Loading...

Loading...
کتب
۶۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فرمایا: تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات و دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جائیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا ۱؎ ( بلکہ زکاۃ میں اوسط مال لینا ) ، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۲؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا زكريا بن اسحاق المكي، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن فقال " انك تاتي قوما اهل كتاب فادعهم الى شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم صدقة في اموالهم توخذ من اغنيايهم فترد في فقرايهم فان هم اطاعوا لذلك فاياك وكرايم اموالهم واتق دعوة المظلوم فانها ليس بينها وبين الله حجاب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ( کچھ ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، ( فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے ) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لیے جس ( مال ) میں انہوں نے بخیلی کی ہے، وہی قیامت کے دن ان ( کے گلے ) کا طوق ہوا چاہتا ہے، اور آسمانوں اور زمین کا وارث ( آخر ) اللہ تعالیٰ ہی ہو گا، اور جو تم کرتے ہو ( سخاوت یا بخیلی ) اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے ( سورۃ آل عمران: ۱۸۰ ) ۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن اعين، وجامع بن ابي راشد، سمعا شقيق بن سلمة، يخبر عن عبد الله بن مسعود، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من احد لا يودي زكاة ماله الا مثل له يوم القيامة شجاعا اقرع حتى يطوق عنقه " . ثم قرا علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مصداقه من كتاب الله تعالى (ولا يحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله} الاية
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اونٹ، بکری اور گائے والا اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو اس کے جانور قیامت کے دن اس سے بہت بڑے اور موٹے بن کر آئیں گے جتنے وہ تھے، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، جب اخیر تک سب جا نور ایسا کر چکیں گے تو پھر باربار تمام جانور ایسا ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من صاحب ابل ولا غنم ولا بقر لا يودي زكاتها الا جاءت يوم القيامة اعظم ما كانت واسمنه تنطحه بقرونها وتطوه باخفافها كلما نفدت اخراها عادت عليه اولاها . حتى يقضى بين الناس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ۱؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تاتي الابل التي لم تعط الحق منها تطا صاحبها باخفافها وتاتي البقر والغنم تطا صاحبها باظلافها وتنطحه بقرونها وياتي الكنز شجاعا اقرع فيلقى صاحبه يوم القيامة فيفر منه صاحبه مرتين ثم يستقبله فيفر صاحبه فيقول مالي ولك . فيقول انا كنزك انا كنزك . فيتقيه بيده فيلقمها
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی ( دیہاتی ) ملا، اور آیت کریمہ: «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» ( سورة التوبة: 34 ) جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن سواد المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن ابن لهيعة، عن عقيل، عن ابن شهاب، حدثني خالد بن اسلم، مولى عمر بن الخطاب قال خرجت مع عبد الله بن عمر فلحقه اعرابي فقال له قول الله {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله} قال له ابن عمر من كنزها فلم يود زكاتها فويل له انما كان هذا قبل ان تنزل الزكاة فلما انزلت جعلها الله طهورا للاموال . ثم التفت فقال ما ابالي لو كان لي احد ذهبا اعلم عدده وازكيه واعمل فيه بطاعة الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر تھا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الملك، حدثنا موسى بن اعين، حدثنا عمرو بن الحارث، عن دراج ابي السمح، عن ابن حجيرة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، عن شريك، عن ابي حمزة، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، انها سمعته - تعني النبي، صلى الله عليه وسلم - يقول " ليس في المال حق سوى الزكاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے، لیکن نقد پیسوں میں سے چالیسواں حصہ دو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم کے حساب سے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني قد عفوت لكم عن صدقة الخيل والرقيق ولكن هاتوا ربع العشور من كل اربعين درهما درهما
