Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ثابت سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال اني لا الو ان اصلي بكم كما رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بنا. قال ثابت كان انس يصنع شييا لم اركم تصنعونه، كان اذا رفع راسه من الركوع قام حتى يقول القايل قد نسي. وبين السجدتين حتى يقول القايل قد نسي
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے بازو کتوں کی طرح نہ پھیلایا کرو۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في السجود، ولا يبسط احدكم ذراعيه انبساط الكلب
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔
حدثنا محمد بن الصباح، قال اخبرنا هشيم، قال اخبرنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، قال اخبرنا مالك بن الحويرث الليثي، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، فاذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔
حدثنا معلى بن اسد، قال حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال جاءنا مالك بن الحويرث فصلى بنا في مسجدنا هذا فقال اني لاصلي بكم، وما اريد الصلاة، ولكن اريد ان اريكم كيف رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي. قال ايوب فقلت لابي قلابة وكيف كانت صلاته قال مثل صلاة شيخنا هذا يعني عمرو بن سلمة قال ايوب وكان ذلك الشيخ يتم التكبير، واذا رفع راسه عن السجدة الثانية جلس واعتمد على الارض، ثم قام
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیج بن سلیمان نے، انہوں نے سعید بن حارث سے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور جب انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو پکار کر تکبیر کہی پھر جب سجدہ کیا تو ایسا ہی کیا پھر سجدہ سے سر اٹھایا تو بھی ایسا ہی کیا اسی طرح جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوئے اس وقت بھی آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔
حدثنا يحيى بن صالح، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، قال صلى لنا ابو سعيد فجهر بالتكبير حين رفع راسه من السجود، وحين سجد، وحين رفع، وحين قام من الركعتين وقال هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ آپ نے جب سجدہ کیا، سجدہ سے سر اٹھایا دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو ہر مرتبہ تکبیر کہی۔ جب آپ نے سلام پھیر دیا تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ انہوں نے واقعی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا کہ مجھے انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، قال حدثنا غيلان بن جرير، عن مطرف، قال صليت انا وعمران، صلاة خلف علي بن ابي طالب رضى الله عنه فكان اذا سجد كبر، واذا رفع كبر، واذا نهض من الركعتين كبر، فلما سلم اخذ عمران بيدي فقال لقد صلى بنا هذا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم. او قال لقد ذكرني هذا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ ( تشہد میں ) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی ( میری ) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ ( کمزوری کی وجہ سے ) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن عبد الله بن عبد الله، انه اخبره انه، كان يرى عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يتربع في الصلاة اذا جلس، ففعلته وانا يوميذ حديث السن، فنهاني عبد الله بن عمر وقال انما سنة الصلاة ان تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى. فقلت انك تفعل ذلك. فقال ان رجلى لا تحملاني
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے خالد سے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا (دوسری سند) اور کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، اور ان سے یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو ( زمین پر ) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔ لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید بن محمد بن حلحلہ سے سنا اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے، اور ابوصالح نے لیث سے «كل فقار مكانه» نقل کیا ہے اور ابن مبارک نے یحییٰ بن ایوب سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان سے حدیث میں «كل فقار» بیان کیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن خالد، عن سعيد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء،. وحدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، ويزيد بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، انه كان جالسا مع نفر من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابو حميد الساعدي انا كنت احفظكم لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم رايته اذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه، واذا ركع امكن يديه من ركبتيه، ثم هصر ظهره، فاذا رفع راسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه، فاذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما، واستقبل باطراف اصابع رجليه القبلة، فاذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى، واذا جلس في الركعة الاخرة قدم رجله اليسرى ونصب الاخرى وقعد على مقعدته. وسمع الليث يزيد بن ابي حبيب ويزيد من محمد بن حلحلة وابن حلحلة من ابن عطاء. قال ابو صالح عن الليث كل فقار. وقال ابن المبارك عن يحيى بن ايوب قال حدثني يزيد بن ابي حبيب ان محمد بن عمرو حدثه كل فقار
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی، انہوں نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے بیان کیا جو مولی بن عبدالمطلب (یا مولی ربیعہ بن حارث) تھے، کہ عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول اور بنی عبد مناف کے حلیف قبیلہ ازدشنوہ سے تعلق رکھتے تھے، نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، چنانچہ سارے لوگ بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عبد الرحمن بن هرمز، مولى بني عبد المطلب وقال مرة مولى ربيعة بن الحارث ان عبد الله ابن بحينة وهو من ازد شنوءة وهو حليف لبني عبد مناف، وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم. ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم الظهر فقام في الركعتين الاوليين لم يجلس، فقام الناس معه حتى اذا قضى الصلاة، وانتظر الناس تسليمه، كبر وهو جالس، فسجد سجدتين قبل ان يسلم ثم سلم
قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا، انہوں نے اعرج سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے، کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی۔ آپ کو چاہیے تھا بیٹھنا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بھول کر ) کھڑے ہو گئے پھر نماز کے آخر میں بیٹھے ہی بیٹھے دو سجدے کئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا بكر، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر فقام وعليه جلوس، فلما كان في اخر صلاته سجد سجدتين وهو جالس
