Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے فرمایا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ابھی میں جوانی کے قریب تھا ( لیکن بالغ نہ تھا ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار وغیرہ ( آڑ ) نہ تھی۔ میں صف کے ایک حصے کے آگے سے گزر کر اترا۔ گدھی چرنے کے لیے چھوڑ دی اور خود صف میں شامل ہو گیا۔ کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا ( حالانکہ میں نابالغ تھا ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس رضى الله عنهما انه قال اقبلت راكبا على حمار اتان وانا يوميذ قد ناهزت الاحتلام ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس بمنى الى غير جدار، فمررت بين يدى بعض الصف، فنزلت وارسلت الاتان ترتع ودخلت في الصف، فلم ينكر ذلك على احد
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں دیر کی اور عیاش نے ہم سے عبد الاعلیٰ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں ایک مرتبہ دیر کی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا کہ ( اس وقت ) روئے زمین پر تمہارے سوا اور کوئی اس نماز کو نہیں پڑھتا، اس زمانہ میں مدینہ والوں کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، قالت اعتم النبي صلى الله عليه وسلم. وقال عياش حدثنا عبد الاعلى حدثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عايشة رضى الله عنها قالت اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم في العشاء حتى ناداه عمر قد نام النساء والصبيان. فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انه ليس احد من اهل الارض يصلي هذه الصلاة غيركم ". ولم يكن احد يوميذ يصلي غير اهل المدينة
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے ایک شخص نے یہ پوچھا تھا کہ کیا تم نے ( عورتوں کا ) نکلنا عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں دیکھا ہے اگر میں آپ کا رشتہ دار عزیز نہ ہوتا تو کبھی نہ دیکھتا ( یعنی میری کم سنی اور قرابت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے ) کثیر بن صلت کے مکان کے پاس جو نشان ہے پہلے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سنایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں بھی وعظ و نصیحت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیرات کرنے کے لیے کہا، چنانچہ عورتوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنی شروع کر دیے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر تشریف لائے۔
حدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، حدثني عبد الرحمن بن عابس، سمعت ابن عباس رضى الله عنهما قال له رجل شهدت الخروج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم، ولولا مكاني منه ما شهدته يعني من صغره اتى العلم الذي عند دار كثير بن الصلت، ثم خطب ثم اتى النساء فوعظهن وذكرهن وامرهن ان يتصدقن فجعلت المراة تهوي بيدها الى حلقها تلقي في ثوب بلال، ثم اتى هو وبلال البيت
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز میں اتنی دیر کی کہ عمر رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے سے ) تشریف لائے اور فرمایا کہ دیکھو روئے زمین پر اس نماز کا ( اس وقت ) تمہارے سوا اور کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے۔ ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی اور لوگ عشاء کی نماز شفق ڈوبنے کے بعد سے رات کی پہلی تہائی گزرنے تک پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعتمة حتى ناداه عمر نام النساء والصبيان. فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما ينتظرها احد غيركم من اهل الارض ". ولا يصلى يوميذ الا بالمدينة، وكانوا يصلون العتمة فيما بين ان يغيب الشفق الى ثلث الليل الاول
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے حنظلہ بن ابی سفیان سے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے ان کے باپ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں تم سے رات میں مسجد آنے کی اجازت مانگیں تو تم لوگ انہیں اس کی اجازت دے دیا کرو۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن حنظلة، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استاذنكم نساوكم بالليل الى المسجد فاذنوا لهن ". تابعه شعبة عن الاعمش عن مجاهد عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ہند بنت حارث نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد ( باہر آنے کے لیے ) اٹھ جاتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے رہتے۔ جب تک اللہ کو منظور ہوتا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال حدثتني هند بنت الحارث، ان ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتها ان النساء في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم كن اذا سلمن من المكتوبة قمن، وثبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن صلى من الرجال ما شاء الله، فاذا قام رسول الله صلى الله عليه وسلم قام الرجال
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا، (دوسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید انصاری سے خبر دی، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے پھر عورتیں چادریں لپیٹ کر ( اپنے گھروں کو ) واپس ہو جاتی تھیں۔ اندھیرے سے ان کی پہچان نہ ہو سکتی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، ح وحدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي الصبح، فينصرف النساء متلفعات بمروطهن، ما يعرفن من الغلس
ہم سے محمد بن مسکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن بکر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ انصاری نے، ان سے ان کے والد ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز لمبی کروں لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کہ مجھے اس کی ماں کو تکلیف دینا برا معلوم ہوتا ہے۔
حدثنا محمد بن مسكين، قال حدثنا بشر، اخبرنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة الانصاري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاقوم الى الصلاة وانا اريد ان اطول فيها، فاسمع بكاء الصبي، فاتجوز في صلاتي كراهية ان اشق على امه
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے خبر دی، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ آج عورتوں میں جو نئی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة رضى الله عنها قالت لو ادرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما احدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني اسراييل. قلت لعمرة او منعن قالت نعم
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے بیان کیا، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا، اس سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھٹرے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔
حدثنا يحيى بن قزعة، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه، ويمكث هو في مقامه يسيرا قبل ان يقوم. قال نرى والله اعلم ان ذلك كان لكى ينصرف النساء قبل ان يدركهن احد من الرجال
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابن عيينة، عن اسحاق، عن انس رضى الله عنه قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم في بيت ام سليم، فقمت ويتيم خلفه، وام سليم خلفنا
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے بیان کیا، ان سے اس کے باپ (قاسم بن محمد بن ابی بکر) نے ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھتے تھے۔ مسلمانوں کی عورتیں جب ( نماز پڑھ کر ) واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے ان کی پہچان نہ ہوتی یا وہ ایک دوسری کو نہ پہچان سکتیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا فليح، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي الصبح بغلس فينصرفن نساء المومنين، لا يعرفن من الغلس، او لا يعرف بعضهن بعضا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے ان کے باپ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی ( نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنے کی ) اس سے اجازت مانگے تو شوہر کو چاہیے کہ اس کو نہ روکے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، عن معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم. " اذا استاذنت امراة احدكم فلا يمنعها
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابن عيينة، عن اسحاق، عن انس، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم في بيت ام سليم، فقمت ويتيم خلفه، وام سليم خلفنا
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے بیان کیا، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه، وهو يمكث في مقامه يسيرا قبل ان يقوم. قالت نرى والله اعلم ان ذلك كان لكى ينصرف النساء قبل ان يدركهن الرجال