Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے ایک شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا جو نماز کے لیے تکبیر ہونے کے بعد گفتگو کرتا رہے۔ اس پر انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تکبیر ہو چکی تھی۔ اتنے میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے تکبیر کہی جانے کے بعد بھی روکے رکھا۔
حدثنا عياش بن الوليد، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا حميد، قال سالت ثابتا البناني عن الرجل، يتكلم بعد ما تقام الصلاة فحدثني عن انس بن مالك، قال اقيمت الصلاة فعرض للنبي صلى الله عليه وسلم رجل فحبسه بعد ما اقيمت الصلاة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں۔ پھر نماز کے لیے کہوں، اس کے لیے اذان دی جائے پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں ( جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے ) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انہیں مسجد میں ایک اچھے قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ کھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء کی جماعت کے لیے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لقد هممت ان امر بحطب فيحطب، ثم امر بالصلاة فيوذن لها، ثم امر رجلا فيوم الناس، ثم اخالف الى رجال فاحرق عليهم بيوتهم، والذي نفسي بيده لو يعلم احدهم انه يجد عرقا سمينا او مرماتين حسنتين لشهد العشاء
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جماعت سے نماز تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا الليث، حدثني ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بخمس وعشرين درجة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز گھر میں یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کرتا ہے اور اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد کا راستہ پکڑتا ہے اور سوا نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے۔ کہتے ہیں «اللهم صل عليه، اللهم ارحمه» اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم کر اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا صالح، يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في بيته وفي سوقه خمسا وعشرين ضعفا، وذلك انه اذا توضا فاحسن الوضوء، ثم خرج الى المسجد لا يخرجه الا الصلاة، لم يخط خطوة الا رفعت له بها درجة، وحط عنه بها خطيية، فاذا صلى لم تزل الملايكة تصلي عليه ما دام في مصلاه اللهم صل عليه، اللهم ارحمه. ولا يزال احدكم في صلاة ما انتظر الصلاة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا،، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت سے نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ اور رات دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو ( سورۃ بنی اسرائیل ) کی یہ آیت پڑھو «إن قرآن الفجر كان مشهودا» یعنی فجر میں قرآن پاک کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تفضل صلاة الجميع صلاة احدكم وحده بخمس وعشرين جزءا، وتجتمع ملايكة الليل وملايكة النهار في صلاة الفجر ". ثم يقول ابو هريرة فاقرءوا ان شيتم {ان قران الفجر كان مشهودا}
شعیب نے فرمایا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے اس طرح حدیث بیان کی کہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
قال شعيب وحدثني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال تفضلها بسبع وعشرين درجة
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سالم سے سنا۔ کہا کہ میں نے ام الدرداء سے سنا، آپ نے فرمایا کہ ( ایک مرتبہ ) ابودرداء آئے، بڑے ہی خفا ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی، جس نے آپ کو غضبناک بنا دیا۔ فرمایا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ جماعت کے ساتھ یہ لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي قال، حدثنا الاعمش، قال سمعت سالما، قال سمعت ام الدرداء، تقول دخل على ابو الدرداء وهو مغضب فقلت ما اغضبك فقال والله ما اعرف من امة محمد صلى الله عليه وسلم شييا الا انهم يصلون جميعا
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو ( مسجد میں نماز کے لیے ) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو ( پہلے ہی ) پڑھ کر سو جائے۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اعظم الناس اجرا في الصلاة ابعدهم فابعدهم ممشى، والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الامام اعظم اجرا من الذي يصلي ثم ينام
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فاخره، فشكر الله له، فغفر له ". ثم قال " الشهداء خمسة المطعون، والمبطون، والغريق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله ". وقال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا لاستهموا عليه ". " ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فاخره، فشكر الله له، فغفر له ". ثم قال " الشهداء خمسة المطعون، والمبطون، والغريق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله ". وقال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا لاستهموا عليه ". " ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فاخره، فشكر الله له، فغفر له ". ثم قال " الشهداء خمسة المطعون، والمبطون، والغريق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله ". وقال " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا لاستهموا عليه ". " ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے بنو سلمہ والو! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا حميد، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بني سلمة الا تحتسبون اثاركم ". وقال مجاهد في قوله {ونكتب ما قدموا واثارهم} قال خطاهم. وقال ابن ابي مريم اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثني حميد، حدثني انس، ان بني سلمة، ارادوا ان يتحولوا، عن منازلهم، فينزلوا قريبا من النبي صلى الله عليه وسلم قال فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعروا {المدينة} فقال " الا تحتسبون اثاركم ". قال مجاهد خطاهم اثارهم ان يمشى في الارض بارجلهم
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے بنو سلمہ والو! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا حميد، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بني سلمة الا تحتسبون اثاركم ". وقال مجاهد في قوله {ونكتب ما قدموا واثارهم} قال خطاهم. وقال ابن ابي مريم اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثني حميد، حدثني انس، ان بني سلمة، ارادوا ان يتحولوا، عن منازلهم، فينزلوا قريبا من النبي صلى الله عليه وسلم قال فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعروا {المدينة} فقال " الا تحتسبون اثاركم ". قال مجاهد خطاهم اثارهم ان يمشى في الارض بارجلهم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے ( اور چل نہ سکتے ) تو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہو گیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي قال، حدثنا الاعمش، قال حدثني ابو صالح، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس صلاة اثقل على المنافقين من الفجر والعشاء، ولو يعلمون ما فيهما لاتوهما ولو حبوا، لقد هممت ان امر الموذن فيقيم، ثم امر رجلا يوم الناس، ثم اخذ شعلا من نار فاحرق على من لا يخرج الى الصلاة بعد
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے مالک بن حویرث سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو اور اقامت کہو، پھر جو تم میں بڑا ہے وہ امام بنے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا حضرت الصلاة فاذنا واقيما، ثم ليومكما اكبركما
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک ( نماز پڑھنے کے بعد ) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے «اللهم اغفر له، اللهم ارحمه» کہ اے اللہ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا ( یہ سارا وقت ) نماز ہی میں شمار ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الملايكة تصلي على احدكم ما دام في مصلاه ما لم يحدث اللهم اغفر له، اللهم ارحمه. لا يزال احدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه، لا يمنعه ان ينقلب الى اهله الا الصلاة
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل الا ظله الامام العادل، وشاب نشا في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل طلبته امراة ذات منصب وجمال فقال اني اخاف الله. ورجل تصدق اخفى حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی رات تک دیر کی۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے ) ۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، قال سيل انس هل اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما فقال نعم، اخر ليلة صلاة العشاء الى شطر الليل، ثم اقبل علينا بوجهه بعد ما صلى فقال " صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها ". قال فكاني انظر الى وبيص خاتمه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا۔ وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال اخبرنا محمد بن مطرف، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من غدا الى المسجد وراح اعد الله له نزله من الجنة كلما غدا او راح