احادیث
#805
صحیح بخاری - Call to Prayers (Adhaan)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے باربار زہری سے یہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے۔ سفیان نے اکثر ( بجائے «عن فرس» کے ) «من فرس» کہا۔ اس گرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم بھی بیٹھ گئے۔ سفیان نے ایک مرتبہ کہا کہ ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ ( سفیان نے اپنے شاگرد علی بن مدینی سے پوچھا کہ ) کیا معمر نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی تھی۔ ( علی کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا جی ہاں۔ اس پر سفیان بولے کہ معمر کو حدیث یاد تھی۔ زہری نے یوں کہا «ولك الحمد» ۔ سفیان نے یہ بھی کہا کہ مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا آپ کا دایاں بازو چھل گیا تھا۔ جب ہم زہری کے پاس سے نکلے ابن جریج نے کہا میں زہری کے پاس موجود تھا تو انہوں نے یوں کہا کہ آپ کی داہنی پنڈلی چھل گئی۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، غير مرة عن الزهري، قال سمعت انس بن مالك، يقول سقط رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فرس وربما قال سفيان من فرس فجحش شقه الايمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة، فصلى بنا قاعدا وقعدنا وقال سفيان مرة صلينا قعودا فلما قضى الصلاة قال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا، واذا رفع فارفعوا، واذا قال سمع الله لمن حمده. فقولوا ربنا ولك الحمد. واذا سجد فاسجدوا ". قال سفيان كذا جاء به معمر قلت نعم. قال لقد حفظ، كذا قال الزهري ولك الحمد. حفظت من شقه الايمن. فلما خرجنا من عند الزهري قال ابن جريج وانا عنده فجحش ساقه الايمن
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Call to Prayers (Adhaan)
- Hadith Index
- #805
- Book Index
- 200
Grades
- -
