Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالملک بن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابو معبد نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بلند آواز سے ذکر، فرض نماز سے فارغ ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جاری تھا۔
حدثنا اسحاق بن نصر، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عمرو، ان ابا معبد، مولى ابن عباس اخبره ان ابن عباس رضى الله عنهما اخبره ان رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم. وقال ابن عباس كنت اعلم اذا انصرفوا بذلك اذا سمعته
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر ( «الله اكبر» ) کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا۔ علی بن مدینی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو کے حوالے سے بیان کیا کہ ابومعبد ابن عباس کے غلاموں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے۔ علی بن مدینی نے بتایا کہ ان کا نام نافذ تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، {عن عمرو،} قال اخبرني ابو معبد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كنت اعرف انقضاء صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بالتكبير
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نادار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر چکے حالانکہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں لیکن مال و دولت کی وجہ سے انہیں ہم پر فوقیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے ہیں۔ عمرہ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں اور صدقے دیتے ہیں ( اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے ) اس پر آپ نے فرمایا کہ لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پالو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوا ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح «سبحان الله»، تحمید «الحمد لله»، تکبیر «الله أكبر» کہا کرو۔ پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح «سبحان الله» تینتیس مرتبہ، تحمید «الحمد لله» تینتیس مرتبہ اور تکبیر «الله أكبر» چونتیس مرتبہ کہیں گے۔ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «سبحان الله»، «الحمد لله» اور «الله أكبر» کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، قال حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال جاء الفقراء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا ذهب اهل الدثور من الاموال بالدرجات العلا والنعيم المقيم، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ولهم فضل من اموال يحجون بها، ويعتمرون، ويجاهدون، ويتصدقون قال " الا احدثكم بامر ان اخذتم به ادركتم من سبقكم ولم يدرككم احد بعدكم، وكنتم خير من انتم بين ظهرانيه، الا من عمل مثله تسبحون وتحمدون، وتكبرون خلف كل صلاة ثلاثا وثلاثين ". فاختلفنا بيننا فقال بعضنا نسبح ثلاثا وثلاثين، ونحمد ثلاثا وثلاثين، ونكبر اربعا وثلاثين. فرجعت اليه فقال " تقول سبحان الله، والحمد لله، والله اكبر، حتى يكون منهن كلهن ثلاثا وثلاثين
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وراد نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط میں لکھوایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اس کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جسے تو نہ دے اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت و مال تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے۔ شعبہ نے بھی عبدالملک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ حسن نے فرمایا کہ ( حدیث میں لفظ ) «جد» کے معنی مال داری کے ہیں اور حکم، قاسم بن مخیمرہ سے وہ وراد کے واسطے سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن وراد، كاتب المغيرة بن شعبة قال املى على المغيرة بن شعبة في كتاب الى معاوية ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة " لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما اعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد ". وقال شعبة عن عبد الملك بهذا، وعن الحكم عن القاسم بن مخيمرة عن وراد بهذا. وقال الحسن الجد غنى
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ( فرض ) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا جرير بن حازم، قال حدثنا ابو رجاء، عن سمرة بن جندب، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى صلاة اقبل علينا بوجهه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلانی جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن زيد بن خالد الجهني، انه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية على اثر سماء كانت من الليلة، فلما انصرف اقبل على الناس فقال " هل تدرون ماذا قال ربكم ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " اصبح من عبادي مومن بي وكافر، فاما من قال مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مومن بي وكافر بالكوكب، واما من قال بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي ومومن بالكوكب
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہیں حمید ذیلی نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات ( عشاء کی ) نماز میں دیر فرمائی تقریباً آدھی رات تک۔ پھر آخر حجرہ سے باہر تشریف لائے اور نماز کے بعد ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے لیکن تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا کہ نماز میں رہے ( یعنی تم کو نماز کا ثواب ملتا رہا ) ۔