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا الاعمش، عن شقيق بن سلمة، قال قال عبد الله كنا اذا صلينا خلف النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام على جبريل وميكاييل، السلام على فلان وفلان. فالتفت الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله هو السلام، فاذا صلى احدكم فليقل التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين. فانكم اذا قلتموها اصابت كل عبد لله صالح في السماء والارض، اشهد ان لا اله الا الله، واشهد ان محمدا عبده ورسوله
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرنا عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، واعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات، اللهم اني اعوذ بك من الماثم والمغرم ". فقال له قايل ما اكثر ما تستعيذ من المغرم فقال " ان الرجل اذا غرم حدث فكذب، ووعد فاخلف ". وعن الزهري، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستعيذ في صلاته من فتنة الدجال
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرنا عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، واعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات، اللهم اني اعوذ بك من الماثم والمغرم ". فقال له قايل ما اكثر ما تستعيذ من المغرم فقال " ان الرجل اذا غرم حدث فكذب، ووعد فاخلف ". وعن الزهري، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستعيذ في صلاته من فتنة الدجال
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن ابی حبیب سے بیان کیا، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے، ان سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي مغفرة من عندك، وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں نے اپنی جان پر ( گناہ کر کے ) بہت زیادہ ظلم کیا پس گناہوں کو تیرے سوا کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم کر کہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا بیشک وشبہ تو ہی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، عن ابي بكر الصديق رضى الله عنه . انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء ادعو به في صلاتي. قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ��لا يغفر الذنوب الا انت، فاغفر لي مغفرة من عندك، وارحمني انك انت الغفور الرحيم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ ( پہلے ) جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم ( قعدہ میں ) یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ”اللہ پر سلام ہو“ کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے۔ بلکہ یہ کہو «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب بندگان اور تمام عبادات اور تمام پاکیزہ خیراتیں اللہ ہی کے لیے ہیں آپ پر اے نبی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو اور جب تم یہ کہو گے تو آسمان پر اللہ کے تمام بندوں کو پہنچے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تمام بندوں کو پہنچے گا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن الاعمش، حدثني شقيق، عن عبد الله، قال كنا اذا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة قلنا السلام على الله من عباده، السلام على فلان وفلان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا السلام على الله. فان الله هو السلام، ولكن قولوا التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين. فانكم اذا قلتم اصاب كل عبد في السماء او بين السماء والارض، اشهد ان لا اله الا الله، واشهد ان محمدا عبده ورسوله، ثم يتخير من الدعاء اعجبه اليه فيدعو
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ مٹی کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر صاف ظاہر تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال سالت ابا سعيد الخدري فقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد في الماء والطين حتى رايت اثر الطين في جبهته
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب زہری نے ہند بنت حارث سے حدیث بیان کی کہ (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( نماز سے ) سلام پھیرتے تو سلام کے ختم ہوتے ہی عورتیں کھڑی ہو جاتیں ( باہر آنے کے لیے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں جلدی چلی جائیں اور مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا الزهري، عن هند بنت الحارث، ان ام سلمة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه، ومكث يسيرا قبل ان يقوم. قال ابن شهاب فارى والله اعلم ان مكثه لكى ينفذ النساء قبل ان يدركهن من انصرف من القوم
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں معمر بن راشد نے زہری سے خبر دی، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے انہیں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔
حدثنا حبان بن موسى، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عتبان، قال صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم فسلمنا حين سلم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی، وہ کہتے تھے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے گھر کے ڈول سے کلی کرنا بھی یاد ہے ( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ میں ڈالی تھی ) ۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني محمود بن الربيع،، وزعم، انه عقل رسول الله صلى الله عليه وسلم وعقل مجة مجها من دلو كان في دارهم. قال سمعت عتبان بن مالك الانصاري، ثم احد بني سالم قال كنت اصلي لقومي بني سالم، فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اني انكرت بصري، وان السيول تحول بيني وبين مسجد قومي، فلوددت انك جيت فصليت في بيتي مكانا، حتى اتخذه مسجدا فقال " افعل ان شاء الله ". فغدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر معه بعد ما اشتد النهار، فاستاذن النبي صلى الله عليه وسلم فاذنت له، فلم يجلس حتى قال " اين تحب ان اصلي من بيتك ". فاشار اليه من المكان الذي احب ان يصلي فيه، فقام فصففنا خلفه ثم سلم، وسلمنا حين سلم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی، وہ کہتے تھے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے گھر کے ڈول سے کلی کرنا بھی یاد ہے ( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ میں ڈالی تھی ) ۔
حدثنا عبدان، قال اخبرنا عبد الله، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني محمود بن الربيع،، وزعم، انه عقل رسول الله صلى الله عليه وسلم وعقل مجة مجها من دلو كان في دارهم. قال سمعت عتبان بن مالك الانصاري، ثم احد بني سالم قال كنت اصلي لقومي بني سالم، فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اني انكرت بصري، وان السيول تحول بيني وبين مسجد قومي، فلوددت انك جيت فصليت في بيتي مكانا، حتى اتخذه مسجدا فقال " افعل ان شاء الله ". فغدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر معه بعد ما اشتد النهار، فاستاذن النبي صلى الله عليه وسلم فاذنت له، فلم يجلس حتى قال " اين تحب ان اصلي من بيتك ". فاشار اليه من المكان الذي احب ان يصلي فيه، فقام فصففنا خلفه ثم سلم، وسلمنا حين سلم