Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شعبة، عن مسعر، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نقرا في الظهر والعصر خلف الامام في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورة وفي الاخريين بفاتحة الكتاب
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک یاد رکھا ہے۔ سعید نے کہا: ہم نے قتادہ سے پوچھا: وہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک تو وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قراءت فاتحہ سے فارغ ہوتے۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا: دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ پسند تھا کہ جب امام قراءت سے فارغ ہو جائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آ جائے۔
حدثنا جميل بن الحسن بن جميل العتكي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال سكتتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانكر ذلك عمران بن الحصين فكتبنا الى ابى بن كعب بالمدينة فكتب ان سمرة قد حفظ . قال سعيد فقلنا لقتادة ما هاتان السكتتان قال اذا دخل في صلاته واذا فرغ من القراءة . ثم قال بعد واذا قرا {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} . قال وكان يعجبهم اذا فرغ من القراءة ان يسكت حتى يتراد اليه نفسه
حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
حدثنا محمد بن خالد بن خداش، وعلي بن الحسين بن اشكاب، قالا حدثنا اسماعيل ابن علية، عن يونس، عن الحسن، قال قال سمرة حفظت سكتتين في الصلاة سكتة قبل القراءة وسكتة عند الركوع . فانكر ذلك عليه عمران بن الحصين فكتبوا الى المدينة الى ابى بن كعب فصدق سمرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی«ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ۱؎، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا قرا فانصتوا واذا قال {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} فقولوا امين واذا ركع فاركعوا واذا قال سمع الله لمن حمده . فقولوا اللهم ربنا ولك الحمد واذا سجد فاسجدوا واذا صلى جالسا فصلوا جلوسا اجمعين
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام جہری قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک پہلے «التحيات» پڑھے ۱؎۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان، حدثنا جرير، عن سليمان التيمي، عن قتادة، عن ابي غلاب، عن حطان بن عبد الله الرقاشي، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قرا الامام فانصتوا فاذا كان عند القعدة فليكن اول ذكر احدكم التشهد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی، ( ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی ) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟ ، ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت ( کھینچا تانی ) کر رہا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابن اكيمة، قال سمعت ابا هريرة، يقول صلى النبي صلى الله عليه وسلم باصحابه صلاة نظن انها الصبح فقال " هل قرا منكم من احد " . قال رجل انا . قال " اني اقول ما لي انازع القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۱؎۔
حدثنا جميل بن الحسن، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابن اكيمة، عن ابي هريرة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه وزاد فيه قال فسكتوا بعد فيما جهر فيه الامام
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الحسن بن صالح، عن جابر، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان له امام فان قراءة الامام له قراءة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن القاري فامنوا فان الملايكة تومن فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام ( آمین ) کہے تو تم بھی آمین کہو ۱؎، اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا بكر بن خلف، وجميل بن الحسن، قالا حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، ح وحدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، وهاشم بن القاسم الحراني، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، عن يونس، جميعا عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا امن القاري فامنوا فمن وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتے تو آمین کہتے، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا بشر بن رافع، عن ابي عبد الله ابن عم ابي هريرة، عن ابي هريرة، قال ترك الناس التامين وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قال " {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} " . قال " امين " . حتى يسمعها اهل الصف الاول فيرتج بها المسجد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ولا الضالين» کہتے تو «آمین» کہتے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، حدثنا ابن ابي ليلى، عن سلمة بن كهيل، عن حجية بن عدي، عن علي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قال {ولا الضالين} قال " امين
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے «ولا الضالين» کہا، تو اس کے بعد آمین کہا، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا۔
حدثنا محمد بن الصباح، وعمار بن خالد الواسطي، قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فلما قال {ولا الضالين} . قال " امين " . فسمعناها منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا سلام کرنے، اور آمین کہنے پر حسد کیا ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما حسدتكم اليهود على شىء ما حسدتكم على السلام والتامين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا «آمین» کہنے پر کیا، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو ۔
حدثنا العباس بن الوليد الخلال الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، وابو مسهر قالا حدثنا خالد بن يزيد بن صالح بن صبيح المري، حدثنا طلحة بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما حسدتكم اليهود على شىء ما حسدتكم على امين فاكثروا من قول امين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے مقابل لے جاتے، اور جب رکوع میں جاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، ( تو بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے رفع یدین کرتے ) اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ہاتھ نہ اٹھاتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وهشام بن عمار، وابو عمر الضرير قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة، رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، واذا ركع، واذا رفع راسه من الركوع. ولا يرفع بين السجدتين
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے قریب تک اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا هشام، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا كبر رفع يديه حتى يجعلهما قريبا من اذنيه، واذا ركع صنع مثل ذلك، واذا رفع راسه من الركوع، صنع مثل ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دونوں ہاتھ نماز میں مونڈھوں ( کندھوں ) کے بالمقابل اٹھاتے جس وقت نماز شروع کرتے، جس وقت رکوع کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جس وقت سجدہ کرتے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، عن صالح بن كيسان، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه في الصلاة حذو منكبيه حين يفتتح الصلاة، وحين يركع، وحين يسجد
عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر کے ساتھ فرض نماز میں اٹھاتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا رفدة بن قضاعة الغساني، حدثنا الاوزاعي، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابيه، عن جده، عمير بن حبيب قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه مع كل تكبيرة في الصلاة المكتوبة
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی کو کہتے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کے بیچ میں تھے جن میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر «ألله أكبر» کہتے، اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب دو رکعت کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار: حدثنا يحيى بن سعيد: حدثنا عبد الحميد بن جعفر: حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي حميد الساعدي، قال سمعته، وهو في عشرة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، احدهم ابو قتادة بن ربعي قال انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام في الصلاة اعتدل قايما، ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ثم قال " الله اكبر " . واذا اراد ان يركع، رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، فاذا قال " سمع الله لمن حمده " . رفع يديه فاعتدل، فاذا قام من الثنتين، كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، كما صنع حين افتتح الصلاة