حدثنا عبد الله، سمع يزيد، قال اخبرنا حميد، عن انس، قال اخر رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة ذات ليلة الى شطر الليل ثم خرج علينا، فلما صلى اقبل علينا بوجهه فقال " ان الناس قد صلوا ورقدوا، وانكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ان سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے ان سے نافع نے، فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( نفل ) اسی جگہ پر پڑھتے تھے اور جس جگہ فرض پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی اسی طرح کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ امام اپنی ( فرض پڑھنے کی ) جگہ پر نفل نہ پڑھے اور یہ صحیح نہیں۔
وقال لنا ادم حدثنا شعبة، عن ايوب، عن نافع، قال كان ابن عمر يصلي في مكانه الذي صلى فيه الفريضة. وفعله القاسم. ويذكر عن ابي هريرة رفعه لا يتطوع الامام في مكانه. ولم يصح
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم يمكث في مكانه يسيرا. قال ابن شهاب فنرى والله اعلم لكى ينفذ من ينصرف من النساء. وقال ابن ابي مريم اخبرنا نافع بن يزيد، قال اخبرني جعفر بن ربيعة، ان ابن شهاب، كتب اليه قال حدثتني هند بنت الحارث الفراسية، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم وكانت من صواحباتها قالت كان يسلم فينصرف النساء، فيدخلن بيوتهن من قبل ان ينصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب اخبرتني هند الفراسية. وقال عثمان بن عمر اخبرنا يونس عن الزهري حدثتني هند الفراسية. وقال الزبيدي اخبرني الزهري ان هند بنت الحارث القرشية اخبرته، وكانت تحت معبد بن المقداد وهو حليف بني زهرة وكانت تدخل على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم. وقال شعيب عن الزهري حدثتني هند القرشية. وقال ابن ابي عتيق عن الزهري عن هند الفراسية. وقال الليث حدثني يحيى بن سعيد حدثه عن ابن شهاب عن امراة من قريش حدثته عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم يمكث في مكانه يسيرا. قال ابن شهاب فنرى والله اعلم لكى ينفذ من ينصرف من النساء. وقال ابن ابي مريم اخبرنا نافع بن يزيد، قال اخبرني جعفر بن ربيعة، ان ابن شهاب، كتب اليه قال حدثتني هند بنت الحارث الفراسية، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم وكانت من صواحباتها قالت كان يسلم فينصرف النساء، فيدخلن بيوتهن من قبل ان ينصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب اخبرتني هند الفراسية. وقال عثمان بن عمر اخبرنا يونس عن الزهري حدثتني هند الفراسية. وقال الزبيدي اخبرني الزهري ان هند بنت الحارث القرشية اخبرته، وكانت تحت معبد بن المقداد وهو حليف بني زهرة وكانت تدخل على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم. وقال شعيب عن الزهري حدثتني هند القرشية. وقال ابن ابي عتيق عن الزهري عن هند الفراسية. وقال الليث حدثني يحيى بن سعيد حدثه عن ابن شهاب عن امراة من قريش حدثته عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے حجرہ میں گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تیزی کی وجہ سے گھبرا گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جلدی کی وجہ سے لوگوں کے تعجب کو محسوس فرمایا تو فرمایا کہ ہمارے پاس ایک سونے کا ڈلا ( تقسیم کرنے سے ) بچ گیا تھا مجھے اس میں دل لگا رہنا برا معلوم ہوا، میں نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دے دیا۔
حدثنا محمد بن عبيد، قال حدثنا عيسى بن يونس، عن عمر بن سعيد، قال اخبرني ابن ابي مليكة، عن عقبة، قال صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة العصر فسلم ثم قام مسرعا، فتخطى رقاب الناس الى بعض حجر نسايه، ففزع الناس من سرعته فخرج عليهم، فراى انهم عجبوا من سرعته فقال " ذكرت شييا من تبر عندنا فكرهت ان يحبسني، فامرت بقسمته
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان سے بیان کیا، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عمارة بن عمير، عن الاسود، قال قال عبد الله لا يجعل احدكم للشيطان شييا من صلاته، يرى ان حقا عليه ان لا ينصرف الا عن يمينه، لقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، عبیداللہ بکیری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے ( کچا لہسن یا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے ) ۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في غزوة خيبر " من اكل من هذه الشجرة يعني الثوم فلا يقربن مسجدنا
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ درخت کھائے ( آپ کی مراد لہسن سے تھی ) تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے عطاء نے کہا میں نے جابر سے پوچھا کہ آپ کی مراد اس سے کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی مراد صرف کچے لہسن سے تھی۔ مخلد بن یزید نے ابن جریج کے واسطہ سے ( الانیہ کے بجائے ) الانتنہ نقل کیا ہے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف لہسن کی بدبو سے تھی ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا ابو عاصم، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، قال سمعت جابر بن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه الشجرة يريد الثوم فلا يغشانا في مساجدنا ". قلت ما يعني به قال ما اراه يعني الا نييه. وقال مخلد بن يزيد عن ابن جريج الا نتنه
