Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
ابوسیارہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى، عن ابي سيارة المتعي، قال قلت يا رسول الله ان لي نحلا . قال " اد العشر " . قلت يا رسول الله احمها لي . فحماها لي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے دسواں حصہ زکاۃ لی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا ابن المبارك، حدثنا اسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اخذ من العسل العشر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کر لیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، حدثنا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بزكاة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير . قال عبد الله فجعل الناس عدله مدين من حنطة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمرو، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر صاعا من شعير او صاعا من تمر على كل حر او عبد ذكر او انثى من المسلمين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو فحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا مروان بن محمد، حدثنا ابو يزيد الخولاني، عن سيار بن عبد الرحمن الصدفي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصايم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن اداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن اداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن القاسم بن مخيمرة، عن ابي عمار، عن قيس بن سعد، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بصدقة الفطر قبل ان تنزل الزكاة فلما نزلت الزكاة لم يامرنا ولم ينهنا ونحن نفعله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ہم تو صدقہ فطر میں ایک صاع گیہوں، ایک صاع کھجور، ایک صاع جو، ایک صاع پنیر، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ آئے، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن داود بن قيس الفراء، عن عياض بن عبد الله بن ابي سرح، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نخرج زكاة الفطر اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام صاعا من تمر صاعا من شعير صاعا من اقط صاعا من زبيب فلم نزل كذلك حتى قدم علينا معاوية المدينة فكان فيما كلم به الناس ان قال لا ارى مدين من سمراء الشام الا تعدل صاعا من هذا . فاخذ الناس بذلك . قال ابو سعيد لا ازال اخرجه كما كنت اخرجه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابدا ما عشت
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت ( بے چھلکے کا جو ) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار الموذن، حدثنا عمر بن حفص، عن عمار بن سعد، موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بصدقة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير او صاعا من سلت
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بحرین ہجر بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر ( دسواں ) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج ( محصول ) لیتا ۱؎۔
حدثنا الحسين بن جنيد الدامغاني، حدثنا عتاب بن زياد المروزي، حدثنا ابو حمزة، قال سمعت مغيرة الازدي، يحدث عن محمد بن زيد، عن حيان الاعرج، عن العلاء بن الحضرمي، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى البحرين - او الى هجر - فكنت اتي الحايط يكون بين الاخوة يسلم احدهم فاخذ من المسلم العشر ومن المشرك الخراج
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا محمد بن عبيد الطنافسي، عن ادريس الاودي، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن ابي سعيد، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " الوسق ستون صاعا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا محمد بن عبيد الله، عن عطاء بن ابي رباح، وابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوسق ستون صاعا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن عمرو بن الحارث بن المصطلق ابن اخي، زينب امراة عبد الله عن زينب، امراة عبد الله قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ايجزي عني من الصدقة النفقة على زوجي وايتام في حجري قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لها اجران اجر الصدقة واجر القرابة " . حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عمرو بن الحارث ابن اخي، زينب عن زينب، امراة عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں ( اور پیسے کماتی تھیں ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدقة . فقالت زينب امراة عبد الله ايجزيني من الصدقة ان اتصدق على زوجي وهو فقير وبني اخ لي ايتام وانا انفق عليهم هكذا وهكذا وعلى كل حال قال " نعم " . قال وكانت صناع اليدين
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله الاودي، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان ياخذ احدكم احبله فياتي الجبل فيجيء بحزمة حطب على ظهره فيبيعها فيستغني بثمنها خير له من ان يسال الناس اعطوه او منعوه
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو ، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن محمد بن قيس، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يتقبل لي بواحدة واتقبل له بالجنة " قلت انا . قال " لا تسال الناس شييا " . قال فكان ثوبان يقع سوطه وهو راكب فلا يقول لاحد ناولنيه حتى ينزل فياخذه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال الناس اموالهم تكثرا فانما يسال جمر جهنم فليستقل منه او ليكثر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ۱؎۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن حكيم بن جبير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال وله ما يغنيه جاءت مسالته يوم القيامة خدوشا او خموشا او كدوحا في وجهه " . قيل يا رسول الله وما يغنيه قال " خمسون درهما او قيمتها من الذهب " . فقال رجل لسفيان ان شعبة لا يحدث عن حكيم بن جبير . فقال سفيان قد حدثناه زبيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، ( تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے ) یا وہ جو مقروض ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحل الصدقة لغني الا لخمسة لعامل عليها او لغاز في سبيل الله او لغني اشتراها بماله او فقير تصدق عليه فاهداها لغني او غارم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے ۱؎۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن سعيد بن يسار، . انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصدق احد بصدقة من طيب ولا يقبل الله الا الطيب الا اخذها الرحمن بيمينه وان كانت تمرة فتربو في كف الرحمن حتى تكون اعظم من الجبل ويربيها له كما يربي احدكم فلوه او فصيله