عبداللہ بن عمر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیس دینار یا اس سے زیادہ میں آدھا دینار لیتے تھے، اور چالیس دینار میں ایک دینار کے حساب سے لیتے تھے۔
حدثنا بكر بن خلف، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا ابراهيم بن اسماعيل، عن عبد الله بن واقد، عن ابن عمر، وعايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياخذ من كل عشرين دينارا فصاعدا نصف دينار ومن الاربعين دينارا دينارا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا شجاع بن الوليد، حدثنا حارثة بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثني الوليد بن كثير، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن يحيى بن عمارة، وعباد بن تميم، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا صدقة فيما دون خمسة اوساق من التمر ولا فيما دون خمس اواق ولا فيما دون خمس من الابل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم اناج یا میوہ میں زکاۃ نہیں ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمس اواق صدقة وليس فيما دون خمسة اوساق صدقة
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن حجاج بن دينار، عن الحكم، عن حجية بن عدي، عن علي بن ابي طالب، ان العباس، سال النبي صلى الله عليه وسلم في تعجيل صدقته قبل ان تحل فرخص له في ذلك
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتاه الرجل بصدقة ماله صلى عليه فاتيته بصدقة مالي فقال " اللهم صل على ال ابي اوفى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم زکاۃ دو اس کا ثواب نہ بھول جاؤ، بلکہ یوں کہو: «اللهم اجعلها مغنما ولا تجعلها مغرما» اے اللہ! تو اسے ہمارے لیے مال غنیمت بنا دے، اسے تاوان نہ بنا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا الوليد بن مسلم، عن البختري بن عبيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعطيتم الزكاة فلا تنسوا ثوابها ان تقولوا اللهم اجعلها مغنما ولا تجعلها مغرما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھوائی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے بیان میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے یہ لکھا پایا: پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور دس اونٹ میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ اونٹ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس اونٹ میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس سے پینتیس اونٹوں تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون ۲؎ ہے، اور اگر پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ۳؎ ہے، اور اگر ۴۵ سے بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ۴؎ ہے، اور اگر ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ۷۵ تک ایک جذعہ ۵؎، اور اگر ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں، اور اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقے ہیں، اور اگر ۱۲۰ سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اقراني سالم كتابا كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصدقات قبل ان يتوفاه الله فوجدت فيه " في خمس من الابل شاة وفي عشر شاتان وفي خمس عشرة ثلاث شياه وفي عشرين اربع شياه وفي خمس وعشرين بنت مخاض الى خمس وثلاثين فان لم توجد بنت مخاض فابن لبون ذكر فان زادت على خمس وثلاثين واحدة ففيها بنت لبون الى خمسة واربعين فان زادت على خمس واربعين واحدة ففيها حقة الى ستين فان زادت على ستين واحدة ففيها جذعة الى خمس وسبعين فان زادت على خمس وسبعين واحدة ففيها ابنتا لبون الى تسعين فان زادت على تسعين واحدة ففيها حقتان الى عشرين وماية فاذا كثرت ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور چار میں کچھ نہیں ہے، جب پانچ اونٹ ہو جائیں تو نو تک ایک بکری ہے، جب دس ہو جائیں تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، اور جب پندرہ ہو جائیں تو ۱۹ تک تین بکریاں ہیں، اور جب بیس ہو جائیں تو ۲۴ تک چار بکریاں ہیں، اور جب پچیس ہو جائیں تو ۳۵ تک بنت مخاض ( ایک سال کی اونٹنی ) ہے، اور اگر ایک سال کی اونٹنی نہ ہو تو ایک ابن لبون ( دو سال کا ایک اونٹ ) ہے، اور اگر ۳۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ( دو سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۴۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک حقہ ( تین سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۶۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۷۵ تک جذعہ ( چار سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۷۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۹۰ تک دو بنت لبون ( دو سال کی دو اونٹنیاں ) ہیں، اور اگر ۹۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقہ ( تین سال کی دو اونٹنیاں ) ہیں، پھر ہر پچاس میں ایک حقہ ( تین سال کی ایک اونٹنی ) ، اور ہر چالیس میں بنت لبون ( دو سال کی ایک اونٹنی ) ہے ۔