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ عطاء جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے ہوئے ہو تو وہ ہم سے دور رہے یا ( یہ کہا کہ اسے ) ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں۔ ( پیاز یا گندنا بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا۔ اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالیں گئی تھیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگ کھا لو۔ میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے یوں نقل کیا کہ تھال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تھی۔ ابن وہب نے کہا کہ طبق جس میں ہری ترکاریاں تھیں اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے روایت میں ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ( یا سعید یا ابن وہب نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ خود زہری کا قول ہے یا حدیث میں داخل ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، زعم عطاء ان جابر بن عبد الله، زعم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكل ثوما او بصلا فليعتزلنا او قال فليعتزل مسجدنا، وليقعد في بيته ". وان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بقدر فيه خضرات من بقول، فوجد لها ريحا فسال فاخبر بما فيها من البقول فقال " قربوها " الى بعض اصحابه كان معه، فلما راه كره اكلها قال " كل فاني اناجي من لا تناجي ". وقال احمد بن صالح عن ابن وهب اتي ببدر. قال ابن وهب يعني طبقا فيه خضرات. ولم يذكر الليث وابو صفوان عن يونس قصة القدر، فلا ادري هو من قول الزهري او في الحديث
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس درخت کو کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، قال سال رجل انسا ما سمعت نبي الله صلى الله عليه وسلم في الثوم فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه الشجرة فلا يقربنا، او لا يصلين معنا
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان شیبانی سے سنا، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ ٹوٹی ہوئی قبر پر سے گزر رہے تھے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھے ہوئے تھے۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو آپ سے یہ کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدثنا ابن المثنى، قال حدثني غندر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت سليمان الشيباني، قال سمعت الشعبي، قال اخبرني من، مر مع النبي صلى الله عليه وسلم على قبر منبوذ، فامهم وصفوا عليه. فقلت يا ابا عمرو من حدثك فقال ابن عباس
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے صفوان بن سلیم نے عطاء سے بیان کیا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ کے لیے غسل ضروری ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثني صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی ابن عباس سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سویا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سو گئے۔ پھر رات کا ایک حصہ جب گزر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو ( راوی حدیث نے ) اس وضو کو بہت ہی ہلکا بتلایا ( یعنی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم پانی استعمال فرمایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اس کے بعد میں نے بھی اٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے داہنی طرف پھیر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ آخر مؤذن نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی مگر ( نیا ) وضو نہیں کیا سفیان نے کہا۔ ہم نے عمرو بن دینار سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ( سوتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( صرف ) آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو بن دینار نے جواب دیا کہ میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے پھر عبید نے اس آیت کی تلاوت کی «إني أرى في المنام أني أذبحك» ( ترجمہ ) میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال اخبرنا سفيان، عن عمرو، قال اخبرني كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بت عند خالتي ميمونة ليلة، فنام النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان في بعض الليل قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضا من شن معلق وضوءا خفيفا يخففه عمرو ويقلله جدا ثم قام يصلي، فقمت فتوضات نحوا مما توضا، ثم جيت فقمت عن يساره، فحولني فجعلني عن يمينه، ثم صلى ما شاء الله، ثم اضطجع فنام حتى نفخ، فاتاه المنادي يوذنه بالصلاة فقام معه الى الصلاة، فصلى ولم يتوضا. قلنا لعمرو ان ناسا يقولون ان النبي صلى الله عليه وسلم تنام عينه ولا ينام قلبه. قال عمرو سمعت عبيد بن عمير يقول ان رويا الانبياء وحى ثم قرا {اني ارى في المنام اني اذبحك}
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ( ان کی ماں ) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ( پیچھے ) میرے ساتھ یتیم لڑکا ( ضمیرہ بن سعد ) کھڑا ہوا۔ میری بوڑھی دادی ( ملیکہ ام سلیم ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته، مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته، فاكل منه فقال " قوموا فلاصلي بكم ". فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس، فنضحته بماء فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم واليتيم معي، والعجوز من وراينا، فصلى بنا ركعتين