Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا ابو اسامة، قال عبيد الله حدثنا عن القاسم بن محمد، عن عايشة،. وعن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال. ح وحدثني يوسف بن عيسى المروزي، قال حدثنا الفضل، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان بلالا يوذن بليل، فكلوا واشربوا حتى يوذن ابن ام مكتوم
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعد بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مغفل مزنی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ ہر دو اذانوں ( اذان و اقامت ) کے درمیان ایک نماز ( کا فصل ) دوسری نماز سے ہونا چاہیے ( تیسری مرتبہ فرمایا کہ ) جو شخص ایسا کرنا چاہے۔
حدثنا اسحاق الواسطي، قال حدثنا خالد، عن الجريري، عن ابن بريدة، عن عبد الله بن مغفل المزني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بين كل اذانين صلاة ثلاثا لمن شاء
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن عامر انصاری سے سنا، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا کہ ( عہدرسالت میں ) جب مؤذن اذان دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ستونوں کی طرف لپکتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ سے باہر تشریف لاتے تو لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے ملتے۔ یہ جماعت مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں تھیں۔ اور ( مغرب میں ) اذان اور تکبیر میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ اور عثمان بن جبلہ اور ابوداؤد طیالسی نے شعبہ سے اس ( حدیث میں یوں نقل کیا ہے کہ ) اذان اور تکبیر میں بہت تھوڑا سا فاصلہ ہوتا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت عمرو بن عامر الانصاري، عن انس بن مالك، قال كان الموذن اذا اذن قام ناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يبتدرون السواري حتى يخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهم كذلك يصلون الركعتين قبل المغرب، ولم يكن بين الاذان والاقامة شىء. قال عثمان بن جبلة وابو داود عن شعبة لم يكن بينهما الا قليل
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب مؤذن صبح کی دوسری اذان دے کر چپ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرض سے پہلے دو رکعت ( سنت فجر ) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد پھر داہنی کروٹ پر لیٹ رہتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سكت الموذن بالاولى من صلاة الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين قبل صلاة الفجر بعد ان يستبين الفجر، ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه الموذن للاقامة
ہم سے عبداللہ بن یزید مقری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دو اذانوں ( اذان و تکبیر ) کے بیچ میں نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے۔
حدثنا عبد الله بن يزيد، قال حدثنا كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عبد الله بن مغفل، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " بين كل اذانين صلاة بين كل اذانين صلاة ثم قال في الثالثة لمن شاء
ہم سے معلی بن سعد اسد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے ابوایوب سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم ( بنی لیث ) کے چند آدمیوں کے ساتھ حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں بیس راتوں تک قیام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اپنے گھر پہنچنے کا شوق محسوس کر لیا تو فرمایا کہ اب تم جا سکتے ہو۔ وہاں جا کر اپنی قوم کو دین سکھاؤ اور ( سفر میں ) نماز پڑھتے رہنا۔ جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حدثنا معلى بن اسد، قال حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من قومي فاقمنا عنده عشرين ليلة، وكان رحيما رفيقا، فلما راى شوقنا الى اهالينا قال " ارجعوا فكونوا فيهم وعلموهم وصلوا، فاذا حضرت الصلاة فليوذن لكم احدكم وليومكم اكبركم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے مہاجر ابوالحسن سے بیان کیا، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے۔ پھر مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دے۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا شعبة، عن المهاجر ابي الحسن، عن زيد بن وهب، عن ابي ذر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاراد الموذن ان يوذن فقال له " ابرد ". ثم اراد ان يوذن فقال له " ابرد ". ثم اراد ان يوذن. فقال له " ابرد ". حتى ساوى الظل التلول فقال النبي صلى الله عليه وسلم {ان شدة الحر من فيح جهنم}
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے مالک بن حویرث سے، انہوں نے کہا کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے یہ کسی سفر میں جانے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں نکلو تو ( نماز کے وقت راستے میں ) اذان دینا پھر اقامت کہنا، پھر جو شخص تم میں عمر میں بڑا ہو نماز پڑھائے۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال اتى رجلان النبي صلى الله عليه وسلم يريدان السفر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا انتما خرجتما فاذنا ثم اقيما ثم ليومكما اكبركما
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابوایوب سختیانی نے ابوقلابہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے مالک بن حویرث نے بیان کیا، کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں ہمارا بیس دن و رات قیام رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن واپس جانے کا شوق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم لوگ اپنے گھر کسے چھوڑ کر آئے ہو۔ ہم نے بتایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم اپنے گھر جاؤ اور ان گھر والوں کے ساتھ رہو اور انہیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کرو۔ مالک نے بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جن کے متعلق ابوایوب نے کہا کہ ابوقلابہ نے یوں کہا وہ باتیں مجھ کو یاد ہیں یا یوں کہا مجھ کو یاد نہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، قال حدثنا مالك، اتينا الى النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شببة متقاربون، فاقمنا عنده عشرين يوما وليلة، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم رحيما رفيقا، فلما ظن انا قد اشتهينا اهلنا او قد اشتقنا سالنا عمن تركنا بعدنا فاخبرناه قال " ارجعوا الى اهليكم فاقيموا فيهم وعلموهم ومروهم وذكر اشياء احفظها او لا احفظها وصلوا كما رايتموني اصلي، فاذا حضرت الصلاة فليوذن لكم احدكم وليومكم اكبركم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر اذان دی پھر فرمایا «ألا صلوا في الرحال» کہ لوگو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو اور ہمیں آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن سے اذان کے لیے فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ مؤذن اذان کے بعد کہہ دے کہ لوگو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ یہ حکم سفر کی حالت میں یا سردی یا برسات کی راتوں میں تھا۔