حدثنا محمد بن عقيل بن خويلد النيسابوري، حدثنا حفص بن عبد الله السلمي، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن عمرو بن يحيى بن عمارة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس من الابل صدقة وليس في الاربع شىء فاذا بلغت خمسا ففيها شاة الى ان تبلغ تسعا فاذا بلغت عشرا ففيها شاتان الى ان تبلغ اربع عشرة فاذا بلغت خمس عشرة ففيها ثلاث شياه الى ان تبلغ تسع عشرة فاذا بلغت عشرين ففيها اربع شياه الى ان تبلغ اربعا وعشرين فاذا بلغت خمسا وعشرين ففيها بنت مخاض الى خمس وثلاثين فاذا لم تكن بنت مخاض فابن لبون ذكر فان زادت بعيرا ففيها بنت لبون الى ان تبلغ خمسا واربعين فان زادت بعيرا ففيها حقة الى ان تبلغ ستين فان زادت بعيرا ففيها جذعة الى ان تبلغ خمسا وسبعين فان زادت بعيرا ففيها بنتا لبون الى ان تبلغ تسعين فان زادت بعيرا ففيها حقتان الى ان تبلغ عشرين وماية ثم في كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: «بسم الله الرحمن الرحيم» یہ فریضہ زکاۃ کا نصاب ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کا حکم دیا، زکاۃ کے اونٹوں کی مقررہ عمروں میں کمی بیشی کی تلافی اس طرح ہو گی کہ جس کو زکاۃ میں جذعہ ( ۴ چار سال کی اونٹنی ) ادا کرنی ہو جو اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ ( تین سالہ اونٹنی ) ہو تو وہی لے لی جائے گی، اور کمی کے بدلے دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اس کے پاس ہوں، ورنہ بیس درہم لیا جائے گا، اور جس شخص کو حقہ بطور زکاۃ ادا کرنا ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون قبول کر لی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لیا جائے گا، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جسے زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ بنت مخاض ہو تو اس سے بنت مخاض لی جائے گی، اور ساتھ میں زکاۃ دینے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت مخاض ادا کرنی ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون لے لی جائے گی، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا، اور جس کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی لے لیا جائے گا، اور اس کو اس کے ساتھ کچھ اور نہ دینا ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن يحيى، ومحمد بن مرزوق، قالوا حدثنا محمد بن عبد الله بن المثنى، حدثني ابي، عن ثمامة، حدثني انس بن مالك، ان ابا بكر الصديق، كتب له بسم الله الرحمن الرحيم . هذه فريضة الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين التي امر الله بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فان من اسنان الابل في فرايض الغنم من بلغت عنده من الابل صدقة الجذعة وليس عنده جذعة وعنده حقة فانها تقبل منه الحقة ويجعل مكانها شاتين ان استيسرتا او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الا بنت لبون فانها تقبل منه بنت لبون ويعطي معها شاتين او عشرين درهما ومن بلغت صدقته بنت لبون وليست عنده وعنده حقة فانها تقبل منه الحقة ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت صدقته بنت لبون وليست عنده وعنده بنت مخاض فانها تقبل منه ابنة مخاض ويعطي معها عشرين درهما او شاتين . ومن بلغت صدقته بنت مخاض وليست عنده وعنده ابنة لبون فانها تقبل منه بنت لبون ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين فمن لم يكن عنده ابنة مخاض على وجهها وعنده ابن لبون ذكر فانه يقبل منه وليس معه شىء
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق ( عہد نامہ ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شريك، عن عثمان الثقفي، عن ابي ليلى الكندي، عن سويد بن غفلة، قال جاءنا مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فاخذت بيده وقرات في عهده لا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة . فاتاه رجل بناقة عظيمة ململمة فابى ان ياخذها فاتاه باخرى دونها فاخذها وقال اى ارض تقلني واى سماء تظلني اذا اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اخذت خيار ابل رجل مسلم
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن جابر، عن عامر، عن جرير بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرجع المصدق الا عن رضا