محمد والله محمد» ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوری فوج سمیت آ گئے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا «الله أكبر، الله أكبر» خیبر پر خرابی آ گئی۔ بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا غزا بنا قوما لم يكن يغزو بنا حتى يصبح وينظر، فان سمع اذانا كف عنهم، وان لم يسمع اذانا اغار عليهم، قال فخرجنا الى خيبر فانتهينا اليهم ليلا، فلما اصبح ولم يسمع اذانا ركب وركبت خلف ابي طلحة، وان قدمي لتمس قدم النبي صلى الله عليه وسلم. قال فخرجوا الينا بمكاتلهم ومساحيهم فلما راوا النبي صلى الله عليه وسلم قالوا محمد والله، محمد والخميس. قال فلما راهم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الله اكبر، الله اكبر، خربت خيبر، انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول الموذن
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا کہ انھوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے ایک دن سنا آپ ( جواب میں ) مؤذن کے ہی الفاظ کو دہرا رہے تھے۔ «أشهد أن محمدا رسول الله» تک۔ ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح حدیث بیان کی۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، قال حدثني عيسى بن طلحة، انه سمع معاوية، يوما فقال مثله الى قوله " واشهد ان محمدا رسول الله
یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے حدیث بیان کی کہ جب مؤذن نے «حى على الصلاة» کہا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا اور کہنے لگے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی کہتے سنا ہے۔
حدثنا اسحاق بن راهويه، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا هشام، عن يحيى، نحوه. قال يحيى وحدثني بعض، اخواننا انه قال لما قال حى على الصلاة. قال لا حول ولا قوة الا بالله. وقال هكذا سمعنا نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول
ہم سے علی بن عیاش ہمدانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن المنکدر سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اذان سن کر یہ کہے «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القايمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته، حلت له شفاعتي يوم القيامة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے سمی سے جو ابوبکر عبدالرحمٰن بن حارث کے غلام تھے خبر دی، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف میں پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے۔ پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ نہ باقی رہتا، تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے، تو ضرور چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے ان کے لیے آتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول، ثم لم يجدوا الا ان يستهموا عليه لاستهموا، ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی اور عبدالحمید بن دینار صاحب الزیادی اور عاصم احول سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث بصریٰ سے، انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن ہم کو جمعہ کا خطبہ دیا۔ بارش کی وجہ سے اس دن اچھی خاصی کیچڑ ہو رہی تھی۔ مؤذن جب «حى على الصلاة» پر پہنچا تو آپ نے اس سے «الصلاة في الرحال» کہنے کے لیے فرمایا کہ لوگ نماز اپنی قیام گاہوں پر پڑھ لیں۔ اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اسی طرح مجھ سے جو افضل تھے، انہوں نے بھی کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ واجب ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد، عن ايوب، وعبد الحميد، صاحب الزيادي وعاصم الاحول عن عبد الله بن الحارث قال خطبنا ابن عباس في يوم ردغ، فلما بلغ الموذن حى على الصلاة. فامره ان ينادي الصلاة في الرحال. فنظر القوم بعضهم الى بعض فقال فعل هذا من هو خير منه وانها عزمة
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال تو رات رہے اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو۔ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ وہ نابینا تھے اور اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے کہا نہ جاتا کہ صبح ہو گئی۔ صبح ہو گئی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان بلالا يوذن بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن ام مكتوم ". ثم قال وكان رجلا اعمى لا ينادي حتى يقال له اصبحت اصبحت
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب مؤذن صبح کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دے چکا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور تکبیر کے بیچ نماز قائم ہونے سے پہلے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال اخبرتني حفصة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اعتكف الموذن للصبح وبدا الصبح صلى ركعتين خفيفتين قبل ان تقام الصلاة
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن عايشة، كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي ركعتين خفيفتين بين النداء والاقامة من صلاة الصبح
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دیکھو بلال رضی اللہ عنہ رات رہے میں اذان دیتے ہیں، اس لیے تم لوگ ( سحری ) کھا پی سکتے ہو۔ جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان بلالا ينادي بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن ام مكتوم
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ جعفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن طرخان تیمی نے بیان کیا ابوعثمان عبدالرحمٰن نہدی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ رات رہے سے اذان دیتے ہیں یا ( یہ کہا کہ ) پکارتے ہیں۔ تاکہ جو لوگ عبادت کے لیے جاگے ہیں وہ آرام کرنے کے لیے لوٹ جائیں اور جو ابھی سوئے ہوئے ہیں وہ ہوشیار ہو جائیں۔ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ فجر یا صبح صادق ہو گئی اور آپ نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے ( طلوع صبح کی کیفیت ) بتائی۔ انگلیوں کو اوپر کی طرف اٹھایا اور پھر آہستہ سے انہیں نیچے لائے اور پھر فرمایا کہ اس طرح ( فجر ہوتی ہے ) زہیر راوی نے بھی شہادت کی انگلی ایک دوسری پر رکھی، پھر انہیں دائیں بائیں جانب پھیلا دیا۔
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا زهير، قال حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنعن احدكم او احدا منكم اذان بلال من سحوره، فانه يوذن او ينادي بليل، ليرجع قايمكم ولينبه نايمكم، وليس ان يقول الفجر او الصبح ". وقال باصابعه ورفعها الى فوق وطاطا الى اسفل حتى يقول هكذا. وقال زهير بسبابتيه احداهما فوق الاخرى ثم مدها عن يمينه وشماله
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا ابو اسامة، قال عبيد الله حدثنا عن القاسم بن محمد، عن عايشة،. وعن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال. ح وحدثني يوسف بن عيسى المروزي، قال حدثنا الفضل، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان بلالا يوذن بليل، فكلوا واشربوا حتى يوذن ابن ام مكتوم