Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں ایک «مسنة» لوں، اور ۳۰ تیس گائے میں ایک «تبیع» یا «تبیعہ» لوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يحيى بن عيسى الرملي، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن معاذ بن جبل، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن وامرني ان اخذ من البقر من كل اربعين مسنة ومن كل ثلاثين تبيعا او تبيعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس گائے میں ایک «تبیع» یا ایک «تبیعہ» اور چالیس میں ایک«مسنة» ہے
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن خصيف، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " في ثلاثين من البقر تبيع او تبيعة وفي اربعين مسنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
حدثنا بكر بن خلف، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اقراني سالم كتابا كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصدقات قبل ان يتوفاه الله فوجدت فيه " في اربعين شاة شاة الى عشرين وماية فاذا زادت واحدة ففيها شاتان الى مايتين فاذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه الى ثلاثماية فاذا كثرت ففي كل ماية شاة " . ووجدت فيه " لا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع " . ووجدت فيه " لا يوخذ في الصدقة تيس ولا هرمة ولا ذات عوار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی ۱؎۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثنا محمد بن الفضل، حدثنا ابن المبارك، عن اسامة بن زيد، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " توخذ صدقات المسلمين على مياههم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن عثمان بن حكيم الاودي، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يزيد بن عبد الرحمن، عن ابي هند، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم " في اربعين شاة شاة الى عشرين وماية فاذا زادت واحدة ففيها شاتان الى مايتين فاذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه الى ثلاثماية فاذا زادت ففي كل ماية شاة لا يفرق بين مجتمع ولا يجمع بين متفرق خشية الصدقة وكل خليطين يتراجعان بالسوية وليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الا ان يشاء المصدق
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المعتدي في الصدقة كمانعها
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آ جائے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، ومحمد بن فضيل، ويونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع الى بيته
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا ؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں ( ہاں، میں نے سنا ہے ) ۔
حدثنا عمرو بن سواد المصري، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، ان موسى بن جبير، حدثه ان عبد الله بن عبد الرحمن بن الحباب الانصاري حدثه ان عبد الله بن انيس حدثه انه، تذاكر هو وعمر بن الخطاب يوما الصدقة فقال عمر الم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يذكر غلول الصدقة " انه من غل منها بعيرا او شاة اتي به يوم القيامة يحمله " . قال فقال عبد الله بن انيس بلى
عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثنا ابو عتاب، حدثني ابراهيم بن عطاء، مولى عمران حدثني ابي ان عمران بن الحصين، استعمل على الصدقة فلما رجع قيل له اين المال قال وللمال ارسلتني اخذناه من حيث كنا ناخذه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضعناه حيث كنا نضعه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں، غلام اور لونڈیوں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تجوزت لكم عن صدقة الخيل والرقيق
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور فرمایا: ( زکاۃ میں ) غلہ میں سے غلہ، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ، اور گایوں میں سے گائے لو ۔
حدثنا عمرو بن سواد المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني سليمان بن بلال، عن شريك بن ابي نمر، عن عطاء بن يسار، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه الى اليمن وقال له " خذ الحب من الحب والشاة من الغنم والبعير من الابل والبقرة من البقر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن عبيد الله، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال انما سن رسول الله صلى الله عليه وسلم الزكاة في هذه الخمسة في الحنطة والشعير والتمر والزبيب والذرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن موسى ابو موسى الانصاري، حدثنا عاصم بن عبد العزيز بن عاصم، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد بن ابي ذباب، عن سليمان بن يسار، وعن بسر بن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فيما سقت السماء والعيون العشر وفيما سقي بالنضح نصف العشر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو غلہ اور پھل بارش، نہر، چشمہ یا زمین کی تری ( سیرابی ) سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے جانوروں کے ذریعہ سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔
حدثنا هارون بن سعيد المصري ابو جعفر، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " فيما سقت السماء والانهار والعيون او كان بعلا العشر وفيما سقي بالسواني نصف العشر
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «بعل»، «عثری» اور «عذی» وہ زراعت ( کھیتی ) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور «عثری» اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور «بعل» وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور «سیل» کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور «غیل» کہتے ہیں چھوٹے «سیل» کو ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي بن عفان، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم بن ابي النجود، عن ابي وايل، عن مسروق، عن معاذ بن جبل، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن وامرني ان اخذ مما سقت السماء او سقي بعلا العشر وما سقي بالدوالي نصف العشر . قال يحيى بن ادم البعل والعثري والعذى هو الذي يسقى بماء السماء . والعثري ما يزرع للسحاب وللمطر خاصة ليس يصيبه الا ماء المطر . والبعل ما كان من الكروم قد ذهبت عروقه في الارض الى الماء فلا يحتاج الى السقى الخمس سنين او الست يحتمل ترك السقى فهذا البعل . والسيل ماء الوادي اذا سال . والغيل سيل دون سيل
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، والزبير بن بكار، قالا حدثنا ابن نافع، حدثنا محمد بن صالح التمار، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن عتاب بن اسيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث على الناس من يخرص عليهم كرومهم وثمارهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ «خرص» کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ۱؎۔
حدثنا موسى بن مروان الرقي، حدثنا عمر بن ايوب، عن جعفر بن برقان، عن ميمون بن مهران، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر اشترط عليهم ان له الارض وكل صفراء وبيضاء . يعني الذهب والفضة . وقال له اهل خيبر نحن اعلم بالارض فاعطناها على ان نعملها ويكون لنا نصف الثمرة ولكم نصفها . فزعم انه اعطاهم على ذلك فلما كان حين يصرم النخل بعث اليهم ابن رواحة فحزر النخل وهو الذي يدعونه اهل المدينة الخرص فقال في ذا كذا وكذا . فقالوا اكثرت علينا يا ابن رواحة . فقال فانا احزر النخل واعطيكم نصف الذي قلت . قال فقالوا هذا الحق وبه تقوم السماء والارض . فقالوا قد رضينا ان ناخذ بالذي قلت
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن ابي عريب، عن كثير بن مرة الحضرمي، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد علق رجل قناء او قنوا وبيده عصا فجعل يطعن بذلك يدقدق في ذلك القنو ويقول " لو شاء رب هذه الصدقة تصدق باطيب منها ان رب هذه الصدقة ياكل الحشف يوم القيامة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ: «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ( سورة التوبة: 267 ) انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے ( صدقے کے طور پر ) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، حدثنا اسباط بن نصر، عن السدي، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، في قوله سبحانه {ومما اخرجنا لكم من الارض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون} . قال نزلت في الانصار كانت الانصار تخرج اذا كان جداد النخل من حيطانها اقناء البسر فيعلقونه على حبل بين اسطوانتين في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فياكل منه فقراء المهاجرين فيعمد احدهم فيدخل قنو الحشف يظن انه جايز في كثرة ما يوضع من الاقناء فنزل فيمن فعل ذلك {ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون} . يقول لا تعمدوا للحشف منه تنفقون . {ولستم باخذيه الا ان تغمضوا فيه } يقول لو اهدي لكم ما قبلتموه الا على استحياء من صاحبه غيظا انه بعث اليكم ما لم يكن لكم فيه حاجة واعلموا ان الله غني عن صدقاتكم