حدثنا مسدد، قال اخبرنا يحيى، عن عبيد الله بن عمر، قال حدثني نافع، قال اذن ابن عمر في ليلة باردة بضجنان ثم قال صلوا في رحالكم، فاخبرنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر موذنا يوذن، ثم يقول على اثره، الا صلوا في الرحال. في الليلة الباردة او المطيرة في السفر
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں جعفر بن عون نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالعمیس نے بیان کیا، انہوں نے عون بن ابی حجیفہ سے ابوحجیفہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابطح میں دیکھا کہ بلال حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی پھر بلال رضی اللہ عنہ برچھی لے کر آگے بڑھے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( بطور سترہ ) مقام ابطح میں گاڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کو سترہ بنا کر ) نماز پڑھائی۔
حدثنا اسحاق، قال اخبرنا جعفر بن عون، قال حدثنا ابو العميس، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالابطح فجاءه بلال فاذنه بالصلاة، ثم خرج بلال بالعنزة حتى ركزها بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالابطح واقام الصلاة
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عون بن ابی حجیفہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے کہ انھوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے ہیں میں بھی ان کے منہ کے ساتھ ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، انه راى بلالا يوذن فجعلت اتتبع فاه ها هنا وها هنا بالاذان
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سنی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا قصہ ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نماز کے لیے جلدی کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ بلکہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو وقار اور سکون کو ملحوظ رکھو، نماز کا جو حصہ پاؤ اسے پڑھو اور اور جو رہ جائے اسے ( بعد ) میں پورا کر لو۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال بينما نحن نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ سمع جلبة رجال فلما صلى قال " ما شانكم ". قالوا استعجلنا الى الصلاة. قال " فلا تفعلوا، اذا اتيتم الصلاة فعليكم بالسكينة، فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تکبیر کی آواز سن لو تو نماز کے لیے ( معمولی چال سے ) چل پڑو۔ سکون اور وقار کو ( بہرحال ) پکڑے رکھو اور دوڑ کے مت آؤ۔ پھر نماز کا جو حصہ ملے اسے پڑھ لو، اور جو نہ مل سکے اسے بعد میں پورا کر لو۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وعن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم الاقامة فامشوا الى الصلاة، وعليكم بالسكينة والوقار ولا تسرعوا، فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا مجھے یحییٰ نے عبداللہ عبدالوہاب بن ابی قتادہ سے یہ حدیث لکھ کر بھیجی کہ وہ اپنے باپ (ابوقتادہ) سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا هشام، قال كتب الى يحيى عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی تکبیر ہو تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو اور آہستگی کو لازم رکھو۔ شیبان کے ساتھ اس حدیث کو یحییٰ سے علی بن مبارک نے بھی روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني وعليكم بالسكينة ". تابعه علي بن المبارك
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ صالح بن کیسان سے، وہ ابن شہاب سے، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن حجرے سے ) باہر تشریف لائے، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر کی جا چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو ہم انتظار کر رہے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ ہم اسی حالت میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے، تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج وقد اقيمت الصلاة وعدلت الصفوف، حتى اذا قام في مصلاه انتظرنا ان يكبر انصرف قال " على مكانكم ". فمكثنا على هييتنا حتى خرج الينا ينطف راسه ماء وقد اغتسل
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن یوسف فریابی نے خبر دی کہ کہا ہم سے اوزاعی نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا کہ نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی اور لوگوں نے صفیں سیدھی کر لی تھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آگے بڑھے۔ لیکن حالت جنابت میں تھے ( مگر پہلے خیال نہ رہا ) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کئے ہوئے تھے اور سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حدثنا اسحاق، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال اقيمت الصلاة فسوى الناس صفوفهم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فتقدم وهو جنب ثم قال " على مكانكم ". فرجع فاغتسل ثم خرج وراسه يقطر ماء فصلى بهم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہمیں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! قسم اللہ کی سورج غروب ہونے کو ہی تھا کہ میں اب عصر کی نماز پڑھ سکا ہوں۔ آپ جب حاضر خدمت ہوئے تو روزہ افطار کرنے کا وقت آ چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اللہ کی میں نے بھی تو نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحان کی طرف گئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر عصر کی نماز پڑھی۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، قال سمعت ابا سلمة، يقول اخبرنا جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم جاءه عمر بن الخطاب يوم الخندق فقال يا رسول الله، والله ما كدت ان اصلي حتى كادت الشمس تغرب، وذلك بعد ما افطر الصايم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والله ما صليتها " فنزل النبي صلى الله عليه وسلم الى بطحان وانا معه فتوضا ثم صلى يعني العصر بعد ما غربت الشمس، ثم صلى بعدها المغرب
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر ہو چکی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے مسجد کے ایک گوشے میں چپکے چپکے کان میں باتیں کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے جب تشریف لائے تو لوگ سو رہے تھے۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال اقيمت الصلاة والنبي صلى الله عليه وسلم يناجي رجلا في جانب المسجد، فما قام الى الصلاة حتى نام القوم