Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے «آمين» کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر «آمين» کہی۔ اس طرح ایک کی «آمين» دوسرے کے «آمين» کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال احدكم امين. وقالت الملايكة في السماء امين. فوافقت احداهما الاخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمين» کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور نعیم مجمر نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} فقولوا امين. فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه ". تابعه محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ونعيم المجمر عن ابي هريرة رضى الله عنه
ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے زیادہ بن حسان اعلم سے بیان کیا، انہوں نے حسن رحمہ اللہ علیہ سے، انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ( نماز پڑھنے کے لیے ) گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع میں تھے۔ اس لیے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے رکوع کر لیا، پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تمہارا شوق اور زیادہ کرے لیکن دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا همام، عن الاعلم وهو زياد عن الحسن، عن ابي بكرة، انه انتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو راكع، فركع قبل ان يصل الى الصف، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " زادك الله حرصا ولا تعد
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعید بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ سے، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ پھر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے۔
حدثنا اسحاق الواسطي، قال حدثنا خالد، عن الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال صلى مع علي رضى الله عنه بالبصرة فقال ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. فذكر انه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور جب بھی وہ اٹھتے تکبیر ضرور کہتے۔ پھر جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، انه كان يصلي بهم، فيكبر كلما خفض ورفع، فاذا انصرف قال اني لاشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن مطرف بن عبد الله، قال صليت خلف علي بن ابي طالب رضى الله عنه انا وعمران بن حصين،، فكان اذا سجد كبر، واذا رفع راسه كبر، واذا نهض من الركعتين كبر، فلما قضى الصلاة اخذ بيدي عمران بن حصين فقال قد ذكرني هذا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم. او قال لقد صلى بنا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں ( نماز پڑھتے ہوئے ) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، قال حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن عكرمة، قال رايت رجلا عند المقام يكبر في كل خفض ورفع واذا قام واذا وضع، فاخبرت ابن عباس رضى الله عنه قال اوليس تلك صلاة النبي صلى الله عليه وسلم لا ام لك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے ( ظہر کی ) نماز پڑھی۔ انہوں نے ( تمام نماز میں ) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال اخبرنا همام، عن قتادة، عن عكرمة، قال صليت خلف شيخ بمكة فكبر ثنتين وعشرين تكبيرة، فقلت لابن عباس انه احمق. فقال ثكلتك امك، سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم. وقال موسى حدثنا ابان حدثنا قتادة حدثنا عكرمة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبری دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے اور کھڑے ہی کھڑے «ربنا لك الحمد» کہتے۔ پھر جب ( دوسرے ) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ ( اس حدیث میں ) عبداللہ بن صالح نے لیث کے واسطے سے ( بجائے «ربنا لك الحمد» کے ) «ربنا ولك الحمد» نقل کیا ہے۔ ( «ربنا لك الحمد» کہے یا «ربنا ولك الحمد» واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے ) ۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، انه سمع ابا هريرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة يكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول سمع الله لمن حمده. حين يرفع صلبه من الركعة، ثم يقول وهو قايم ربنا لك الحمد قال عبد الله {بن صالح عن الليث} ولك الحمد ثم يكبر حين يهوي، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يفعل ذلك في الصلاة كلها حتى يقضيها، ويكبر حين يقوم من الثنتين بعد الجلوس
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور اکبر سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مصعب بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن ابي يعفور، قال سمعت مصعب بن سعد، يقول صليت الى جنب ابي فطبقت بين كفى ثم وضعتهما بين فخذى، فنهاني ابي وقال كنا نفعله فنهينا عنه، وامرنا ان نضع ايدينا على الركب
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان بن اعمش کے واسطہ سے کہا میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت زيد بن وهب، قال راى حذيفة رجلا لا يتم الركوع والسجود قال ما صليت، ولو مت مت على غير الفطرة التي فطر الله محمدا صلى الله عليه وسلم
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔
حدثنا بدل بن المحبر، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن البراء، قال كان ركوع النبي صلى الله عليه وسلم وسجوده وبين السجدتين واذا رفع من الركوع، ما خلا القيام والقعود، قريبا من السواء
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا۔ پھر ( سجدہ سے ) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر۔ یہی طریقہ نماز کے تمام ( رکعتوں میں ) اختیار کر۔
حدثنا مسدد، قال اخبرني يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال حدثنا سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فدخل رجل فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد النبي صلى الله عليه وسلم عليه السلام فقال " ارجع فصل فانك لم تصل " فصلى، ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ارجع فصل فانك لم تصل ". ثلاثا. فقال والذي بعثك بالحق فما احسن غيره فعلمني. قال " اذا قمت الى الصلاة فكبر، ثم اقرا ما تيسر معك من القران، ثم اركع حتى تطمين راكعا، ثم ارفع حتى تعتدل قايما، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم ارفع حتى تطمين جالسا، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا منصور بن معتمر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالضحیٰ مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في ركوعه وسجوده " سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے سعید مقبری سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اس کے بعد «اللهم ربنا ولك الحمد» بھی کہتے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے اور سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہا کرتے تھے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قال " سمع الله لمن حمده ". قال " اللهم ربنا ولك الحمد ". وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا ركع واذا رفع راسه يكبر، واذا قام من السجدتين قال " الله اكبر
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے سمی سے خبر دی، انہوں نے ابوصالح ذکوان کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو۔ کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده. فقولوا اللهم ربنا لك الحمد. فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام دستوائی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ لو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب قریب کر دوں گا۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ظہر، عشاء اور صبح کی آخری رکعات میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ «سمع الله لمن حمده» کے بعد۔ یعنی مومنین کے حق میں دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال لاقربن صلاة النبي صلى الله عليه وسلم. فكان ابو هريرة رضى الله عنه يقنت في الركعة الاخرة من صلاة الظهر وصلاة العشاء، وصلاة الصبح، بعد ما يقول سمع الله لمن حمده. فيدعو للمومنين ويلعن الكفار
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن حذاء سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ (عبداللہ بن زید) سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ دعا قنوت فجر اور مغرب کی نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، قال حدثنا اسماعيل، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال كان القنوت في المغرب والفجر
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے، انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد زرقی سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے رفاعہ بن رافع زرقی سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے۔ ایک شخص نے پیچھے سے کہا «ربنا ولك الحمد، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ کس نے یہ کلمات کہے ہیں، اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کلمات کو لکھنے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، عن علي بن يحيى بن خلاد الزرقي، عن ابيه، عن رفاعة بن رافع الزرقي، قال كنا يوما نصلي وراء النبي صلى الله عليه وسلم فلما رفع راسه من الركعة قال " سمع الله لمن حمده ". قال رجل وراءه ربنا ولك الحمد، حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فلما انصرف قال " من المتكلم ". قال انا. قال " رايت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها، ايهم يكتبها اول
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن ثابت، قال كان انس ينعت لنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فكان يصلي واذا رفع راسه من الركوع قام حتى نقول قد نسي