Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے ہشام دستوائی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورۃ پڑھتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، عن هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الركعتين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب، وسورة سورة، ويسمعنا الاية احيانا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ام فضل رضی اللہ عنہا ( ان کی ماں ) نے انہیں «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ اے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلایا۔ میں آخر عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس رضى الله عنهما انه قال ان ام الفضل سمعته وهو يقرا {والمرسلات عرفا} فقالت يا بنى والله لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة، انها لاخر ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بها في المغرب
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے عبدالملک ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ (زہیر بن عبداللہ) سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے مروان بن حکم سے، اس نے کہا زید بن ثابت نے مجھے ٹوکا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عروة بن الزبير، عن مروان بن الحكم، قال قال لي زيد بن ثابت ما لك تقرا في المغرب بقصار، وقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا بطول الطوليين
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے اپنے باپ (جبیر بن مطعم) سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا في المغرب بالطور
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت» پڑھی اور سجدہ ( تلاوت ) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی ( اس آیت میں تلاوت کا ) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا معتمر، عن ابيه، عن بكر، عن ابي رافع، قال صليت مع ابي هريرة العتمة فقرا {اذا السماء انشقت} فسجد فقلت له قال سجدت خلف ابي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا ازال اسجد بها حتى القاه
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا عدی بن ثابت سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے کہ عشاء کی دو پہلی رکعات میں سے کسی ایک رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «والتين والزيتون» پڑھی۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن عدي، قال سمعت البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر فقرا في العشاء في احدى الركعتين بالتين والزيتون
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے تیمی نے ابوبکر سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» اور سجدہ کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثني التيمي، عن بكر، عن ابي رافع، قال صليت مع ابي هريرة العتمة فقرا {اذا السماء انشقت} فسجد فقلت ما هذه قال سجدت بها خلف ابي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا ازال اسجد بها حتى القاه
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے کہا۔ انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء میں «والتين والزيتون» پڑھتے سنا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز یا اچھی قرآت والا کسی کو نہیں پایا۔
حدثنا خلاد بن يحيى، قال حدثنا مسعر، قال حدثنا عدي بن ثابت، سمع البراء، رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا {والتين والزيتون} في العشاء، وما سمعت احدا احسن صوتا منه او قراءة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے، یہاں تک کہ نماز میں بھی۔ انہوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن ابي عون، قال سمعت جابر بن سمرة، قال قال عمر لسعد لقد شكوك في كل شىء حتى الصلاة. قال اما انا فامد في الاوليين، واحذف في الاخريين، ولا الو ما اقتديت به من صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال صدقت، ذاك الظن بك، او ظني بك
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا سيار بن سلامة، قال دخلت انا وابي، على ابي برزة الاسلمي فسالناه عن وقت الصلوات، فقال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر حين تزول الشمس، والعصر ويرجع الرجل الى اقصى المدينة والشمس حية، ونسيت ما قال في المغرب، ولا يبالي بتاخير العشاء الى ثلث الليل ولا يحب النوم قبلها، ولا الحديث بعدها، ويصلي الصبح فينصرف الرجل فيعرف جليسه، وكان يقرا في الركعتين او احداهما ما بين الستين الى الماية
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی۔ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قرآت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرآت کریں گے اور اگر سورۃ فاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے، لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو اور بہتر ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول في كل صلاة يقرا، فما اسمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعناكم، وما اخفى عنا اخفينا عنكم، وان لم تزد على ام القران اجزات، وان زدت فهو خير
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى» ( آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے ) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال انطلق النبي صلى الله عليه وسلم في طايفة من اصحابه عامدين الى سوق عكاظ، وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء، وارسلت عليهم الشهب، فرجعت الشياطين الى قومهم. فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء، وارسلت علينا الشهب. قالوا ما حال بينكم وبين خبر السماء الا شىء حدث، فاضربوا مشارق الارض ومغاربها، فانظروا ما هذا الذي حال بينكم وبين خبر السماء فانصرف اوليك الذين توجهوا نحو تهامة الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بنخلة، عامدين الى سوق عكاظ وهو يصلي باصحابه صلاة الفجر، فلما سمعوا القران استمعوا له فقالوا هذا والله الذي حال بينكم وبين خبر السماء. فهنالك حين رجعوا الى قومهم وقالوا يا قومنا {انا سمعنا قرانا عجبا * يهدي الى الرشد فامنا به ولن نشرك بربنا احدا} فانزل الله على نبيه صلى الله عليه وسلم {قل اوحي الى} وانما اوحي اليه قول الجن
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے عکرمہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قرا النبي صلى الله عليه وسلم فيما امر، وسكت فيما امر {وما كان ربك نسيا} {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
وقال عبيد الله عن ثابت، عن انس رضى الله عنه كان رجل من الانصار يومهم في مسجد قباء، وكان كلما افتتح سورة يقرا بها لهم في الصلاة مما يقرا به افتتح ب {قل هو الله احد} حتى يفرغ منها، ثم يقرا سورة اخرى معها، وكان يصنع ذلك في كل ركعة، فكلمه اصحابه فقالوا انك تفتتح بهذه السورة، ثم لا ترى انها تجزيك حتى تقرا باخرى، فاما ان تقرا بها واما ان تدعها وتقرا باخرى. فقال ما انا بتاركها، ان احببتم ان اومكم بذلك فعلت، وان كرهتم تركتكم. وكانوا يرون انه من افضلهم، وكرهوا ان يومهم غيره، فلما اتاهم النبي صلى الله عليه وسلم اخبروه الخبر فقال " يا فلان ما يمنعك ان تفعل ما يامرك به اصحابك وما يحملك على لزوم هذه السورة في كل ركعة ". فقال اني احبها. فقال " حبك اياها ادخلك الجنة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن مسلم سے سنا کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورۃ پڑھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اسی طرح ( جلدی جلدی ) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں۔ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا۔ ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابا وايل، قال جاء رجل الى ابن مسعود فقال قرات المفصل الليلة في ركعة. فقال هذا كهذ الشعر لقد عرفت النظاير التي كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرن بينهن فذكر عشرين سورة من المفصل سورتين في كل ركعة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو پہلی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت میں قرآت دوسری رکعت سے زیادہ کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا همام، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الظهر في الاوليين بام الكتاب وسورتين، وفي الركعتين الاخريين بام الكتاب، ويسمعنا الاية، ويطول في الركعة الاولى ما لا يطول في الركعة الثانية، وهكذا في العصر وهكذا في الصبح
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، قلت لخباب اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر قال نعم. قلنا من اين علمت قال باضطراب لحيته
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا، وہ اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو پہلی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورۃ پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں قرآت زیادہ طویل کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا بام الكتاب وسورة معها في الركعتين الاوليين من صلاة الظهر وصلاة العصر، ويسمعنا الاية احيانا، وكان يطيل في الركعة الاولى
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں ( قرآت ) طویل کرتے تھے اور دوسری رکعت میں مختصر۔ صبح کی نماز میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطول في الركعة الاولى من صلاة الظهر، ويقصر في الثانية، ويفعل ذلك في صلاة الصبح
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام «آمين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو۔ کیونکہ جس کی «آمين» ملائکہ کے آمین کے ساتھ ہو گئی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «آمين» کہتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن انهما اخبراه عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه ". وقال ابن شهاب وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " امين